| 85934 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
بیع سلم میں جب ثمن ادا کر دیا جائے اور مبیع بعد میں ملے اور اس دوران اس چیز کی قیمت مارکیٹ میں کم یا زیادہ ہو جائے تو یہ Risk رب السلم ہی اٹھاتا ہے،حالاں کہ وہ چیز نہ اس کی ابھی ملکیت میں ہے اور نہ ہی قبضے میں ہے،فیوچر ٹریڈ بھی عقد سلم کی طرح ہے لہٰذا جائز ہونی چاہیے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ سؤال میں فیوچر ٹریڈ کو عقد سلم پر قیاس کرکے جائز قرار دیا گیا ہے،حالانکہ فیوچر ٹریڈ کو عقد سلم پر قیاس کرنا درست نہیں،وہ اس طرح کہ عقد سلم عام بیوعات سے مستثنی ہے،وہ اس طور پر کہ عقدسلم میں معدوم کی بیع کی جاتی ہے،اور معدوم کی بیع جائز نہیں ہے،لیکن شریعت نےعقد سلم کو چند شرائط کے ساتھ جائز قرار دیاہے،لہٰذا اگر وہ شرائط نہ پائی جائیں تو عقد سلم درست نہیں ہوتا۔فیوچر ٹریڈ اور عقد سلم میں دو اہم فرق ملاحظہ ہوں:
شریعت کی نظر میں خریدوفروخت کا عقد،ان عقود میں سے ہے ،جنہیں فوری طور پر مؤثر قرار دیاجانا ضروری ہے،یعنی مستقبل کی کسی تاریخ کی جانب منسوب کرنا درست نہیں،جبکہ فیوچر ٹریڈنگ میں عقد مستقبل کی کسی تاریخ کی جانب منسوب ہوتا ہے۔
شرعی نقطہ نظر سے فیوچر ٹریڈنگ کے ناجائز ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عقد بیع(sale contract)میں خواہ عقد سلم ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور ہو،عوضین(subject matter & price)میں سے ہر ایک کا مؤجل (deferred) ہونا جائز نہیں،جبکہ فیوچر ٹریڈنگ میں عوضین میں سے ہر ایک مؤجل ہوتے ہیں۔
حوالہ جات
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۰۷.جمادی الآخرۃ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


