| 85972 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
درج ذیل صورت حال کے مطابق آپ حضرات ہمیں حاجی نور جمال کے بیٹے عزیز الرحمان کی میراث کا شرعی حکم تحریر فرمائیں کہ کون کون اس کی میراث کے مستحق بنتے ہیں اور کون کون محروم ہوتے ہیں۔
صورتِ حال کی تفصیل یہ ہے کہ حاجی نور جمال کے بیٹے عزیز الرحمان کی وفات سے پہلے اس کے دو بھائی، حبیب الرحمن اور اسلم خان، انتقال کر چکے تھے اور ایک بھائی، حبیب اللہ، زندہ تھا، جبکہ عزیز الرحمن کی خود اپنی کوئی اولاد نہیں ہے، نہ مذکر اور نہ مؤنث۔اب مسئلہ یہ ہے کہ
عزیز الرحمن کی بہنیں اور اس کے تینوں بھائیوں کے بیٹے عزیز الرحمن کی بیوی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عزیز الرحمان کی میراث میں ہمارا بھی حق ہے، لہذا ہمیں اپنا اپنا حصہ دیجیے۔ہم نے آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ
عزیز الرحمن کی میراث میں اس کی بہنوں اور بھتیجوں کا شرعاً کوئی حق بنتا ہے یا نہیں؟جبکہ عزیز الرحمن نے اپنی موت سے پہلے ایک تفصیلی وصیت نامہ لکھوایا ہے (جو منسلک ہے) اور واٹس ایپ میسج بھی ریکارڈ کروایا ہے کہ میری میراث میں میری بیوی اور میرے منہ بولے بیٹے (جو کہ حقیقت میں اس کا بھتیجا ہے) کے علاوہ کسی کا کوئی حق نہیں ہوگا،تاہم یہ وصیت نامہ اور واٹس ایپ میسج اس شدید مرض کی حالت میں لکھوایا ہے جس میں اس کا انتقال بھی ہوا ہے۔
لہذا آپ حضرات مہربانی کر کے بتائیں کہ عزیز الرحمان کی میراث میں اس کی بہنوں اور بھتیجوں کا کوئی حق بنتا ہے یا نہیں؟ اگر بنتا ہے تو اس کی تفصیل تحریر فرمائیں کہ اس کی بیوی کو کتنا حصہ ملے گا، اور منہ بولے بیٹے کو کتنا ملے گا، اور دیگر بھتیجوں اور بہنوں کو کتنا ملے گا؟عزیز الرحمن کی تین بہنیں ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
وصیت چاہے حالتِ صحت میں کی جائے یا مرضِ موت میں، بہرصورت وہ وصیت ہوتی ہے اور شرعاً معتبر ہوتی ہے۔تاہم اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر میت وفات سے قبل اپنے شرعی وارث کے علاوہ کسی اجنبی کے لیے وصیت کرے تو یہ وصیت ترکہ کے ایک تہائی تک نافذ ہوتی ہے، جبکہ بقیہ دو تہائی میں ورثاء کا حق ہوتا ہے۔اور اگر میت وصیت کسی وارث کے لیے کرے تو وہ معتبر نہیں ہوتی۔ البتہ، اگر تمام ورثاء اپنی خوشی سے اجازت دے دیں تو یہ ان کا صوابدیدی اختیار ہوتاہے۔
مذکورہ صورت میں منہ بولے بیٹے کے حق میں وصیت معتبر ہے، کیونکہ وہ وارث نہیں ہے، لیکن بیوی چونکہ وارث ہے، اس لیے اس کے حق میں وصیت معتبر نہیں،الایہ ہےکہ ورثاء اجازت دیں۔
لہذامذکورہ صورت میں اگرورثہ اجازت دیتے ہیں تو ایک تہائی منہ بولے بیٹے اوربیوی کو آدھا آدھا کرکے دیاجائے گااورباقی دوتہائی ورثہ میں تقسیم ہوگاجس میں مرحوم عزیزالرحمن کی بیوی کو وارث ہونے کی حیثیت سے بھی اپنا حصہ ملے گا۔
اوراگرورثہ اجازت نہیں دیتے تو ایک تہائی کاآدھا منہ بولے بیٹے دیاجائے گا اورباقی ایک تہائی کے آدھے میں وصیت باطل ہوگی اوروہ باقی دوتہائی کے ساتھ ملکرورثہ میں تقسیم ہوگا،جس میں وارث ہونے کی حیثیت سے بیوی کوبھی حصہ ملے گا۔
عزیزالرحمن کے وارث صرف حبیب اللہ اور اس کی تین بہنیں ہیں۔ باقی دو بھائی، جو عزیزالرحمن کی زندگی میں ہی وفات پا چکے تھے، ان کی اولاد اورحبیب اللہ کی اولاد﴿جبکہ حبیب اللہ خود زندہ ہو﴾عزیزالرحمن کی میراث میں کسی قسم کا حق نہیں رکھتے۔
عزیزالرحمن کی میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی:
- سب سے پہلے مرحوم عزیزالرحمن کے کفن دفن کے متوسط اخراجات اور قرض ﴿اگرہو﴾کی ادائیگی کی جائے گی۔
- اس کے بعد وصیت کاحصہ ﴿پورا ایک تہائی اگرورثاء نے اجازت دی ہو یا تہائی کاآدھا اگرورثہ نے اجازت نہ دی ہو﴾نکالاجائے گااورجس کےلیے وصیت مرحوم نے کی ہے اس کودیاجائےگا۔
- اس کے بعد جو کچھ بچے گا، اس میں مرحوم کی بیوی کو%25، مرحوم کے بھائی حبیب اللہ کو%30، اور تین بہنوں میں سے ہر بہن کو%15دیا جائے گا۔
- مرحوم کے دو بھائی، حبیب الرحمن ،اسلم خان، اور ان کی اولاد اورحبیب اللہ کی اولاد﴿اگرحبیب اللہ زندہ ہو﴾عزیزالرحمن کی میراث سے محروم ہوں گے۔
حوالہ جات
صحیح البخاری: (رقم الحدیث: 2744، 3/4، ط: دار طوق النجاة)
عن عامر بن سعد، عن أبيه رضي الله عنه، قال: مرضت، فعادني النبي صلى الله عليه وسلم، فقلت: يا رسول الله، ادع الله أن لا يردني على عقبي، قال: «لعل الله يرفعك وينفع بك ناسا»، قلت: أريد أن أوصي، وإنما لي ابنة، قلت: أوصي بالنصف؟ قال: «النصف كثير»، قلت: فالثلث؟ قال: «الثلث، والثلث كثير أو كبير»، قال: فأوصى الناس بالثلث، وجاز ذلك لهم.
مصنف عبد الرزاق: (70/9، ط: المکتب الاسلامی)
عن عمرو بن خارجة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا وصية لوارث»
الھندیۃ: (90/6، ط: دار الفکر)
تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية۔۔۔۔ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة، ولو أوصى لوارثه ولأجنبي صح في حصة الأجنبي ويتوقف في حصة الوارث على إجازة الورثة إن أجازوا جاز وإن لم يجيزوا بطل ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي حتى كان لهم الرجوع بعد ذلك، كذا في فتاوى قاضي خان.
سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط (4/ 14)
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "إن الله تصدق عليكم عند وفاتكم بثلث أموالكم، زيادة لكم في أعمالكم"
فيض القدير (2/ 220)
إن الله تصدق عليكم عند وفاتكم بثلث أموالكم) أي مكنكم من التصرف فيها حالتئذ بالوصية وغيرها فتصح الوصية بالثلث ولو مع وجود وارث خاص ومخالفته (وجعل ذلك زيادة لكم في أعمالكم) فأجر الوصية بذلك من أعمال الميت التي يثاب عليها.
قال في كنز الدقائق :
"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..." (ص:696, المكتبة الشاملة)
{وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ } [النساء: 12]
المبسوط للسرخسي (29/ 142)
إذا لم يكن هناك ولد للميت لصلبه فكل ذكر يعصب الأنثى في استحقاق جميع المال بالاتفاق يعصبها في استحقاق ما بقي كالأخ مع الأخوات في درجة واحدة.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
۲١/٦/۱۴۴٦ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


