| 85973 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسئلہ بھیج رہا ہوں جس میں شوہر اور بیوی کے بیانات مختلف ہیں، ایک طلاق کا مدعی جبکہ دوسرا منکر ہے، برائے کرم اس کا جواب دے کر ممنون فرمائیں۔
بیوی کا بیان:
میرا شوہر باہر ملک میں کام کرتا ہے اور اس کی بہن بھی اس دن اس کے پاس تھی۔ میں نے شوہر کی بہن سے فون پریہ بات کی کہ میں نےکہ آج اپنے بچوں کو کیڑوں والی روٹی دی ہے اور خود بھی کھائی ہے، تو مجھے فون پر شوہر نے کہا جو مجھے سنائی دیا کہ"اگر تو نے اپنے بچوں کو کیڑوں والی روٹی دی ہے تو" (پشتو زبان میں کہا کہ) "طلاق دیرغے" یعنی طلاق دی ہے۔ کئی مرتبہ کہا ہے۔
شوہر کا بیان:
میں نے یہ کہا کہ تم بچوں کو کیڑوں والی روٹی کھلاتی ہو؟ اگر سیدھی نہیں ہوتی ہو تو (جب یہ لفظ میں بول رہا تھا اس وقت بہن نے میرے منہ پر ہاتھ رکھنا چاہا جس سے موبائل گر گیا اور بیوی کو شاید سنائی نہیں دیا جس کی گواہ میری بہن ہے) تو (اس کے بعد کہا) "طلاق دیرغے" یعنی طلاق دوں گا۔ کئی مرتبہ کہا ہے جس سے میری مراد بیوی کو طلاق سے ڈرانا تھا تاکہ وہ سیدھی ہو جائے۔ طلاق کا ارادہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی طلاق دی ہے، اور ان تمام باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں۔
مفتی صاحب!
قرآن و سنت کی روشنی میں اور فقہاء کرام کے نزدیک آیا یہ طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟ جبکہ بیوی طلاق کا دعویٰ کرتی ہے اور شوہر اس کا منکر ہے، نہ کسی نے سنا ہے اور نہ ہی ریکارڈنگ صاف ہے۔ ریکارڈنگ میں شوہر کی آواز صحیح طرح سنائی نہیں دیتی نہ تو وہ بات جو شوہر کہتا ہے اور نہ وہ بات جو بیوی کہتی ہے۔از مولانا مدثر۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
"طلاق دیرغے" کے بارے میں متعلقہ اہلِ زبان سے معلومات لینے سے معلوم ہوا کہ یہ لفظ دھمکی کے لیے استعمال
ہوتا ہے، اور اس سے مراد وقوعِ طلاق نہیں ہوتا۔ شوہر کا بھی دعویٰ یہی ہے کہ اس نے بطور دھمکی یہ لفظ استعمال کیا ہے، جس پر وہ حلف کے لیے بھی تیار ہے۔ بنابریں "طلاق دیرغے" کا ترجمہ "طلاق دی ہے" کے بجائے "طلاق دے دوں گا" بنتا ہے، جس سے طلاق نہیں ہوتی۔ لہٰذا مسئولہ صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
حوالہ جات
فی الدر المختار للحصکفی الحنفی :
أوأنا أطلق نفیس لم یقع لأنہ وعد (الدر المختار علی هامش رد المحتار باب تفویض الطلاق ج: ۲ ص: ۶۵۷۔ط۔س۔ج۳ص۳۱۹(
وھکذا صرح فی العالمگیریۃ بأنہ لا یقع الطلاق بأطلقک لأ نہ وعد.)العالمگیریة مصری کتاب الطلاق ج ۱ ص ۳۸۴(
قال ابن تيمية رحمہ اللہ تعالی :
"الوعد بالطلاق لا يقع، ولو كثرت ألفاظه، ولا يجب الوفاء بهذا الوعد ولا يستحب"
قال محمد المختار الشنقيطي فى شرح زاد المستقنع على الفقه الحنبلي:
أما تعليق الطلاق بالمستقبل كما في الأفعال المضارعة سواء أدخل عليها الأدوات أو الحروف التي تدل على المستقبل أَوْلاً، فإنه لا يقع الطلاق في وقته، إلا إذا كان معلقاً على المستقبل، ويقع بوقوع ما علق عليه، لكن من حيث الأصل: لو قال لها: سوف أطلقك أو تطلقين، فهذا وعد بالطلاق، وهذا كله لا يقع به الطلاق، فالمضارع والمضاف إلى المستقبل لا يقع به الطلاق إلا إذا كان مقيداً بشرط. انتهى.
وفی الدرالمختارعلی ھامش ردالمحتار:
علم انہ حلف ولم یدر بطلاق او غیرہ لغا کما لوشک اطلق ام لا. (ج؍۲،ص؍۴۹۲، باب طلاق غیر مدخول بھا)
قال العلامۃ ابن عابدینؒ:
سئل فی الرجل اذا شک انہ طلق امرأتہ ام لا فھل لایقع علیہ الطلاق الجواب نعم لایقع الطلاق۔ (تنقیح الفتاویٰ الحامدیۃ:ج؍۱،ص؍۳۷، کتاب الطلاق)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
۲١/٦/۱۴۴٦ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


