03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاقوں کا حکم
85846طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

شوہر نے بیوی کو مندرجہ ذیل الفاظ سے طلاق دی اور وہ اس بات کا اقرار بھی کرتا ہے کہ اس نے طلاق کے الفاظ تین مرتبہ ہی کہے ہیں اور لڑکی کا کہنا ہے کہ اس نے یہ الفاظ  خودسنے ہیں۔

یاد رہے دونوں کے درمیان بحث ہوئی جس پر شوہر نے غصے میں یہ الفاظ کہے: طلاق،طلاق،طلاق۔

پھر اسی وقت کسی بات پر کہتا ہے:مجھ سے ایسے بات کرتی ہے،جا،تجھے طلاق دی،طلاق دی،طلاق دی،یا پھر یہ الفاظ بولے:طلاق دی،طلاق،طلاق۔

بہر صورت تین مرتبہ طلاق کے الفاظ بولے ہیں،کیا طلاق ہوگئی؟یا کوئی گنجائش موجود ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق واقع ہونے کے لیے الفاظ میں بیوی کی طرف صریح نسبت ضروری نہیں،بلکہ معنوی طور پر نسبت بھی کافی ہے ، معنوی نسبت کا مطلب یہ ہے کہ شوہر کے الفاظ میں خطاب کی ضمیر کے ساتھ بیوی کی طرف لفظوں میں طلاق کی صریح نسبت موجود نہ ہو،بلکہ اسم ظاہر،خطاب کے علاوہ دیگر ضمائر یا صرف اسم اشارہ کے ذریعے بیوی کی طرف طلاق کی نسبت ہو، مثلا زینب کو طلاق،میری بیوی کو طلاق،یا بیوی کی طرف اشارہ کرکے کہے:اسے طلاق ،یا ان کے علاوہ دیگر  ایسے قرائن موجود ہوں جن سے معلوم ہورہا ہو کہ یہ بیوی کو ہی طلاق دے رہا ہے،اضافت معنویہ کے کئی قرائن ہیں جن میں ایک تخاطب بھی ہے،یعنی شوہر بیوی کو مخاطب کرکے کہے:طلاق ہے،یاصرف طلاق،طلاق،طلاق کہے۔

چونکہ مذکورہ صورت میں شوہر نے بیوی کو مخاطب کرکے تین بار طلاق کے الفاظ بولے ہیں ،اس لئے مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،جس کے بعد اب موجودہ حالت میں آپ دونوں کے دوبارہ نکاح بھی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (3/ 247):

"باب الصريح (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) بالتشديد قيد بخطابها، لأنه لو قال: إن خرجت يقع الطلاق أو لا تخرجي إلا بإذني فإني حلفت بالطلاق فخرجت لم يقع لتركه الإضافة إليها".

قال ابن عابدین رحمہ اللہ ":(قوله: لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنها الشرط والخطاب من الإضافة المعنوية، وكذا الإشارة نحو هذه طالق، وكذا نحو امرأتي طالق وزينب طالق. اهـ.

{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ} [البقرة: 230]

"صفوة التفاسير" (1/ 131):

"{فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} أي فإن طلق الرجل المرأة ثالث مرة فلا تحل له بعد ذلك حتى تتزوج غيره وتطلق منه، بعد أن يذوق عسيلتها وتذوق عسيلته كما صرح به الحديث الشريف، وفي ذلك زجر عن طلاق المرأة ثلاثا لمن له رغبة في زوجته لأن كل شخص ذو مروءة يكره أن يفترش امرأته آخر .

{فإن طلقها فلا جناح عليهمآ أن يتراجعآ إن ظنآ أن يقيما حدود َﷲ} أي إن طلقها الزوج الثاني فلا بأس أن تعود إلى زوجها الأول بعد انقضاء العدة إن كان ثمة دلائل تشير إلى الوفاق وحسن العشرة".

"البحر الرائق " (3/ 257):                                                                                                                                                    

"ولا حاجة إلى الاشتغال بالأدلة على رد قول من أنكر وقوع الثلاث جملة لأنه مخالف للإجماع كما حكاه في المعراج ولذا قالوا: لو حكم حاكم بأن الثلاث بفم واحد واحدة لم ينفذ حكمه؛لأنه لا يسوغ فيه الاجتهاد لأنه خلاف لا اختلاف".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

11/جمادی الثانیہ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب