03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق اور خلع کا حکم
85835طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

میری بیوی مجھ سے خلع مانگ رہی تھی اور میں اس بات پر راضی ہو گیا کہ ٹھیک ہے میں تمہیں خلع دے دیتا ہوں پھر انہوں نے پیپر بنوایا خلع کے، جس میں خلع کی جگہ لفظ طلاق لکھا ہوا تھا انہوں نے کہا کہ سرکاری طور پر اسے طلاق ہی سمجھا جاتا ہے لیکن خیر میں نے وہ لفظ طلاق مٹا کر خلع کر دیا پیپر میں اور اس پر تین سائن کر لیے۔ اور میں نے کہیں سنا تھا کہ اس طرح سائن کرنے کے بعد تمہیں طلاق بھی دینی ہوگی ایک، کیونکہ صرف سائن کرنے سے طلاق یا خلع نہیں ہوتی تو خیر یہ سائن کرنے کے بعد یعنی کہ اسی ٹائم ہی میں نے اسے ایک طلاق بھی دے دی یعنی سائن بھی کر لیے خلع کے پیپر پر اور ایک طلاق بھی دے دی اس کے بھائی کے سامنے۔ پھر تقریبا ایک ہفتے بعد اس کے بھائی نے مجھے کہا کہ کیا پتہ اگر تم کل اپنی بات سے منکر جاؤ تو اس لیے یہ طلاق تم چار پانچ گواہوں کے سامنے دو میں نے کہا چلو ٹھیک ہے تقریبا ہفتے بعد ہم دوبارہ ملے اور میں نے چار پانچ گواہوں کے سامنے اپنی بیوی کو دوبارہ طلاق دی۔ یعنی پہلے میں نے سائن کیے خلع کے پیپر پر اور میں نے یہ مسئلہ سنا تھا کہ صرف خلع پیپر کے سائن کرنے سے طلاق نہیں ہوتی تمہیں اپنے منہ سے کہنا بھی پڑے گا تو اس لیے میں نے کہہ بھی دیا کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں اور اسی طرح ایک ہفتے بعد دوبارہ بھی میں نے ایک بار پھر طلاق دی۔ لیکن اب ہم دوبارہ سے ملنا چاہتے ہیں، لیکن ہمارے اس طلاق یا خلع کو ایک سال سے زیادہ ہو گیا تو پوچھنا یہ ہے کہ کیا میری تینوں طلاقیں ہو گئی ہیں یا صرف دو طلاق ہوئی ہیں یا صرف خلع ہوا ہے طلاق ایک بھی نہیں ہوئے۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں شکریہ

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ تفصیل کے مطابق جب  خلع کےکاغذات پر دستخط کیے تو اس سے ایک طلاق واقع ہوگئی تھی ،اس کے بعد زبانی ایک صریح  طلاق دی ،اس سے دوسری طلاق واقع ہوگئی اور ایک ہفتے بعد گواہوں کے سامنے  تیسری طلاق  دی،  اس صورت میں تین طلاق واقع  ہوگئے ہیں   ۔ اب نہ رجوع ہو سکتا  ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے ،البتہ اگر بیوی کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور ازدواجی تعلق قائم کرنے کےبعد طلاق ہوجائے یا شوہر فوت ہوجائے تو عدت گزارنے کے بعد آپ  اس کے ساتھ نکاح کرسکتے ہیں۔

حوالہ جات

قال العلامة ابن عابدین  رحمه الله: فقوله: خلعتك بلا ذكر مال لا يسمى خلعا شرعا بل هو طلاق بائن غير متوقف على قبولها، بخلاف ما إذا ذكر معه المال بلفظ المفاعلة، أو الأمر فإنه لا بد من قبولها ،كما مر؛ لأنه معاوضة من جانبها كما يأتي.(رد المحتار :3/440)

و قال أیضا : وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول، بخلاف ما إذا قال خالعتك ولم يذكر العوض ونوى الطلاق فإنه يقع وإن لم تقبل لأنه طلاق بلا عوض فلا يفتقر إلى القبول اهـ. (رد المحتار :3/441)

قال العلامة ابن عابدین  رحمه الله: قوله:( ومحله المنكوحة) أي ولو معتدة عن طلاق رجعي أو بائن غير ثلاث في حرة وثنتين في أمة أو عن فسخ بتفريق لإباء أحدهما عن الإسلام أو بارتداد أحدهما. (ردالمحتار:3/230)

محمد یونس بن امین اللہ 

دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی

8‏ جمادى الأخری‏، 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد یونس بن امين اللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب