| 85851 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
سوال:میری بیوی مجھ سے خلع مانگ رہی تھی اور میں اس بات پر راضی ہو گیا کہ ٹھیک ہے میں تمہیں خلع دے دیتا ہوں، پھر انہوں نے خلع کےپیپر بنوائے ،جس میں خلع کی جگہ لفظ طلاق لکھا ہوا تھا، انہوں نے کہا کہ سرکاری طور پر اسے طلاق ہی سمجھا جاتا ہے، لیکن خیر، میں نے وہ لفظ طلاق مٹا کر پیپر میں خلع کر دیا ،اور اس پر تین سائن کر لیے۔
میں نے کہیں سنا تھا کہ اس طرح سائن کرنے کے بعد تمہیں ایک طلاق بھی دینی ہوگی، کیونکہ صرف دستخط کرنے سے طلاق یا خلع نہیں ہوتی، خیر دستخط کرنے کے بعد( یعنی ) اسی ٹائم ہی میں نے اسے ایک طلاق بھی دے دی یعنی خلع کے پیپر پر دستخط بھی کر لیے اور اس کے بھائی کے سامنے ایک طلاق بھی دے دی ۔
پھر تقریبا ایک ہفتے بعد اس کے بھائی نے مجھے کہا کہ کیا پتہ اگر تم کل اپنی بات سے مکر جاؤ تو اس لیے یہ طلاق تم چار پانچ گواہوں کے سامنے دو، میں نے کہا چلو ٹھیک ہے،تقریبا ہفتے بعد ہم دوبارہ ملے ، میں نے چار پانچ گواہوں کے سامنے اپنی بیوی کو دوبارہ طلاق دی۔
اب ہم دوبارہ سے ملنا چاہتے ہیں، لیکن ہمارے اس طلاق یا خلع کو ایک سال سے زیادہ ہو گیا تو پوچھنا یہ ہے کہ کیا میری تینوں طلاقیں ہو گئی ہیں یا صرف دو طلاقیں ہوئی ہیں یا صرف خلع ہوا ہے۔ طلاق ایک بھی نہیں ہوئی؟۔ برائے مہربانی راہنمائی فرمائیں شکریہ۔
تنقیح:ہم دونوں(میاں بیوی ) کا ارادہ شروع سے ہی خلع کا ہی تھا اور جس وقت میں نے پیپر پر سائن کرنے کے بعد زبان سے طلاق دی اس وقت بھی میرا ارادہ خلع کا ہی تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خلع شرعاطلاق بائن کےحکم میں ہوتاہے،اس لیےمذکورہ صورت میں خلع کےپیپرمیں جوتین دفعہ" خلع دیتاہوں"کےالفاظ ہیں،اس میں سےپہلےلفظ کی وجہ سےخلع ہوگااورطلاق بائن واقع ہوجائےگی،اورطلاق بائن کےبعددوسری طلاق بائن واقع نہیں ہوتی۔
خلع کےبعدجب شوہرنےالگ سےدودفعہ طلاق صریح کےالفاظ اداکیےتواگرسائل کی طرف سےوضاحت درست ہے(دوسری اورتیسری زبانی طلاق سےشوہرکی طرف سےوہی خلع والی (ایک طلاق بائن)مرادہے)تواس صورت میں صرف خلع والی ایک طلاق بائن واقع ہوگی،جس کےبعددوبارہ نکاح بھی ہوسکتاہے،لہذاصورت مسئولہ میں دوبارہ نکاح کیاجاسکتاہے۔
حوالہ جات
"المبسوط للسرخسی"171/6:
قال): وإذا اختلعت المرأة من زوجها فالخلع جائز، والخلع تطليقة بائنة عندنا۔
"الدر المختار"306/3:الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح۔
"الھندیۃ"526/1:
إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء سواء كانت الحرة مسلمة أو كتابية كذا في السراج الوهاج۔
"تنقيح الفتاوى الحامدية"1/264:(سئل)في رجل قال لزوجته روحي طالق وكررهاثلاثاناويابذلك جميعه واحدة وتأكيدا للأولى وزجرها وتخويفها وهو يحلف بالله العظيم أنه قصد ذلك لا غيره فهل يقع عليه بذلك واحدة رجعية ديانة حيث نواها فقط وله مراجعة زوجته في العدة بدون إذنها حيث لم يتقدم له عليها طلقتان ؟ ( الجواب ):لا يصدق في ذلك قضاء لأن القاضي مأمور باتباع الظاهر والله يتولى السرائر وإذا دار الأمر بين التأسيس والتأكيد تعين الحمل على التأسيس كما في الأشباه ويصدق ديانة أنه قصد التأكيد ويقع عليه بذلك طلقة واحدة رجعية ديانة حيث نواها فقط وله مراجعتها في العدة بدون إذنها حيث لم يتقدم له عليها طلقتان لأن روحي طالق رجعي كما في الفتاوى الخيرية والتمرتاشي وغيرهما وأما روحي فقط فإنه كناية إذ هو كاذهبي كما صرح به صاحب البحر لكن لا يصدق أنه قصدا لتأكيد إلا بيمينه لأن كل موضع كان القول فيه قوله إنما يصدق مع اليمين لأنه أمين في الإخبار عما في ضميره والقول قوله مع يمينه كما في الزيلعي وأفتى بذلك التمرتاشي ۔
وقال في الخانية لو قال أنت طالق أنت طالق أنت طالق وقال أردت به التكرار صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثا ۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
11/جمادی الثانیہ 1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


