03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تحریری طلاق کا حکم
86035طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

میرے شوہر نے مجھے 26 ستمبر کو تحریری طلاق دی، 14 نومبر 2023 کو میری شادی ہوئی تھی ،میرے نکاح پر ہی سسرال والوں نے میرے گھر والوں سے لڑائی جھگڑے شروع کردئیے تھے۔ میں اپنے شوہر کے ساتھ خوش تھی،میری اپنے شوہر سے کبھی کوئی لڑائی نہیں ہوئی تھی،میری ساس،نند سے جب بھی کوئی لڑائی ہوتی تو میرے شوہر بولتے کہ یہ تمہارے گھر والوں کی وجہ سے یہ لوگ تم سے لڑتے ہیں ۔میں صرف 4مہینے اپنے سسرال میں رہی،اب 6 ماہ سے میں اپنے والد کے گھر پر ہوں،17 ستمبر 2024 کو والد کے گھر پر ہی مجھے بیٹے کی ولادت ہوئی،میں جب اپنے سسرال سے آئی تھی تو تب بھی میرا اپنے شوہر سے کوئی جھگڑا نہیں تھا ،میرے شوہر کے خاندان کے بڑوں نے مجھے اپنے سسرال واپس بھیجنے کی کوشش کی تو میرے سسرال والے تب بھی راضی نہیں تھے،اس کے بعد میرے شوہر مجھے گھر لے جانے کے لیے تیار ہوگئے تھے پھر نجانے میری ساس نے میرے شوہر کو فون پر ایسا کیا کہا کہ میرے شوہر وہیں پر بے ہوش ہوگئے اس کے بعد مجھے بڑوں نے واپس گھر بھیج دیا اس کے بعد سے آج تک انہوں نے مجھے دوبارہ لے جانے کی کوئی بات نہیں کی ، میرے شوہر کی طبیعت بھی خراب رہتی تھی ،ہر وقت ٹینشن کی وجہ سے ان کا بلڈ پریشر ہائی رہتا تھا وہ بلڈ پریشر کے مریض تھے، بچے کی ولادت کو 9 1دن ہی گزرے تھے کہ میرے سسرال والوں نے 4 اکتوبر کو تحریری طلاق کورٹ کے ذریعے سے بھیج دی۔ مجھے یقین ہے کہ میرے شوہر سے ذہنی دباؤ میں جبر کرکے یہ طلاق لکھوائی گئی ہے، میں نے اپنے شوہر کو طلاق سے پہلے بھی اور طلاق کے بعد بھی فون کیا تھا لیکن میرے شوہر کا فون اس کے بھائی کے پاس تھا۔ تو کیا ذہنی دباؤ میں جبر کرکے طلاق کے کاغذات پر دستخط کروانے سے طلاق ہوجاتی ہے؟ اور اگر طلاق ہوگئی ہے تو کیا مجھے عدت میں بیٹھنا چاہیئے، میں ابھی 40 دن کے اندر ہوں اور بچے کی ولادت کو ایک ماہ اور پانچ دن ہوئے ہیں۔ مجھے اس بات پر یقین ہی نہیں آتا ہے کہ میرا شوہر مجھے طلاق دے سکتا ہے، کیونکہ وہ ایک کمزور دل کے آدمی ہیں۔اور میں کسی دوست کے ذریعے سے یہ معلوم کرنے کی کوشش میں ہو ں کہ میرے شوہر سے جبر میں طلاق لکھوائی گئی ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسؤلہ میں اگر شوہرنے خود لکھ کر طلاق دی ہے یا کسی اور کے لکھے ہوئے کو سمجھ کراس پر دستخط کیے ہیں اور اس کا اقرار بھی کرتا ہے  تو پھر طلاق واقع ہوگئی ہے۔جہاں تک عدت کی بات ہے تو نفاس کی مدت کے بعدسے  تین حیض بطور عدت کےگزارنے ہوں گے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: ولو ‌استكتب من آخر كتابا بطلاقها ،وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها، فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابہ أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة لكنه وصف الأمر على وجهه لا تطلق قضاء ولا ديانة، وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اهـ.   (رد المحتار : 3/ 247)

قال العلامۃ السرخسي  رحمہ اللہ:وعدة التي تحيض ‌ثلاث ‌حيض كما قال الله تعالى في كتابه {ثلاثة قروء} [البقرة: 228]، وهو حكم مقطوع به ثابت بالنص. (المبسوط:6/ 13)

قال العلامۃ علاء الدین السمرقندي  رحمہ اللہ: وأما ‌عدة ‌الطلاق فثلاثة قروء في حق ذوات الأقراء إذا كانت حرة . (تحفة الفقهاء:2/ 244)

قال العلامۃ المرغیناني  رحمہ اللہ: وإذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء " لقوله تعالى: {والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء} [البقرة: 228] والفرقة إذا كانت بغير طلاق فهي في معنى الطلاق لأن العدة وجبت للتعرف عن براءة الرحم في الفرقة الطارئة على النكاح وهذا يتحقق فيها والأقراء الحيض عندنا.( الهداية :2/ 274)

          محمدشوکت

دارالافتاءجامعۃ الرشید،کراچی

19/جمادی الثانیۃ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدشوکت بن محمدوہاب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب