03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلبہ سے غیر حاضری پر مالی جرمانہ لینے کا حکم
85878حدود و تعزیرات کا بیانتعزیر مالی کے احکام

سوال

سوال:میں پشاور کی یونیورسٹی میں پڑھتا ہوں ۔ہمارے امتحانات کے بعد ہم تمام کلاس فیلوز نے مل کر ایک ہفتہ اجتماعی طور پر چھٹی کی۔اس یونیورسٹی میں مختلف علاقوں کے طلبہ پڑھتے ہیں ۔جب چھٹی کے دو یا تین دن گزرے تب یونیورسٹی کی طرف سے نوٹیفکیشن آیا کہ آپ نے جو چھٹیاں کی ہیں اس پر ایک دن کا ہزار روپے جرمانہ لگے گا ۔یونیورسٹی والوں نے نوٹیفکیشن بعد میں جاری کیا جبکہ ہم گھر جا چکے تھے اور ہمارے لیے گھروں سے آنا  بہت مشکل تھا کیونکہ ہم میں سے بہت سے دور دراز کے طلبہ بھی ہیں جو اس یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا یونیورسٹی والوں کا غیر حاضری یا کسی اور حرکت پر جرمانہ لینا جائز ہے یا نہیں؟حالانکہ جرمانے کی اطلاع ہمیں بعد میں ملی تھی اور  ہم چھٹیاں پہلے کر چکے تھے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلبہ سے غیر حاضری یا کسی اور قانون یا ضابطے کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے مالی جرمانہ لینا  شرعاً جائز نہیں ۔البتہ طلبہ کو  قانون اور ضابطےکا پابند بنانے کے لیے ان  کی  اگلے سمسٹر کی فیس میں اضافہ کردیا جائے تو یہ ممکن ہے۔

حوالہ جات

         قال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی :قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال،وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز.وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا؛ لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه.قوله:( وفيه) :أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة ؛لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة ؛إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.( رد المحتار :4/ 61)

       وقال ابن نجیم رحمہ اللہ تعالی:وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة ؛لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه ،لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة؛ إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ،وأرى أن يأخذها فيمسكها،فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى...والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال.(البحر الرائق:5/ 44)

       وقال أصحاب الفتاوی الہندیۃ:وعند أبي يوسف رحمه الله تعالى  يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال،وعندهما وباقي الأئمة الثلاثة لا يجوز،كذا في فتح القدير.ومعنى ‌التعزير ‌بأخذ ‌المال على القول به إمساك شيء من ماله عنده مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه،لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة؛إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي ،كذا في البحر الرائق.( الفتاوى الهندية:2/ 167)

جنید صلاح الدین

دار الافتاءجامعۃ الرشید،کراچی

13/جمادی الثانیہ6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جنید صلاح الدین ولد صلاح الدین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب