| 86075 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
ہماری بولٹن مارکیٹ میں کپڑے کی دوکان تھی، میں نے اپنے کاروبار کو بڑھانے کےلئے انویسٹر ڈالے، ان انویسٹروں میں ایک انویسٹر بھائی احمد بھی تھے، 8 اگست 2016 کو ان کیسا تھ میرا ایک تحریری معاہدہ ہوا ، وہ معاہدہ یہ تھا کہ ہم بھائی احمد سے کپڑے کے کاروبار کے لئے پیسے لیں گے اور اس کپڑے کو فروخت کرنے کے بعد جو بھی نفع ہوگا اس کا 60 فیصد بھائی احمد کا اور 40 فیصدنفع ہمارا ہوگا۔ چنانچہ شروعات 10 لاکھ روپے کی انویسٹمنٹ سے ہوئی اور دس لاکھ روپے کا ہم نے کپڑا خریدا اور اس کا جو نفع بنا وہ فیصد کے اعتبار سے تقسیم کر دیا گیا، آہستہ آہستہ انویسٹمنٹ میں اضافہ ہوتا رہا حتی کہ ٹوٹل انویسٹمنٹ کافی زیادہ ہو گئی۔
شروع میں تو باقاعدہ طور پر ان کے پیسے سے ہم مال خرید کر اس کو فروخت کرتے رہے، لیکن کچھ عرصہ یعنی تقریباً ڈیڑھ سال کے بعد ہم نے باقاعدہ طور پر جس طرح الگ سے ان کیلئے کپڑا خریدتے تھے اس طرح نہ خریدسکے اور ان کے پیسوں کو دوکان کی رولنگ میں شامل کر دیا اور اس کے بعد ان کو جو بھی نفع دیا جاتا تھا۔ وہ ایک اندازے سے ہر ماہ کے آخر میں ہم دے دیتے تھے۔یہ سلسلہ کئی سال تک اسی طرح چلتا رہا ، 2019ء کو ہم نے کپڑے کا کام چھوٹے بھائی کےحوالہ کر دیا اور میں اور احمد ماربل کے کا کام میں چلے گئے۔2024ء میں میرے چھوٹے بھائی نے دوکان میں بہت بڑا نقصان کر دیا اور یہ نقصان تقریباً 5 کروڑ روپے کا تھا۔ اور اس نقصان کی وجہ سے ہمارا سارا کاروبار برباد ہو گیا، ہمارے پاس جو کچھ جمع پونجی تھی، جو پراپرٹیز کی شکل میں تھی، وہ سب ہم نے بیچ دی اور 20 سال پیچھے چلے گئے ہیں، لیکن ابھی بھی ہم قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں، اس ساری صور تحال کے پیش نظر بھائی احمد نے بھی اپنے پیسوں کا زور و شور سے ہم سے مطالبہ کیا اور باقاعدہ طور پر۱۸ افراد کے گروپ کے ساتھ ہمارے گھر پر پیسے لینے آئے تھے۔براہ کرم شریعت کی رو سے فرمائیں کہ میرے اور احمد بھائی کے درمیان جو کاروبار ہوا ہے اس کا روبار کی کیا نوعیت ہے ؟ اور اس کا حکم کیا ہے؟جو نفع اندازہ سے دیا گیا ہے اس کا کیا حکم ہے ؟ مزید یہ کہ اب ہمارا کام اورکاروبار مکمل طور پر تباہ ہوگیاہے۔ اس نقصان میں بھائی احمد ہمارے ساتھ شریک ہوں گے یا نہیں ؟
وضاحت: سائل نے بتایا کہ احمد بھائی کی سرمایہ کی رقم ہمارے پاس مثلا ساٹھ ہزار تھی، شروع میں ہم ان کی رقم کا کپڑا علیحدہ خرید کر علیحدہ ہی رکھتے تھے اور حاصل شدہ نفع فیصد کے حساب سے تقسیم کرتے تھے، اس کے بعد جب کاروبار بڑھ گیا تو ہم نے اپنے سرمایہ کے ساتھ ہی ان کی رقم لگا لی، البتہ نئے سرے سے نفع کی شرح طے نہیں کی، بلکہ پہلے سے طے شدہ نفع کی شرح کے مطابق معاملہ جاری رکھا اور اس شرکت کے معاملے کا ان کو بھی علم تھا، چنانچہ اس کے بعد ان کے حصہ کا نفع ہم اپنے کاروبار میں دوبارہ انویسٹ کرتے رہے، البتہ کبھی کبھار کچھ نفع وہ خودوصول کر لیتے تھے۔ باقی سائل سے نقصان کی تفصیل نہیں بتائی کہ یہ اتنا بڑا نقصان کیسے ہوا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق جب آپ احمد بھائی کی رقم کے عوض کپڑا خرید کر علیحدہ رکھتے تھے اور اس سے حاصل شدہ نفع طے شدہ تناسب سے تقسیم کرتے تھے اس وقت یہ مضاربت کا معاملہ تھا، اس کے بعد جب آپ نے ان کی رقم اپنے مال کے ساتھ کاروبار میں لگا لی اور اس بات کا ان کو بھی علم تھا اس کے باوجود وہ خاموش رہے اور پہلے سے طے شدہ نفع کی شرح بھی فریقین کے علم میں تھی، اس لیےیہ معاملہ شرعی اعتبارسے مضاربت سے شرکت میں تبدیل ہو گیا اور شرکت کا اصول یہ ہے کہ نفع طے شدہ تناسب کے حساب سے اور نقصان کی صورت میں ہر فریق اپنے سرمایہ کے تناسب سے برداشت کرتا ہے، البتہ نقصان کی صورت میں سب سے پہلے نفع سے نقصان کو پورا کیا جاتا ہے اور نفع میں شرکت کے شروع سے لے کر نقصان ہونے تک تمام نفع شمار کیا جائے گا اگر اس نفع سے نقصان کی تلافی نہ ہو تو پھر اصل سرمایہ اسے اس کو پورا کیا جاتا ہے۔
لہذا مذکورہ صورت میں اگر آپ کے بھائی کی تعدی اور کوتاہی کے بغیر یہ نقصان ہوا ہے تو ہرفریق اپنے سرمایہ کے تناسب سے مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق نقصان برداشت کرنے کا ذمہ دار ہو گا اور اگر اس کی کوتاہی، غفلت اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے یہ نقصان ہوا ہے تو یہ اس کی طرف سے تعدی شمار ہو گی اور ایسی صورت میں آپ کا بھائی ہی تمام نقصان کا ذمہ دار ہو گا، دیگر شرکاء اس نقصان کے ذمہ دار نہیں ہوں گے، باقی آپ کے بھائی کی طرف سے تعدی اور کوتاہی ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ اس طرح کے کاروبار کا تجربہ رکھنے والے ماہر اور دیندار کاروباری حضرات معاملے کی چھان بین کر کےکریں گے۔
حوالہ جات
مجلة الأحكام العدلية (ص: 254) الناشر: نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، كراتشي:
المادة (1330) ركن شركة العقد الإيجاب والقبول لفظا أو معنى. مثلا إذا أوجب أحد بقوله لآخر: شاركتك بكذا درهما رأس مال للأخذ والإعطاء وقبل الآخر بقوله قبلت فبما أنهما إيجاب وقبول لفظا فتنعقد الشركة , وإذا أعطى أحد ألف درهم لآخر وقال له: ضع أنت ألف درهم عليها واشتر مالا وفعل الآخر مثل ما قال له فتنعقد الشركة لكونه قبل معنى.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام(341/3)الناشر: دار الجيل:
وإذا أعطى أحد ألف درهم لآخر وقال له: ضع أنت ألف درهم عليها واشتر كذا نوعا مالا وبعه على أن يكون الربح بيننا مشتركا بكذا نسبة وفعل مثل ما قال له أي وضع أيضا ألف درهم واشترى مالا فيكون قد قبل معنى وفي هذه الصورة يكون قد وقع الإيجاب لفظا والقبول معنى وانعقدت بينهما شركة عنان.
مجلة الأحكام العدلية (ص: 263) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:
المادة (1369) الضرر والخسارة التي تحصل بلا تعد ولا تقصير تقسم في كل حال بنسبة مقدار رءوس الأموال , وإذا شرط خلاف ذلك فلا يعتبر.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام(389/3)الناشر: دار الجيل:
الضرر والخسارة التي تحصل بلا تعد ولا تقصير تقسم في كل حال أي أنه لو شرط خلاف ذلك سواء في الشركة الصحيحة أو الفاسدة، بنسبة مقدار رءوس الأموال وإذا شرط انقسامها على وجه آخر فلا يعتبر أي أن شرط تقسيم الوضيعة والخسارة على وجه آخر باطل حيث قد ورد في الحديث الشريف «الربح على ما شرطا والوضيعة على قدر المالين» (مجمع الأنهر) من غير فصل بين التساوي والتفاضل (الدر المنتقى) .
محمد نعمان خالد
دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی
18/جمادی الاخرى 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


