03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زکوۃ اورصدقہ کی رقم کی منتقلی کےچارجز کس پرہونگے؟
85957زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

سوال:یو کے((UK میں ہماری  ایک چیریٹی تنظیم ہے جو رجسٹرڈ بھی ہے،اُس میں لوگ اپنی زکوۃ ، صدقات کی رقم جمع کرواتے ہیں ، بعض حضرات اپنی زکوٰة کی رقم نقد( کیش میں )دیتے ہیں، ہم اس کو بینک میں جمع کرتے ہیں تو بینک 1% فیصد ہینڈلنگ خرچ وصول کرتاہے ،اسی طرح بعض حضرات مختلف کمپنیوں کے مشینوں سے ہماری تنظیم کواداکرتے ہیں  اور ہر کمپنی والا ٹرانزیکشن خرچ وصول کرتا ہے ۔

  معلوم یہ کرنا ہے کی زکوٰۃ دینے والا تو ہم کو پوری رقم دیتا ہے، لیکن بینک میں جمع کرتے وقت اس میں سے 1 فی صد کم جمع  ہوتی ہے تو اس کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے ؟

مزکی کی زکوٰۃ پوری ادا ہوگی یا 1 فی صد کا ذمہ باقی رہے گا؟ اگر باقی رہتا ہے تو اس کا ذمہ کس کے سر آئےگا ؟چیریٹی کےتحت یا مزکی کے ۔

چیریٹی کے اراکین کی صاحب خیر حضرات کو مطلع کر نے کی ذمہ داری رہے گی ؟

 تفصیلی جواب دے کر مشکور فرمائیں عین نوازش ہوگی

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ تنطیم یا ویلفیر کےذمہ دار حضرات عمومازکوۃ دینےوالوں کےوکیل ہوتےہیں،لہذازکوۃ کی ادائیگی کےاخراجات زکوۃ دینےوالوں کےذمہ ہونگے،موجودہ صورت میں   بینک کےذریعہ ٹرانسفر کی صور ت میں  بینک جو چارجز لیتاہے،زکوۃ کی رقم سےیہ چارجز اداکرناجائزنہیں،نہ ہی اس سےزکوۃ اداء ہوگی،کیونکہ زکوۃ میں تملیک بنیادی شرط ہے،جوکہ اس صورت میں نہیں پائی جاتی،لہذا صورت مسئولہ میں تنظیم والوں پرلازم ہےکہ زکوۃ اداکرنےوالوں کو پہلےسےبتادیں تاکہ زکوۃ کی ادائیگی درست طریقےسےہوسکے۔

ہاں اگرمذکورہ چیریٹی تنظیم کےذمہ دارحضرات  مستحقین کی طرف سے"وکالت نامہ "لکھوالیں ،جس میں ان کی طرف سےذمہ دارحضرات کو زکوۃ کی وصولی اور اپنی صوابدید پرخرچ کرنےکاوکیل بنادیاگیاہوتوایسی صورت میں مذکورہ بالااخراجات زکوۃ کی رقم سےاداکیےجاسکتےہیں،کیونکہ اس صورت میں جیسےہی ذمہ دارحضرات زکوۃ وصول کریں گے تومستحقین کی طرف سےوکیل کےطورپرزکوۃ وصول ہوجائےگی،اس کےبعدتنظیم کےذمہ دار حضرات اپنی صوابدیدپرجیسےاستعمال کریں، شرعااجازت ہوگی ۔

حوالہ جات

"الدر المختار"344/2:

ویشترط أن یکون الصرف تملیکاً لا إباحۃ کما مر۔

"الفتاوی الھندیۃ"170/1:

أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله  تعالى  هذا في الشرع كذا في التبيين۔

"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع" 4 / 21:

 ولما حصل في يد الإمام حصلت الصدقة مؤداة حتى لو هلك المال في يده تسقط الزكاة عن صاحبها۔

"الفتاوى الهندية" 51 / 68:

( وحيلة أخرى ) أن يقول الطالب للمطلوب من الابتداء وكل واحدا من خدمي ليقبض لك زكاة مالي ، ثم وكله بقضاء دينك ، فإذا قبض الوكيل يصير المقبوض ملكا لموكله وهو المديون والوكيل بالقبض وكيل بقضاء دينه فيقضي دينه من هذا المال بحكم وكالته۔۔۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

19/جمادی الثانیہ 1446ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب