| 85866 | دعوی گواہی کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
(1)۔۔۔ اگر ہمارا یا ہمارے والد صاحب کا ہمارے تایا جان پر قرض ہو تو ہم وہ قرض تایا جان کے بیٹوں سے مانگ سکتے ہیں یا نہیں؟
(2)۔۔۔ ہمارے والد صاحب نے ہمارے تایا کو کچھ قرض دیا تھا، اب تایا جان اور والد صاحب دونوں کا انتقال ہوچکا ہے، ہم تایا جان کی اولاد سے اس رقم کا مطالبہ کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ان کا آپس میں لین دین چلتا تھا، لیکن آپ گواہ لے کر آجائیں تو ہم آپ کو رقم دیدیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اگر قرض یقینی ہو، لیکن گواہ نہ ہوں تو کیا حکم ہوگا؟ اور اگر قرض نہ ہو تو کیا حکم ہوگا؟
(3)۔۔۔ ہمارے ایک چچا کا انتقال ہوا تو ان کی بیوہ کو چچا مرحوم کی میراث میں ان کے حصے کے بدلے ہمارے والد صاحب نے ایک لاکھ پچاس ہزار (150,000) روپے دئیے، جبکہ اس وقت ہمارے ایک تایا بھی تھے، میرے والد صاحب اور تایا جان دونوں فوت ہو چکے ہیں۔ اب ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ہمارے تایا کے بیٹے ہمیں اس میں سے آدھی رقم دیں تو چچا کی بیوہ کا حصہ (جس کے عوض ان کو رقم دی گئی تھی) ہم آدھا آدھا کرلیں گے، جبکہ ان کا کہنا ہے کہ رقم صرف آپ کے والد نے نہیں دی تھی، بلکہ آدھی آپ کے والد نے اور آدھی ہمارے والد نے دی تھی۔ گواہ یا کوئی ثبوت کسی کے پاس نہیں ہے۔ اس صورت میں کس کی بات کا اعتبار ہوگا اور فیصلہ کیسے ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(1)۔۔۔ اگر آپ کے تایا جان نے ترکہ اور میراث چھوڑی ہے تو آپ اپنے تایا کے ورثا سے اپنے قرض کا مطالبہ کرسکتے ہیں، ان پر لازم ہے کہ ترکہ تقسیم کرنے سے پہلے وہ قرض ادا کریں۔ لیکن اگر انہوں نے میراث میں کچھ نہیں چھوڑا تو پھر ان کے ورثا پر ان کا قرض ادا کرنا لازم نہیں، لہٰذا اس صورت میں آپ ان سے مطالبہ نہیں کرسکتے، البتہ وہ اپنی خوشی سے قرض ادا کرنا چاہیں تو یہ مرحوم کے ساتھ ان کا احسان ہوگا۔
(3-2)۔۔۔ اگر آپ کے پاس اپنے دونوں دعوؤں پر کم از کم دو گواہ یا کوئی معتبر تحریری دستاویز موجود ہو تو اس کے مطابق فیصلہ ہوگا اور آپ کی بات درست مانی جائے گی، لیکن اگر آپ کے پاس نہ گواہ ہوں، نہ ہی کوئی معتبر دستاویز تو پھر آپ کے تایا کے ورثا سے قسم کا مطالبہ ہوگا کہ وہ اس بات پر قسم اٹھالیں کہ ان کے علم کے مطابق آپ کے والد صاحب کا ان پر کوئی قرضہ نہیں تھا اور ان کے علم کے مطابق آپ کے مرحوم چچا کی بیوہ کو اس کا حصہ صرف آپ کے والد صاحب نے نہیں دیا تھا، اگر وہ اس طرح اپنے علم کے مطابق قسم اٹھالیں تو ان کے حق میں فیصلہ ہوگا اور آپ کا دعویٰ غیر معتبر ہوگا، اور اگر وہ اس طرح قسم اٹھانے سے انکار کریں تو پھر آپ کا دعویٰ درست مانا جائے گا۔
واضح رہے کہ یہ ظاہری طور پر جھگڑا ختم کرنے اور فیصلہ کرنے کا ضابطہ ہے، جہاں تک حقیقت کا تعلق ہے تو اگر آپ کے والد صاحب کا آپ کے تایا پر قرض نہیں تھا یا قرض تھا، لیکن تایا نے ادا کردیا تھا تو پھر گواہ پیش کرنے کے باوجود آپ کے لیے تایا کے ورثا سے رقم لینا جائز نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر آپ کے والد صاحب کا حقیقت میں ان پر قرض تھا، لیکن آپ کے پاس گواہ نہ ہوں اور آپ کے تایا کے ورثا باوجود علم کے اس کا اقرار نہ کریں، بلکہ علم نہ ہونے پر قسم اٹھالیں تو فیصلہ اگرچہ ان کے حق میں ہوگا، لیکن ان کے لیے وہ حق ادا نہ کرنا جائز نہیں ہوگا، عند اللہ وہ گناہ گار ہوں گے۔
حوالہ جات
المجلة (ص: 355-352):
مادة 1736: لايعمل بالخط والختم فقط، ولكن إذا كان سالما عن شبهة التزوير والتصنيع فيكون معمولا به، يعني يكون مدرارا للحكم، لا يحتاج إلى الثبوت بوجه آخر.
مادة 1748: إذا حلف أحد على فعله فيحلف على البتات، يعني يحلف على القطع بأن هذا الشيء هكذا أو ليس بكذا، وإذا حلف على فعل الغير فيحلف على عدم العلم، يعني يحلف على عدم علمه بذلك الشيء.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
11/جمادی الآخرة/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


