03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“میں آپ کواپنےنکاح سے آزاد کرتا ہوں” کہنے کاحکم
85855طلاق کے احکامصریح طلاق کابیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میری بیٹی کا شوہر ڈھائی مہینے سے ملک سے باہر ہے۔ اس نے اپنی بیوی کومیسج میں یہ لکھ کر بھیجا ہے کہ "میں آپ کو اپنے نکاح سے آزاد کرتا ہوں۔" یہ الفاظ اس نے صرف ایک بار کہے ہیں۔توپوچھنایہ ہےکہ

  1. ان الفاظ کا شرعی مفہوم کیا ہے؟
  2. شرعی لحاظ سے کیا بیوی شوہر کی منکوحہ ہے؟
  3. کیا شوہر کو رجوع کرنے کا حق ہے؟
  4. رجوع کی صورت میں شریعت کیا حکم دیتی ہے؟
  5. رجوع کتنی مدت کے اندر کیا جا سکتا ہے؟
  6. کیا رجوع کے بعد نکاح دوبارہ پہلے جیسا ہو جائے گا، مطلب یہ کہ طلاق کی کوئی شرعی حیثیت نہیں رہے گی؟
  7. کیا رجوع کی صورت میں مہر دوبارہ طے کیا جائے گا، اور کیا پچھلے مہر کی ادائیگی ضروری ہوگی؟
  8. ہم اب بھی ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ براہ کرم شرعی حکم بتا دیجیے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

لفظ آزاد کے ساتھ جب "اپنے نکاح سے آزاد کرتاہوں"جیسے الفاظ کا استعمال کیاجائے تو وہ عرف میں صرف طلاق کے لیےہی استعمال کیاجاتا ہے، لہٰذا یہ لفظ بمنزلہٴ صریح طلاق کے ہے، صورت مسئولہ میں اگر شوہر کو اقرار ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو مذکورہ جملہ ایک مرتبہ لکھا ہے تو اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی، عدت کے اندر شوہر رجوع کرسکتا ہے اورعدت تین ماہواری حیض ہے اگر حاملہ نہ ہو، اور حاملہ ہونے کی صورت میں وضع حمل ہے۔ رجوع کی بہتر صورت یہ ہے کہ شوہر دو گواہوں کے سانے یہ کہہ دے: ”میں دوبارہ بیوی کو زوجیت میں رکھتا ہوں“ اگر عدت کے اندر رجوع نہیں کیا تو عدت کے بعد تراضی طرفین سے نکاح جدید بلاحلالہ ہوسکتا ہے۔﴿فتاوی دارالعلوم دیوبندعلی الشبکة بتغیریسیر فتوی: 1334-1334[1]

اب آپ کے سوالات کے مختصرجوابات درج ذیل ہیں:

١۔ان الفاظ کا شرعی مفہوم بحالاتِ موجودہ طلاق رجعی کا ہے۔

۲۔منکوحہ تو نہیں،لیکن عدت کے اندررجوع اوربعدمیں نکاح ہوسکتاہے۔

۳۔جی ہاں،اس کو عدت کےاندررجوع کرنے کاحق ہے ۔

۴۔دوبارہ بیوی بن جائے گی اورآئندہ شوہرکو دوطلاقوں کا اختیاہوگا۔

۵۔رجوع عدت کے اندرہوسکتاہےاورعدت تین ماہواری( حیض) ہے اگر حاملہ نہ ہو، اور حاملہ ہونے کی صورت میں وضع حمل ہے۔

٦۔رجوع کے بعد وہ دبارہ بیوی بن جائے گی،لیکن واقع شدہ طلاق واپس نہیں ہوسکتی،لہذا آئندہ اس کوصرف دوطلاقوں کا اختیاررہے گا ۔

۷۔ رجوع کےلیے نئے مہر کی ضرورت نہیں ہے، رجوع کی بہتر صورت یہ ہے کہ شوہر دو گواہوں کے سانے یہ کہہ دے: ”میں دوبارہ بیوی کو زوجیت میں رکھتا ہوں“اوراگرجماع یا شہوت  کےساتھ دواع جماع( بوس وکناروغیرہ کرلیا)تو اس سے بھی رجوع ہوجائے گا۔پرانے مہرکی ادائیگی مرد پرلازم ہوگی الا یہ کہ بیوی اپنی دلی خوشی سے دباؤکے بغیرمعاف کردے۔

۸۔عدت کے اندررجوع کرلیں اورعدت گزرگئی ہوتو دوبارہ نئے مہرکےساتھ،گواہوں کی موجودگی میں جدیدنکاح کرکے رہ سکتے ہیں،تاہم آئندہ شوہرکو دو طلاقوں کا ختیاررہے گا۔

 


[1] https://darulifta-deoband.com/home/ur/talaq-divorce/48487

حوالہ جات

ردالمحتار على الدرالمختار:

فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق۔(ردالمحتار على الدرالمختار ، كتاب الطلاق ، باب الكنايات ، ج: 4 ص: )     

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (3/ 323):

والأصل الذي عليه الفتوى في الطلاق بالفارسية أنه إن كان فيه لفظ لا يستعمل إلا في الطلاق فذلك اللفظ صريح يقع بلا نية إذا أضيف إلى المرأة مثل زن رها كردم في عرف أهل خراسان، والعراق بهيم لأن الصريح لا يختلف باختلاف اللغات وما كان بالفارسية يستعمل في الطلاق وغيره فهو من كنايات الفارسية

الفتاوى التاتارخانية: 

وفي الملتقط:ولو قال :رها كر دمت!مضافا الى المرآة فهو صريح يوجب الرجعة ولا يصدق    أنه لم ينو به الطلاق خصوصا  عند مذاكرة الطلاق.(الفتاوى التاتارخانية،كتاب الطلاق،الفصل الخامس في الكنايات،4/465، الرشیدیۃ)

وفی إمدادالأحکام(2/470):

یہ کنایات میں اس وقت داخل ہے جبکہ خلاف ارادہ طلاق کا قرینہ کلام میں نہ ہومثلایوں کہاجائے کہ میری بیوی آزاد ہے یا تو آزاد ہے یا وہ آزاد ہے اوروہ ہر طرح مجھ سے آزاد ہے اورتو پوری طرح آزاد ہے ان استعمالات مٰں بیشک یہ کنایات کی قبیل سے ہے اوراگرارادہ طلاق کا قرینہ قائم ہوتوپھریہ لفظ صریح ہوجاتاہے مثلاً،یوں کہاجائے کہ میری بیوی میرے نکاح سے آزادہے،یامین نے اس کواپنے نکاح سے آزاد کیا اورمیں  نے اس کو اپنے سے آزادکردیااوراگرکلام یں عدم ارادہ طلاق کا قرینہ قائم ہوجائے تو پھر یہ نہ صریح طلاق سے ہے اورنہ کنایات سے مثلا یوں کہاجائے کہ تو آزاد ہے جو چاہے کھا پی اورمین نے اپنی بیوی کو آزاد کیا چاہے وہ میرے پاس رہے یا اپنے گھر  اوروہ آزاد ہے جب اس کا جی چاہے آوےالخ

وفیہ ایضا(2/445):

قلت ولفظ آزاد کردن من الصریح عندی فی عرف اھل الھندلایطلقونہ علی النساء الافی معنی الطلاق.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

14/6/1426ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب