| 85885 | نکاح کا بیان | محرمات کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرا نام سعد اشرف ہے، میری عمر 34 سال ہے، اور میں سید بہاری (اردو اسپیکنگ) ہوں۔ میری بیوی کا نام ازما بٹ ہے، ان کی عمر 17 سال 6 مہینے ہے، اور ان کا تعلق بٹ پنجابی خاندان سے ہے۔ میں آئی ٹی ڈپلومہ کر رہا ہوں جو ابھی جاری ہے، جبکہ میری بیوی سیکنڈ ایئر میں کمپیوٹر سائنس کی طالبہ ہیں۔
میرانکاح کچھ اس طرح ہواتھا کہ09اگست-2024 بروز جمعہ ہم نے قاضی کو گھر بلایا اور ان سے کہا کہ ہم نے نکاح کرنا ہے۔ قاضی نے کہا کہ ہاں، نکاح ہو جائے گا، بس آپ کو اپنی کچھ تفصیلات بتانی ہوں گی۔ میں نے اپنا نام بتایا (سعد اشرف) اور لڑکی کا نام بتایا (ازما بٹ)، پھر انہوں نے میری عمر پوچھی اور میری بیگم کی عمر بھی پوچھی جو میں نے بتا دی،میں نے کہا کہ ان کے گھر والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ نکاح کے لیے گواہوں کی ضرورت ہوگی۔ گواہ چار تھے: دو میری طرف سے اور دو لڑکی کی طرف سے۔ چونکہ لڑکی کا شناختی کارڈ نہیں بنا تھا، قاضی نے کہا کہ ابھی ہم ایک رجسٹر پیپر پر نکاح کی تفصیلات لکھ دیتے ہیں اور انہوں نے اس پیپر پر نکاح پڑھا دیا۔ میرا نکاح کی ویڈیو میرے پاس موجود ہے، جس میں وہ خود نکاح پڑھا رہے ہیں۔
قاضی نے کہا: "یہ بات آپ اپنے گھر میں ان کے 18 سال کے ہونے تک نہیں بتائیں گے، اور جب وہ 18 سال کی ہو جائیں گی تو ہم آپ کا فائنل نکاح نامہ بنا دیں گے" (یہ قاضی کے الفاظ تھے)۔ میری بیگم کا کہنا تھا کہ آپ فائنل نکاح نامہ بنوا لیں۔ میں نے قاضی سے کہا کہ فائنل پیپر بنا دیں۔ قاضی نے کہا کہ ٹھیک ہے، بن جائیں گے،انہوں نے پیپرز بنائے، جن میں میرے دستخط، میری بیگم کے دستخط اور تین گواہوں کے دستخط ہو گئے، صرف ایک گواہ رہ گیا تھا جس کی وجہ سے فائنل نکاح نامہ نہیں بن سکا۔ دو ماہ گزر گئے۔ نکاح کے بعد میری ہونے والی ساس کو اس نکاح کا علم ہو گیا۔ چند دن بعد انہوں نے میری بیگم کو بہت مارا اور کہا کہ تم فوراً طلاق لو،میری بیگم نے کہا: "نہیں، میں نہیں لے سکتی۔" پھر جب میری بیگم نے مجھے فون کیا کہ امی کہہ رہی ہیں طلاق لو، تو میں نے بھی انکار کر دیا کہ میں طلاق نہیں دے سکتا۔ میں نے ان کی والدہ کو بہت سمجھایا کہ ایسا نہ کریں، لیکن انہوں نے کہا ٹھیک ہے، لیکن ان کے والد بیرونِ ملک ہیں اور چار، پانچ مہینے بعد آئیں گے۔جب تک ہم دعا کریں گے اور ان کے والد کو نکاح کا نہیں بلکہ رشتے کا بتائیں گے۔ اس پر میں راضی ہو گیا۔ اس دوران میری بیگم سے بات چیت ہوتی رہی، لیکن یہ بات میری ساس کو پسند نہ آئی۔ وہ میری بیگم کو مارنے لگیں۔ میں اپنے گھر والوں کو لے کر ان کے گھر گیا اور کہا کہ ایسا نہ کریں۔ یہ دو مرتبہ ہوا، جس پر وہ سمجھ گئیں۔میری والدہ نے ان سے کہا کہ جو ہوا سو ہوا، اب معاملے کو درگزر کریں۔ اس پر میری ساس نے ہامی بھر لی اور کہا کہ جیسے ہی ان کے والد آتے ہیں، ان سے بات کریں گے۔22اکتوبر-2024 کو میری بیگم نے مجھے بتایا کہ ان کی والدہ انہیں بہت تنگ کر رہی ہیں اور وہ وہاں نہیں رہ سکتیں اس لیے آپ مجھے یہاں سے لے جائیں، اس بناء پرمیں انہیں ان کے کالج سے اپنے گھر لے آیا۔
23اکتوبر-2024 کو ہم اسی قاضی کے ذریعے سٹی کورٹ کورٹ میرج کے لیے چلے گئے،میں نے کہاکہ ہمارانکاح تو ہوچکاہےتوپھرکورٹ میرج کیوں؟توقاضی نے کہا کہ قانونی طور پر تمام کام ضروری ہیںم نکاح کے لیے نئے گواہ تھے اور پرانے گواہ شامل نہیں تھے۔ میرے اور میری بیگم کے نکاح کی تمام قانونی کارروائیاں مکمل ہو گئیں۔
اب میرا سوال یہ ہے:
- کیا میرا نکاح (پہلا نکاح یا کورٹ میرج) بغیر ولی کے شرعاً اور قانونی طور پر درست ہے؟
- کیا یہ نکاح باطل ہونے کا امکان ہے کیونکہ میری بیوی کے گھر والے اسے جعلی قرار دے رہے ہیں اور کورٹ میں اسے کالعدم قرار دلوانے کی کوشش کر رہے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
١۔ صورتِ مسئولہ میں اگر آپ مذکورہ لڑکی کے کفؤ (ہم پلہ) تھے اور آپ دونوں نے واقعۃً دو بالغ گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ نکاح کیا تھا، جیسے کہ آپ نے لکھا ہےکہ گواہ چارتھے، تو اگرچہ شرعاً اولیاء سے چھپ کر نکاح کرنا اچھا اور پسندیدہ عمل نہیں ہے، تاہم اس طرح کا نکاح شرعاً منعقد ہو جاتا ہے۔ لہٰذا مسئولہ نکاح شرعاً و قانوناً منعقد ہو گیا تھا اور اس کی وجہ سے مذکورہ لڑکی آپ کی بیوی بن گئی تھی۔
۲۔ اگر آپ مذکورہ لڑکی کے کفؤ (ہم پلہ) نہ ہوں تو نکاح شروع سے ہی کالعدم ہے، لیکن اگر آپ اس کے ہم پلہ ہوں اور تمام حقوق دینے کے لیے تیار ہوں تو پھر اس نکاح کو آپ کی رضامندی کے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
حوالہ جات
قرآن سے دلائل:
فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ" (سورۃ البقرہ 2:232)
اس آیت میں نکاح کے لیے ولی کی شرط کا ذکر نہیں، بلکہ عورت اور مرد کی باہمی رضامندی کو کافی قرار دیا گیا ہے۔
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَهُ ۗ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۗ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ۔( البقرہ: 230)
اس آیت کے لفظ تنکح میں نکاح کی نسبت عورت کی طرف کی گئی ہےاورولی کی شرط نہیں رکھی گئی۔
نکاح کی نسبت عورت کی طرف کرنے سے معلوم ہوا کہ بالغ عورت نے اگراپنانکاح ولی کی اجازت کے بغیر کردیا تووہ ہوجائے گا۔تاہم شرط یہ ہے کہ وہ کفؤ میں ہو،غیر کفؤ میں ہوتو نکاح راحج قول کے مطابق منعقد نہیں ہوگا۔
حدیث سے دلائل:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا،
وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا"(صحیح مسلم، حدیث: 1421)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ بالغ عورت کو اپنے نکاح کا اختیار دیا گیا ہے، اور ولی کی اجازت شرط نہیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت:"الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا"(سنن ابی داؤد، حدیث: 2096)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بالغ عورت کو خود مختاری حاصل ہے، اور ولی کا کردارایسا لازمی نہیں کہ اس کےبغیرنکاح نہ ہوسکے۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (3 / 84)
أَنَّ الْمَرْأَةَ إذَا زَوَّجَتْ نَفْسَهَا مِنْ كُفْءٍ لَزِمَ عَلَى الْأَوْلِيَاءِ وَإِنْ زَوَّجَتْ مِنْ غَيْرِ كُفْءٍ لَا يَلْزَمُ أَوْ لَا يَصِحُّ بِخِلَافِ جَانِبِ الرَّجُلِ فَإِنَّهُ إذَا تَزَوَّجَ بِنَفْسِهِ مُكَافِئَةً لَهُ أَوْ لَا فَإِنَّهُ صَحِيحٌ لَازِمٌ.
وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (3 / 55)
(قَوْلُهُ وِلَايَةُ نَدْبٍ) أَيْ يُسْتَحَبُّ لِلْمَرْأَةِ تَفْوِيضُ أَمْرِهَا إلَى وَلِيِّهَا كَيْ لَا تُنْسَبَ إلَى الْوَقَاحَةِ بَحْرٌ۔
ویفتیٰ فی غیر الکفو بعدم جوازہ أصلا وھو المختار للفتویٰ لفساد الزمان. (الدر المختار،کتاب النکاح (باب الولی ج:۳،ص:۵۶)
الفتاوى الهندية - (1 / 290)
الكفاءة تعتبر في أشياء (منها النسب)… (ومنها إسلام الآباء)…(ومنها الحرية)…(ومنها الكفاءة في المال)…(ومنها الحرفة).
وفی سنن ابن ماجة للقزويني - (ج 2 / ص 172)
عن عكرمة ، عن ابن عباس ، قال : أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقال : يا رسول الله ! إن سيدا زوجنى أمته ،وهو يريد أن يفرق بينى وبينها ، قال ، فصعد رسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر فقال " يا أيها الناس ! ما بال أحدكم يزوج عبده أمته ثم يريد أن يفرق بينهما ؟ إنما الطلاق لمن أخذ بالساق " .
وفی إرواء الغليل للالبانی- (ج 7 / ص 109)
قلت : ولعل حديث إبن عباس بمجموع طريقيه عن موسى بن أيوب يرتقى إلى درجة الحسن . والله أعلم . ثم وجدت له طريقا ثالثة أخرجه الطبراني في ( المعجم الكبير )
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
15/6/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


