03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاقیں  دینے سے  تین ہی واقع ہوتی ہیں 
86022طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

ایک لڑکے مسمیٰوهاب انجم نے اپنی زوجہ مسماة عاتکہ کو ایک طلاق دی،کچھ دیر کے بعد لڑکی کے چچا نے بیچ میں آ کر صلح کروا دی اور لڑکے نے رجوع کر لیا، پھر اس واقعہ کے تقریبا ایک یا دو ہفتے   بعد وهاب انجم نے اپنی زوجہ عاتکہ کے والداوردادی کی موجودگی میں عاتکہ کو دو طلاقیں دے دیں، طلاق کی ادائیگی کے الفاظ یہ تھے : میں نے پہلےایک  دی تھی تو لو آج میں پھر طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں ۔   

اس واقعہ کے کچھ ماہ بعد اس لڑکے نے اہلِ حدیث حضرات سے فتویٰ لیا کہ طلاق نہیں ہوئی  ہے (واضح  رہے کہ لڑکی والوں کو مذکورہ فتویٰ کی کوئی نقل فراہم نہیں کی گئی )، لیکن لڑکی کے خاندان والے چونکہ مسلکِ احناف کے تابع ہیں، اس لیے انہوں نے اس فتویٰ کو ماننے سے انکار کر دیا،اس کے بعد لڑکے نے اس فتویٰ کو بنیاد بنا کر عدالت میں کیس دائر کیا ہے کہ چونکہ طلاق نہیں ہوئی ہے، لہٰذا مجھے رجوع کا حق حاصل ہے۔

آپ سے درخواست ہے کہ دلائل شرعیہ  و نقلیہ  کی بنیاد پر رہنمائی  فرمائیں کہ  آیا تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں یا نہیں ہوئیں ؟ اور کیا تین  طلاقیں  دینے کے بعد بھی شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں پہلی طلاق  سے رجوع کے بعدشوہر کےیہ الفاظ کہ میں نے پہلےایک  دی تھی تو لو آج میں پھر طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں  کہنے سےدو اور طلاقیں واقع ہوکر کل تین طلاقیں مغلظہ ہو گئیں،اب نہ رجوع ہو سکتاہےاور نہ موجودہ حالت میں آپس میں نکاح  ہو سکتاہے،البتہ اگر بیوی عدت گزار کر کسی اور شخص سےنکاح کرے،اور  اس سے ازدواجی تعلق قائم کرنے کے بعد اگر وہ شوہر فوت ہوجائے یا اسے طلاق دے دے تو اس کی عدت گزارنے کے بعدپھر اس پہلے شوہر کے ساتھ دونوں کی  رضامندی سے نکاح ہو سکے گا،اس  سے پہلےنہ  اس شوہر سے ازدواجی تعلق رکھنا  جائز ہےاور نہ  ہی دوبارہ    نکاح کرنا جائز  ہے۔  

واضح رہے کہ تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں،چاہے ایک مجلس میں دی ہوں یا الگ الگ دی ہوں ، قرآن وسنت سے یہی ثابت ہے،  بلکہ  تیسری طلاق کے بعد شرعی حلالہ کے بغیر بیوی کے حلال نہ ہونے کا حکم قرآن  کریم اور احادیثِ مبارکہ میں صریح اوربالکل  واضح ہے،فقہ کے چاروں امام یعنی امام ابو حنیفہ،امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کا متفقہ مذہب یہی ہے کہ تین طلاقیں دینے سے تین ہی واقع ہوتی ہیں ،نیز اس پرحضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے زمانے سے اجماع چلا آرہا ہے،جو اس کے خلاف کہتے ہیں وہ غلطی پر ہیں،ان کے کہنے سے یا عدالت کے غلط فیصلے سےحرام حلال نہیں ہوگا،بلکہ شوہر کا تین طلاقیں دینے کے بعد غلط فتویٰ کو بنیاد بنا کر  عدالت کے ذریعے رجوع  کے لیے اقدام کرنا  سخت ظلم اور  گناہ کا باعث  ہے ،کیونکہ یہ معاملہ بندے کے حق کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے حق کا بھی ہے، لہٰذا اس غلط فتویٰ پر عمل کرنا شوہر اور بیوی دونوں میں سے کسی کے لیے جائز نہیں ،شوہر کا حقِ رجوع ختم ہو چکا ہےاور اب وہ  کسی صورت میں   اس کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔

حوالہ جات

القرآن الكريم (البقرة: 229، 230):

الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (229) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ .

 صحيح البخاري (7/ 43):

وقال أهل العلم: إذا طلق ثلاثا فقد حرمت عليه، فسموه حراما بالطلاق والفراق، وليس هذا كالذي يحرم الطعام، لأنه لا يقال لطعام الحل حرام، ويقال للمطلقة حرام. وقال (اللہ تعالیٰ) في الطلاق ثلاثا: "لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره ".

5264 - وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي ﷺ أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (20/ 233):

ومذهب جماهير العلماء من التابعين ومن بعدهم منهم: الأوزاعي والنخعي والثوري وأبو حنيفة و أصحابه ومالك وأصحابه ومالك وأصحابه والشافعي وأصحابه وأحمد وأصحابه، وإسحاق و أبو ثور وأبو عبيد وآخرون كثيرون، عل أن من طلق امرأته ثلاثا وقعن، ولكنه يأثم، وقالوا: من خالف فيه فهو شاذ مخالف لأهل السنة، وإنما تعلق به أهل البدع ومن لا يلتفت إليه لشذوذه عن الجماعة التي لا يجوز عليهم التواطؤ على تحريف الكتاب والسنة.

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5/ 2147،2146):

 وأما إمضاء عمر الثلاث عليهم فلا يمكن مع عدم مخالفة الصحابة له مع علمه بأنها كانت واحدة إلا وقد اطلعوا في الزمان المتأخر على وجود ناسخ، هذا إن كان على ظاهره، أو لعلمهم بانتهاء الحكم لذلك لعلمهم بإناطته بمعان علموا انتفاءها في الزمن المتأخر، فإنا نرى الصحابة تتابعوا على هذا ،و لا يمكن وجود ذلك منهم مع اشتهار كون حكم الشرع المتقرر كذلك أبدا، فمن ذلك ما أوجدناك عن عمر وابن عباس وأبي هريرة...أما أولا: فإجماعهم ظاهر، فإنه لم ينقل عن أحد منهم أنه خالف عمر حين أمضى الثلاث، وليس يلزم في نقل الحكم الإجماعي عن مائة نفس أن يسمي كلا، ليلزم في مجلد كبير حكم على أنه إجماع سكوتي، وأما ثانيا: فإن العبرة في نقل الإجماع نقل ما عن المجتهدين لا العوام، والمائة الذي توفي عنهم  ﷺ  لا يبلغ عدة المجتهدين الفقهاء منهم أكثر من عشرين: كالخلفاء و العبادلة، وزيد بن ثابت، ومعاذ بن جبل، وأنس، وأبي هريرة، وقليل، والباقون يرجعون إليهم و يستفتون منهم، وقد أثبتنا النقل عن أكثرهم صريحا بإيقاع الثلاث، ولم يظهر لهم مخالف، فماذا بعد الحق إلا الضلال، وعن هذا قلنا لو حكم حاكم بأن الثلاث بفم واحد واحدة، لم ينفذ حكمه ؛ لأنه لا يسوغ الاجتهاد فيه فهو خلاف لا اختلاف، والرواية عن أنس بأنها ثلاث أسندها الطحاوي وغيره.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:3/ 233):

وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث...وقد ثبت النقل عن أكثرهم صريحا بإيقاع الثلاث ولم يظهر لهم مخالف {فماذا بعد الحق إلا الضلال} [يونس: 32] وعن هذا قلنا لو حكم حاكم بأنها واحدة لم ينفذ حكمه لأنه لا يسوغ الاجتهاد فيه فهو خلاف لا اختلاف وغاية الأمر فيه أن يصير كبيع أمهات الأولاد أجمع على نفيه وكن في الزمن الأول يبعن اهـ ملخصا.

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (9/ 6934):

وقال القرطبي: وحجة الجمهور من جهة اللزوم ظاهرة جداً: وهو أن المطلقة ثلاثاً لا تحل للمطلق

حتى تنكح زوجاً غيره، ولا فرق بين مجموعها ومفرقها لغة وشرعاً.

محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

  21/جمادی الثانیہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب