| 85893 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے ہاں ایک سوشل ویلفیئر ایسوسی ایشن ہے، ہم ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ممبران ملکر چندہ جمع کرکے وقتاً فوقتاً مستحق افراد کے ساتھ تعاون کرتے رہتے ہیں الحمدللہ ،اس دفعہ ایک بچہ بیمار تھا اس کے لیے حسبِ معمول پیسے( ڈونیشن) جمع کیے گئے ہیں، ان پیسوں سے بچے کا علاج جاری تھا ،اچانک آج وہ بچہ اللّہ پاک کو پیاراہوگیا۔اب جو رقم ہمارے پاس موجود ہے جومحض اس بچے کے نام پر اکھٹی کی گئی تھی، ان پیسوں کو از روئے شریعت کس طرح خرچ کیا جائے گا؟ آیا ہم ان پیسوں کو محفوظ رکھ کر کسی دوسرے مریض پر خرچ کر سکتے ہیں یا اس بچے کے لواحقین کے سپرد کردیےجائیں؟
تنقیح:خاص بچےکےعلاج معالجہ کی مدمیں تعاون کےطورپر پیسےلیےگئےہیں اورپیسےلیتےوقت ویلفئیرکی طرف سےایسی کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ بچی ہوئی رقم کودیگرویلفیرکےمصارف میں استعمال کیاجائےگا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں بچےکےعلاج معالجہ سےجو رقم بچ گئی ،اصولی طورپراصل رقم دینےوالوں کی ہوگی،جن حضرات نےوہ رقم دی ہے،ان کو بتادیاجائے،ان کو مکمل اختیار ہوگا،ویلفئیرکےدیگرمصارف میں استعمال کی اجازت دیں،بچےکےورثہ کودیں یاواپس لےلیں ۔
اوراگراصل چندہ دہندگان تک رسائی ممکن نہ ہوتودینےوالوں کی طرف سےکسی بھی مستحق یامریض کےعلاج میں لگاسکتےہیں،یا فوت شدہ بچےکےلواحقین(اگر مستحق ہوں توان) کوبھی دےسکتےہیں۔
حوالہ جات
"حاشية رد المحتار" 2 / 292: العالم إذا سأل للفقراء شيئا وخلط يضمن۔۔۔۔۔۔
قلت: ومقتضاه أنه لو وجد العرف فلا ضمان لوجود الاذن حينئذ دلالةوالظاهر أنه لا بد من علم المالك بهذا العرف ليكون إذنا منه دلالة۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
14/جمادی الثانیہ 1446 ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


