| 85945 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
تقریباً ایک ماہ قبل میرے والد صاحب کا انتقال ہوا ، وہ ثاء میں ہم چار بیٹے اور ہماری والدہ موجود ہیں، ہماری کوئی بہن نہیں ہے، والد صاحب مرحوم کے والدین کی وفات بھی والد صاحب کی وفات سے بہت پہلے ہو چکی ہے۔ والد صاحب کی ملکیت میں ایک اسّی گز کا مکان تھا، جس میں ہم سب بھائی والدین سمیت رہائش پذیر تھے۔ اور تاحال والد صاحب والے مکان میں میرے تین بھائی اور والدہ رہائش پذیرہیں،ہم چاروں بھائی شادی شدہ ہیں۔
ہمارے گھر کے سامنے ایک سرکاری (ST) تھی، تقریباً 30 سال قبل ہمارے محلے کے لوگوں نے اپنے اپنے مکانات کے سامنے اُس سرکاری زمین (ST) کا جو حصہ پڑتا تھا اُن پر قبضہ کر لیا تھا۔ اُسی سرکاری (ST) زمین کے اس حصے پر جو ہمارے گھر کے سامنے پڑتا تھا جو تقریباً 30 گز کے لگ بھگ جگہ ہے اس پر ہمارے والد صاحب نے بھی قبضہ کر لیا ۔ پھر وقتا فوقتا محلے کے لوگوں نے اپنے کے سامنےقبضہ کی ہوئی جگہوں پر مکانات اور گودام تعمیر کر لئے، تقریباً 15 سال قبل میرے والد صاحب نے مجھے ( محمد عارف کو) اجازت دی کہ ST والی زمین پر مکان تعمیر کر کے رہائش اختیار کرنا چاہو تو کر لو ؛کیونکہ دیگر بھائیوں کی شادی کی وجہ سے والد صاحب والے مکان میں تنگی محسوس ہو رہی تھی۔ چونکہ میرے (محمد عارف کے) پاس اتنی رقم تھی کہ ST والی قبضہ شدہ زمین پر مکان تعمیر کر سکوں،لہذا 15 سال قبل تقریباً 15 لاکھ روپے کے لگ بھگ رقم سے مکان تعمیر کیا، یادرہے کہ میرے مکان کی تعمیر کے وقت نہ تو والد صاحب نے کسی قسم کی کوئی شرائط رکھی اور نہ میں (عارف) نے مکان کی تعمیر کے حوالے سے کوئی شرائط رکھیں، نہ والد صاحب نے اپنی زندگی میں مالکانہ تقسیم کی کوئی وضاحت کی اور نہ وصیت کی، میں نے تقریباً 15 سال پہلے ST والی جگہ پرمکان تعمیر کرایا تھا، مذکورہ وضاحت کے بعد چند سوالات کے شرعی جوابات مطلوب ہیں:
1۔والد صاحب مرحوم کی ملکیت (وراثت) میں ہم چار بھائیوں اور ہماری والدہ کا کتنا حصہ ہوگا ؟(یعنی والد صاحب مرحوم کی اہلیہ اور ہم چار بیٹوں کا )
2۔ ST والی اَن لیگل زمین جس پر میں نے مکان تعمیر کر کے رہائش اختیار کی ہے، کیا یہ بھی والد صاحب کی ملکیت میں شامل کیا جائے گا ؟ اور اس میں بھی وراثت جاری ہوگی ؟
3۔کیا اس (ST) پر ان لیگل مکان کو کرایہ پر دے کر اس کی رقم استعمال کرنا ہمارے لئے (والد صاحب کے ورثاء کیلئے) درست ہوگا ؟
4۔کیا اس مکان کو کرایہ پر دے کر اس کی رقم میں (محمد عارف) استعمال کر سکتا ہوں ؟ کیونکہST والی زمین پر جو مکان بنا ہے اس کی تعمیرات کا كل خرچ میں نے کیا ہے، البتہ زمین پر قبضہ والد صاحب نے کیا تھا۔
5۔کیا اس ST والے مکان کو بیچنا ہمارے لئے جائز ہوگا ؟ کیونکہ اس مکان کی اس وقت قیمت پچاس لاکھ روپے کے لگ بھگ ہو سکتی ہے۔ جبکہ میرا اس مکان کی تعمیر پر 15 لاکھ روپے تقریباً خرچ ہوا ۔ جبکہ آج کل 15 سال کے بعد اس طرح مکان کی تعمیر پر تقریباً 30 لاکھ روپے لاگت آسکتی ہے ۔
6۔اگر ہم والد صاحب کی ملکیت والا لیگل مکان اور يہ اَن لیگل مکان. کسی ایک شخص پارٹی کو اس تصور کے ساتھ کہ اصل والد صاحب کی ملکیت والے لیگل مکان کی قیمت مثلاً ڈھائی کروڑ روپے اور آپ والے ان لیگل مکان کی قیمت 15 لاکھ روپے جو میری لاگت لگی ہے ۔ تصور کرتے ہوئے فروخت کریں۔ تو جائز ہوگا ؟ یا وضاحت کر کے فروخت کرنا لازمی ہوگا ؟
7۔تعمیر پر جو 15 لاکھ روپیہ خرچ ہوا، کیا ST والے مکان کی 15 سال پہلے کی تعمیر آج کل و ہی تعمیر تقریباً30 لاکھ روپے میں ہوگی تو کیا ST والے مکان کی موجودہ وقت کے اعتبار سے لاگت شمار کر کے فروخت کرنا درست ہو گا ؟ یا 15 سال قبل جو تعمیر پر لاگت آئی تھی اُس رقم پر فروخت کرنا ضروری ہے ؟
8۔STوالے اَن لیگل مکان پر میں نے 15 لاکھ روپے خرچ کئے۔ اس جگہ کو فروخت کرنے کے بعد میرے تین بھائیوں اور والدہ کا بھی حصہ ہوگا ؟ اگر حصہ ہوگا تو کیا میں اپنی خرچ شدہ 15 لاکھ روپے یا موجودہ وقت کے حساب سے 30 لاکھ روپے کا مطالبہ کر سکتا ہوں ؟
9- ST والے اَن لیگل مکان کو کرایہ پر دے کر جورقم حاصل کی گئی ہے اس رقم کا مصرف کیا ہوگا ؟ خود استعمال کرنا ، صدقہ و خیرات کرنا یاسرکاری خزانے میں جمع کرانا ہو گا ، اگر سرکاری خزانے میں رقم جمع کرانا ضروری ہو تو اس کی کیا صورتیں ہو سکتی ہیں۔
10۔کیاST والے اَن لیگل مکان کو کرایہ پر دے کر حاصل شدہ رقم مسجد و مدرسہ میں دی جا سکتی ہے ؟ امید ہے درج بالا سوالات کے جوابات عنایت فرما کر ہماری رہنمائی فرمائیں گے۔ جزاكم الله خيراً وأحسن الجزاء
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔صورتِ مسئولہ میں آپ کے والدمرحوم نے اپنا وراثتی لیگل مکان سمیت بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاور مرحوم کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب ہو، يہ سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالنے ، ان کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور ایک تہائی(3/1) تک جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد باقی ترکہ میں سے آٹھواں حصہ مرحوم کی بیوی کو دینے کےبعدبقیہ ترکہ چاروں بیٹوں کے درمیان برابر تقسیم کیا جائے،چنانچہ اوپر ذکر کیے گئے مرحوم کے تین حقوق ادا کرنے کے بعد بقیہ ترکہ کو بتیس (32) حصوں میں برابر تقسیم کر کے مرحوم کی بیوی کو چار(4) حصےاورہربیٹے کو سات(7) حصے دےدیے جائیں ، تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں:
|
نمبر شمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بیوی |
4 |
12.5% |
|
2 |
بیٹا |
7 |
21.875% |
|
3 |
بیٹا |
7 |
21.875% |
|
4 |
بیٹا |
7 |
21.875% |
|
5 |
بیٹا |
7 |
21.875% |
القرآن الکریم : [النساء:11]:
يوصيكم اللَّه في أَولَادكم للذكَر مثل حظ الأنثيينِ.
السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:
وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.
2۔سوال میں تصریح کے مطابق STوالا مکان سرکاری جگہ پر تعمیر کیا گیا ہے، اس لیے شرعی اعتبار سے یہ جگہ حکومت کی ہی ملکیت شمار ہو گی، قبضہ کر لینے سے وہ والد صاحب کی ملکیت شمار نہیں ہو گی، لہذا ST والی اَن لیگل زمین پر تعمیر کیے گئے مکان میں وراثت جاری نہیں ہو گی، بلکہ اس کی زمین سرکار کی اور تعمیر آپ کی ملکیت ہو گی۔
3۔ اَن لیگل مکان کو کرایہ پر دے کر اس سے کرایہ وصول کرنے کا حکم یہ ہے کہ ماہرین سے زمین اور تعمیر دونوں کی قیمت کے حساب سے کرایہ کا تناسب معلوم کر لیا جائے، مثلا اگر زمین کی قیمت تیس لاکھ روپے اور تعمیر کی قیمت بھی تیس لاکھ روپے ہو تو حاصل شدہ کرایہ کا نصف آپ کی ملکیت ہو گا اور بقیہ نصف سرکاری خزانہ میں جمع کروانا ضروری ہے، کیونکہ یہ نصف کرایہ درحقیقت سرکاری زمین کو کرایہ پر دینے سے حاصل ہوا ہے، جس کا استعمال کرنا آپ حضرات کے لیے جائز نہیں۔
4۔اس مکان کو کرایہ پر دے کر مکمل کرایہ خود استعمال کرنا آپ کے لیے جائز نہیں، کیونکہ اس کے نیچے زمین سرکار کی ملکیت ہے، البتہ اس کی تعمیر پر چونکہ صرف آپ نے رقم خرچ کی ہے، اس لیے تعمیر کے عوض حاصل شدہ کرایہ پر صرف آپ کا حق ہے، باقی اس زمین پر والد صاحب کے قبضہ کا شرعا کوئی اعتبار نہیں، کیونکہ وہ قبضہ درحقیقت غصب تھا، جس کو ختم کر کے زمین حکومت کو واپس لوٹانا ضروری ہے۔
5۔اس مکان کو بیچنا آپ کے لیے جائز نہیں، کیونکہ اس کی زمین حکومت کی ملکیت ہے اور حکومت کی مملوکہ چیز کو آپ کے لیے بیچنا جائز نہیں۔
6۔ مذکورہ صورت میں آپ لوگوں کا خریدار کے سامنے یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ یہ ہمارا لیگل مکان ہے اور یہSTوالا اَن لیگل مکان ہے،جوحکومتی جگہ پر تعمیر کیا گیاہے، اس لیے ہم آپ سےزمین کی قیمت وصول نہیں کر رہے، بلکہ صرف تعمیر کی قیمت لے رہے ہیں، پھر اگر خریدار اس پر راضی ہو جائے تو اس کو اس طرح دونوں مکان بیچنا درست ہے۔
7۔تعمیرچونکہ آپ نے اپنی رہائش کے لیے کروائی تھی اس لیے یہ تعمیر آ پ کی ملکیت ہے، اس لیے آپ تعمیر کی موجودہ قیمت بھی وصول کر سکتے ہیں۔
8۔STوالے اَن لیگل مکان کی تعمیر پر چونکہ مکمل طورپرآپ نے خرچ کیا تھا، اس لیے یہ تعمیر آپ کی ملکیت ہے اور اس تعمیر کے عوض حاصل شدہ کرایہ کے بھی صرف آپ ہی مالک ہوں گے، دیگر ورثاء کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔
9- اس کا جواب سوال نمبر3کے جواب میں گزر چکا ہے کہ وہ یہ کہ اس میں تفصیل ہو گی، تعمیر کے عوض کرایہ آپ کی ملکیت ہو گا اور زمین کے عوض حاصل شدہ کرایہ سرکاری خزانے میں جمع کرانا ضروری ہے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ نیشنل بینک کے کسی سرکاری اکاؤنٹ میں یہ رقم جمع کروا دی جائے، اس کے علاوہ یہ رقم اپنی ذات پر خرچ کرنا، صدقہ وخیرات کرنا یا کسی مسجد ومدرسہ کو دینا جائز نہیں۔
10۔ اس کا جواب سوال نمبر9 کے جواب کے تحت گزر چکا ہے۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 592) الناشر: دار الفكر-بيروت:
(أخرج إلى طريق العامة كنيفا) هو بيت الخلاء (أو ميزابا أو جرصنا كبرج وجذع وممر علو وحوض طاقة ونحوها عيني أو دكانا جاز) إحداثه (وإن لم يضر بالعامة) ولم يمنع منه، فإن ضر لم يحل كما سيجيء (ولكل أحد من أهل الخصومة) ولو ذميا (منعه) ابتداء (ومطالبته بنقضه) ورفعه (بعده) أي بعد البناء، سواء كان فيه ضرر أو لا وقيل إنما ينقص بخصومته إذا لم يكن له مثل ذلك وإلا كان تعنتا زيلعي (هذا) كله (إذا بنى لنفسه بغير إذن الإمام) زاد الصفار ولم يكن للمطالب مثله (وإن بنى للمسلمين كمسجد ونحوه) أو بنى بإذن الإمام (لا) ينتقض (وإن كان يضر بالعامة لا يجوز إحداثه)
قال ابن عابدين:[باب ما يحدثه الرجل في الطريق وغيره]
(قوله إلى طريق العامة) أي النافذة الواقعة في الأمصار والقرى دون الطريق في المفاوزة والصحاري؛ لأنه يمكن العدول عنها غالبا كما في الزاهدي، وطريق العامة ما لا يحصى قومه، أو ما تركه للمرور قوم بنوا دورا في أرض غير مملوكة فهي باقية على ملك العامة وهذا مختار شيخ الإسلام والأول مختار الإمام الحلواني كما في العمادي قهستاني (قوله أو جرصنا) بضم الجيم وسكون الراء وضم الصاد المهملة وهو دخيل أي ليس بعربي أصلي فقد اختلف فيه فقيل البرج وقيل مجرى ماء يركب في الحائط. وعن الإمام البزدوي جذع يخرجه الإنسان من الحائط ليبني عليه مغرب. قال العيني: وقيل هو الممر على العلو وهو مثل الرف، وقيل هو الخشبة الموضوعة على جدار السطحين ليتمكن من المرور وقيل هو الذي يعمل قدام الطاقة لتوضع عليه كيزان ونحوها اه (قوله كبرج إلخ) حكاية للأقوال المارة في تفسير الجرصن (قوله ونحوها) هو في عبارة العيني بمعنى نحو الكيزان (قوله أو دكانا) هو الموضع المرتفع مثل المصطبة عيني (قوله فإن ضر لم يحل) كان عليه أن يقول فإن ضر أو منع لم يحل اه.
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (4/ 488) دار إحياء التراث العربي:
ومن عمر دار زوجته بماله أي بمال الزوج بإذنها أي بإذن الزوجة فالعمارة تكون لها أي للزوجة لأن الملك لها وقد صح أمرها بذلك والنفقة التي صرفها الزوج على العمارة دين له أي للزوج عليها أي على الزوجة لأنه غير متطوع فيرجع عليها لصحة الأمر بقضاء الدين.
وإن عمّرها أي الدار لها أي للزوجة بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة لها أي للزوجة وهو أي الزوج في العمارة متبرع في الإنفاق فلا يكون له الرجوع عليها به وإن عمّر لنفسه بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة له أي للزوج لأن الآلة التي بنى بها ملكه فلا يخرج عن ملكه بالبناء من غير رضاه فيبقى على ملكه فيكون غاصبا للعرصة وشاغلا ملك غيره بملكه فيؤمر بالتفريغ إن طلبت زوجته ذلك كما في التبيين لكن بقي صورة وهي أن يعمر لنفسه بإذنها ففي الفرائد ينبغي أن تكون العمارة في هذه الصورة له والعرصة لها ولا يؤمر بالتفريغ إن طلبته انتهى.
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 592) الناشر: دار الفكر-بيروت:
(أخرج إلى طريق العامة كنيفا) هو بيت الخلاء (أو ميزابا أو جرصنا كبرج وجذع وممر علو وحوض طاقة ونحوها عيني أو دكانا جاز) إحداثه (وإن لم يضر بالعامة) ولم يمنع منه، فإن ضر لم يحل كما سيجيء (ولكل أحد من أهل الخصومة) ولو ذميا (منعه) ابتداء (ومطالبته بنقضه) ورفعه (بعده) أي بعد البناء، سواء كان فيه ضرر أو لا وقيل إنما ينقص بخصومته إذا لم يكن له مثل ذلك وإلا كان تعنتا زيلعي (هذا) كله (إذا بنى لنفسه بغير إذن الإمام) زاد الصفار ولم يكن للمطالب مثله (وإن بنى للمسلمين كمسجد ونحوه) أو بنى بإذن الإمام (لا) ينتقض (وإن كان يضر بالعامة لا يجوز إحداثه)
قال ابن عابدين:[باب ما يحدثه الرجل في الطريق وغيره]
(قوله إلى طريق العامة) أي النافذة الواقعة في الأمصار والقرى دون الطريق في المفاوزة والصحاري؛ لأنه يمكن العدول عنها غالبا كما في الزاهدي، وطريق العامة ما لا يحصى قومه، أو ما تركه للمرور قوم بنوا دورا في أرض غير مملوكة فهي باقية على ملك العامة وهذا مختار شيخ الإسلام والأول مختار الإمام الحلواني كما في العمادي قهستاني (قوله أو جرصنا) بضم الجيم وسكون الراء وضم الصاد المهملة وهو دخيل أي ليس بعربي أصلي فقد اختلف فيه فقيل البرج وقيل مجرى ماء يركب في الحائط. وعن الإمام البزدوي جذع يخرجه الإنسان من الحائط ليبني عليه مغرب. قال العيني: وقيل هو الممر على العلو وهو مثل الرف، وقيل هو الخشبة الموضوعة على جدار السطحين ليتمكن من المرور وقيل هو الذي يعمل قدام الطاقة لتوضع عليه كيزان ونحوها اه (قوله كبرج إلخ) حكاية للأقوال المارة في تفسير الجرصن (قوله ونحوها) هو في عبارة العيني بمعنى نحو الكيزان (قوله أو دكانا) هو الموضع المرتفع مثل المصطبة عيني (قوله فإن ضر لم يحل) كان عليه أن يقول فإن ضر أو منع لم يحل اه.
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (4/ 488) دار إحياء التراث العربي:
ومن عمر دار زوجته بماله أي بمال الزوج بإذنها أي بإذن الزوجة فالعمارة تكون لها أي للزوجة لأن الملك لها وقد صح أمرها بذلك والنفقة التي صرفها الزوج على العمارة دين له أي للزوج عليها أي على الزوجة لأنه غير متطوع فيرجع عليها لصحة الأمر بقضاء الدين.
وإن عمّرها أي الدار لها أي للزوجة بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة لها أي للزوجة وهو أي الزوج في العمارة متبرع في الإنفاق فلا يكون له الرجوع عليها به وإن عمّر لنفسه بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة له أي للزوج لأن الآلة التي بنى بها ملكه فلا يخرج عن ملكه بالبناء من غير رضاه فيبقى على ملكه فيكون غاصبا للعرصة وشاغلا ملك غيره بملكه فيؤمر بالتفريغ إن طلبت زوجته ذلك كما في التبيين لكن بقي صورة وهي أن يعمر لنفسه بإذنها ففي الفرائد ينبغي أن تكون العمارة في هذه الصورة له والعرصة لها ولا يؤمر بالتفريغ إن طلبته انتهى.
محمد نعمان خالد
دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی
18/جمادی الاخرى 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


