03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
برازیلین چکن کا حکم(برازیل سے (غیر مسلم ملک سے درآمد شدہ مرغی کا حکم)
85899جائز و ناجائزامور کا بیانکھانے پینے کے مسائل

سوال

ہم ساؤتھ کوریا میں رہتے ہیں۔ہم ایک قسم کا چکن منگواتے ہیں جس کا نام سیرہ چکن ہے ۔یہاں کے علماء کا اختلاف ہے،کچھ حضرات کہتے ہیں کہ حلال ہے اور کچھ کہتے ہیں کہ اس میں شک ہے۔ اس لیے برائے مہربانی تفصیل سے بیان کرکے  رہنمائی فرمائیں ۔چکن کی تفصیل کے لیے آپ اس ویب سائٹ کا وزٹ کریں۔

https://brazilhalalchickensuppliers.com/?gad_source=1  

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

غیر مسلم ممالک سے در آمد کیے جانے والے گوشت پر اس وقت بھروسہ کیا جاسکتا ہے جب وہ کسی با اعتماد ادارے سے حلالسرٹیفائیڈ ہو۔ کمپنی کےسوال میں درجویب سائٹ کاوزٹ کرنے  اور ای میل کے ذریعے رابطہ کرنے سے معلوم ہوا کہ  یہ کمپنی کسی  بھی حلال سرٹیفکیشن باڈی سے  سرٹیفائیڈ نہیں ہے۔کمپنی نے حلال کا لوگو اپنی جانب سے لگایا ہوا ہے، جس کا کوئی اعتبار نہیں ۔ اس کمپنی سے چکن منگوانے کی بجائے ایسی کمپنی سے منگوایا جا ئے جوکسی با اعتماد ادارے سے  حلال سرٹیفائیڈ ہو۔

حوالہ جات

خبر الواحد يقبل في الديانات كالحل والحرمة والطهارة والنجاسة إذا كان مسلما عدلا ذكرا أو أنثى حرا أو عبدا محدودا أو لا، ولا يشترط لفظ الشهادة والعدد، كذا في الوجيز للكردري، وهكذا في محيط السرخسي والهداية، ولا يقبل قول الكافر في الديانات إلا إذا كان قبول قول الكافر في المعاملات يتضمن قوله في الديانات، فحينئذ تدخل الديانات في ضمن المعاملات فيقبل قوله فيها ضرورة هكذا في التبيين.

( الفتاوى الهندية:5/ 308)

فاللحوم التی تباع فی أ سواق البلاد الغربیة،والتی تستوردإ لی البلاد الإسلامیة،وجوہ المنع کثیرة:

  1. لاسبیل إلی معرفة دیانة ذابحہ،فإن تلک البلاد یوجد فیھا وثنیون،ومجوسیون،ودھریون ومادیون بکثرة،فلایحصل الیقین بکون الذابح من أ ھل الکتاب.
  2. ولوثبت بالتحقیق، أو بحکم غلبة السکان، أن ذابحہ نصرانی،فلایعرف ھل ھونصرانی فی

الواقع، أوھومادی فی عقیدتہ؟ وقد سبق أن ذکرنا أن العدد الکثیر منہم لایعتقد بوجود خالق لھذا

الواقع، أوھومادی فی عقیدتہ؟ وقد سبق أن ذکرنا أن العدد الکثیر منہم لایعتقد بوجود خالق لھذا الکون،فلیس ھونصرانیا فی الواقع.

  1. ولوثبت بالتحقیق، أوعلی سبیل الحکم بالظاھر أنہ نصرانی،فإن المعروف من النصاری أنہم لایلتزمون بالطرق المشروعة للذکاة،بل منہم من یھلک الدابة بالخنق،ومنہم من یقتلھا بغیرفری الأدواج،ومنہ من یستعمل الطرق المشتبھة للتدویخ التی فصلناھا.
  2. الثابت یقیناأن النصاری لایذکرون  اسم اللہ عندالذبح،والقول الراجح المنصور عند جمہورأھل العلم أن التسمیة شرط لحل ذبائح أھل الکتاب أیضا.
  3. وعندوجودھذہ الوجوہ القویة للمنع،لایجوز لمسلم أن یأکلہ ھذہ اللحوم التی تباع فی أسواق  البلاد الغربیة حتی یتیقن فی لحم معین أنہ حصل عن طریق الذکاة الشرعیة.

(بحوث فی  قضایا فقہیة معاصرة:1/345)

جس کھانے میں انسانی  صنعت  کو دخل ہے اس میں چونکہ  کفارکے برتنوں  اور ہاتھوں  کی  طہارت  کا کوئی بھروسہ  نہیں، اس لئے احتیاط  اس میں ہے کہ اس سے اجتناب کیاجائے ،بلا ضرورت  شدیدہ استعمال  نہ کریں ۔مگر اس میں جو حال مشرکین  بت پرستوں کا ہے  وہی حال اہل کتاب کا ہے کہ نجاست کا احتمال دونوں میں برابر ہے۔

( معارف القرآن  ،سورہ مائدہ 3/49،50)

محمد علی

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

15/جمادی الثانیہ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد علی ولد محمد عبداللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب