| 85895 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
مفتیان کرام سے میرا سوال یہ ہے کہ واٹس اپ کا وہ گروپ جس میں بعض شرکائے گروپ کی طرف سے کسی عالم پر طعن و تشنیع ہوتی ہو ،ان پر بہتان باندھے جاتے ہوں، بلکہ اس کو گالیاں دی جاتی ہوں، تو اس گروپ میں باقی رہنا شرعا کیسا ہے ؟
اسی طرح جو ساتھی ان گالیوں پر داد دیتے ہیں ، بعض خاموش رہتے ہیں ،خصوصاگروپ کے ایڈمین کے لیے ایسے شخص کو گروپ میں باقی رکھنا کیساہے؟ اسی طرح فیس بک پر اگر گستاخ علمائے کرام ہوں، تو اس کو فرینڈ رکھنا شرعی نقطہ نظر سے کیساہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی بھی مسلمان کو گالی دینا، طعن وتشنیع کرنا ،اس کی غیبت کرنا اور اس پر بہتان لگانا بہت بڑا گناہ ، ناجائز وحرام ہے۔اور کسی عالم پر بہتان والزام لگانااس سے بھی بڑھ کر گناہ ہے ۔ علمائےکرام کی برائی کرنے والے کی بابت سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، فقہائےکرام نے ایسے شخص کے بارے میں کفر کا اندیشہ ظاہر کیا ہے ۔
واٹس اپ گروپ میں اگر کوئی بداخلاقی کا مظاہرہ کرے تو بہتر ہے کہ اسے سمجھایا جائے ،بارہا سمجھانےکے باوجود بھی وہ اپنے اس عمل سے باز نہ آئے تو ایڈمن کو چاہیےکہ اسے گروپ سے نکال دے۔اگر یہ ممکن نہ ہو تو بلاضرورت اس گروپ میں نہ رہا جائے۔ نیز فیس بک پر بھی ایسے لوگوں سے لاتعلقی ضروری ہے ، البتہ اگر کہیں رشتہ داری میں قطع تعلقی کی صورت پیش آئے ، تو اپنوں کی بداخلاقی پر صبر کرنا چاہیے۔
یہ یاد رہے کہ یہ حکم اس صورت میں ہے کہ گالی دینے والے صرف علم کی وجہ سے کسی عالم پر طعن وتشنیع وغیرہ کرتے ہوں اور اگر ان کا آپس میں کوئی معاملہ ہو اور اس بنیاد پر ایساکرتا ہو تو پورا معاملہ سمجھنے اور طعن وتشنیع وغیرہ کےتعبیر سامنے آنے پر ہی تفصیلی حکم لگایا جاسکتا ہے۔
حوالہ جات
قال اللہ تبارك وتعالی: ﵟوَلَا يَغۡتَب بَّعۡضُكُم بَعۡضًاۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمۡ أَن يَأۡكُلَ لَحۡمَ أَخِيهِ مَيۡتٗا فَكَرِهۡتُمُوهُۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ تَوَّابٞ رَّحِيمٞ ﵞ. [الحجرات: 12]
أخرج الإ مام البخاری في ’’صحیحہ‘‘(1/ 43)(الحدیث رقم:48)من حدیث زبيد قال: سألت أبا وائل عن المرجئة فقال: حدثني عبد الله رضی اللہ تعالی عنہ: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: سباب المسلم فسوق، وقتاله كفر.
أخرج الإمام مسلم في ’’صحیحہ‘‘(8/ 21)(الحدیث رقم: 2589)من حدیث أبي هريرة رضی اللہ تعالی أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أتدرون ما الغيبة؟ قالوا: الله ورسوله أعلم قال: ذكرك أخاك بما يكره قيل: أفرأيت إن كان في أخي ما أقول؟ قال: إن كان فيه ما تقول فقد اغتبته، وإن لم يكن فيه فقد بهته .
وفي مجمع الأنھر: فالاستخفاف بالعلماء لكونهم علماء استخفاف بالعلم....والاستخفاف بالأشراف والعلماء كفر ومن قال للعالم عويلم أو لعلوي عليوي قاصدا به الاستخفاف كفر. ومن أهان الشريعة أو المسائل التي لا بد منها كفر ومن بغض عالما من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر ولو شتم فم عالم فقيه أو علوي يكفر. (مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: 1/ 695)
قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ تعالی:ومن أبغض عالما من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر ولو صغر الفقيه أو العلوي قاصدا الاستخفاف بالدين كفر لا إن لم يقصده.( البحر الرائق :5/ 134)
شمس اللہ
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
/15جمادی الثانیہ،1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شمس اللہ بن محمد گلاب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


