03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیٹوں کو ہدیہ دینا
85971میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

ہم پانچ بھائی اور اک بہن ہیں پوچھنا یہ ہے کہ والد محترم اپنی زندگی میں چتین بیٹوں کو زمین اور اک بیٹے کو اپنا مکان دے گئے ہیں اور اک بھائی کو داد محترم والد صاحب کے حصہ میں سے کچھ زمین دے گئے ہیں اب سوال یہ ہے کہ بہن کو کتنا اور کس طرح حصہ دیں رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ خیرا

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر آپ کے والد نے   مکان یا  جائیداد اپنی زندگی میں   اپنے تصرف سے نکال کربچوں کے باقاعدہ قبضے میں دی تھی   تو وہ بچے اس زمین یا مکان کے مالک بن گئے ،لہذا اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہوسکتا۔  اورجو   جائیداد آپ کے والد کی وفات کےوقت والد کے ملک میں تھی وہ تمام شرعی ورثہ میں  بقدر حصص تقسیم ہوگی۔  البتہ آپ بھائی اپنی خوشی سےبہن کو تبرعاً جو دینا چاہیں دے سکتے ہیں ،بلکہ دینا باعث اجر و ثواب ہے ۔تاہم شرعا آپ پر ایسا کرنا لازم نہیں ہے۔

والدکابلا کسی معقول وجہ کے بعض بچوں کوزیادہ مال دینا اورکسی کو محروم کرنا مکروہ ہے ۔والد کو چاہیے تھا کہ سب بچوں کو برابر مال ہدیہ کرتا  ۔  تاہم   بعض   بچوں کو ہدیہ کرنے سے بچوں   کی  ملکیت ثابت ہوجائے گی ۔ نیزواضح رہے کہ والد کا اپنی زندگی میں کسی بیٹے کو مال دینا اسےحق  وراثت سے محروم نہیں کرتا ۔

حوالہ جات

قال الحصکفی رحمه الله تعالى:وفي الأشباه: هبة المشغول لا تجوز إلا إذا وهب الأب لطفله.

 (رد المحتار : 5/ 169)

قال الحصکفی رحمه الله تعالى:وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم. (رد المحتار : 5/ 696)

قال الشیخ تقی العثمانی :قولہ :(اکل ولدک نحلتہ مثل ھذا ؟) فیہ دلیل علی ان الاب ینبغی لہ ان یسوی بین اولادہ فی الحبۃ والعطایا .ثم اختلف العلماء،ھل یجب علیہ ذالک او یستحب ؟فقالت جماعۃ من الفقہاء: ان التسویۃ واجبۃ ،وھو قول احمد .وقال آخرون :لایجب علیہ ذالک ،وانما ھو مستحب لہ، وخلافہ مکروہ،وھو قول ابی حنیفۃ ،ومالک ، والشافعی .وقال ابو یوسف : تجب التسویۃ ان قصد بالتفضیل الاضرار،والا فھی مستحبۃ .(تکملۃ فتح المھم : 2/62)

فی الاشباہ والنظائر:ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لا يقبله، وبيان أن الساقط لا يعود:لو قال ‌الوارث: ‌تركت ‌حقي لم يبطل حقه ،إذ الملك لا يبطل بالترك.(الأشباه والنظائر لابن نجيم : 272)

حماد الرحمن بن سیف الرحمن

 دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

۱۹  جمادی الثانیۃ ۱۴۴۶ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حماد الرحمن بن سیف الرحمن

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب