| 85990 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میری ایک پھوپھو کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے، ان کی کوئی اولاد نہیں، شوہر، والدین، دادا، دادی، نانی، اکلوتے بھائی اور دو بہنوں کا ان کی زندگی میں انتقال ہوچکا تھا، اب ان کی صرف دو بہنیں، ایک بھتیجا اور دو بھتیجیاں زندہ ہیں۔ میری پھوپھو کے نام کچھ پراپرٹی اور کچھ رقم ہے جس کا بٹوارہ کرنا ہے۔ میں نے مطالعہ کیا ہے، سورۃ النساء کی آیت نمبر 176کے حساب سے میراث میں سے دو تہائی حصّہ دو زندہ بہنوں میں تقسیم ہوگا، جبکہ باقی ایک حصّہ حدیث کے مطابق قریبی مرد کو ملے گا۔ کیا یہ درست ہے؟ میراث کن لوگوں میں تقسیم ہوگی؟ مرحومہ کا قریبی مرد اس کا اکلوتا بھتیجا شمار ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کی پھوپھو مرحومہ نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں مذکورہ پراپرٹی اور رقم سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ،نقد رقم، سونا، چاندی، مالِ تجارت غرض ہر طرح کا چھوٹا بڑا جو بھی سازوسامان چھوڑا ہے یا اگر مرحومہ کا کسی شخص یا ادارے کے ذمے کوئی قرض واجب ہو، وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے۔ اس میں سے:
- سب سے پہلے مرحومہ کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں گے، البتہ اگر یہ اخراجات ان ہی کے مال سے کیے گئے تھے یا کسی نے اپنی طرف سے بطورِ احسان کیے تھے تو پھر دوبارہ ترکہ سے نہیں نکالے جائیں گے۔
- اس کے بعد اگر مرحومہ کے ذمہ کسی کا قرض واجب الادا ہو تو اس کو ادا کیا جائے گا۔
- اس کے بعد اگر مرحومہ نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) تک اس پر عمل کیا جائے گا۔
- اس کے بعد جو کچھ بچ جائے گا، اس کو کُل تین حصوں میں تقسیم کر کےدو بہنوں اور ایک بھتیجے میں سے ہر ایک کو ایک، ایک حصہ دیا جائے گا، بھتیجیوں کو کچھ نہیں ملے گا۔
حوالہ جات
القرآن الکریم:
{يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا وَلَدٌ فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَنْ تَضِلُّوا وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ} [النساء: 176]
صحيح البخاري (8/ 150)
6732 - حدثنا موسى بن إسماعيل حدثنا وهيب حدثنا ابن طاوس عن أبيه عن ابن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ألحقوا الفرائض بأهلها، فما بقي فهو لأولى رجل ذكر .
السراجي فی المیراث (25):
أحوال الأخوات لأب وأم: وأما للأخوات لأب وأم فأحوال خمس: النصف للواحدة، والثلثان للاثنتین فصاعدة….. الخ
السراجی فی المیراث (38-35):
العصبات النسبیة ثلاثة: عصبة بنفسه، وعصبة بغیره، وعصبة مع غیره.
أما العصبة بنفسه فکل ذکر لا تدخل فی نسبته إلی المیت أنثی، وهم أربعة أصناف: جزء المیت، و أصله، وجزء أبیه، وجزء جده، الأقرب فالأقرب، یرجحون بقرب الدرجة، أعنی أولاهم بالمیراث جزء المیت ای البنون ثم بنوهم وإن سفلوا، ثم أصله أی الأب ثم الجد أی أب الأب وإن علا، ثم جزء أبیه أی الإخوة ثم بنوهم وإن سفلوا، ثم جزء جده أی الأعمام ثم بنوهم وإن سفلوا. ثم یرجحون بقوة القرابة، أعنی به أن ذا القرابتین أولی من ذی قرابة واحدة ذکراً کان أو أنثی؛ لقوله علیه السلام "إن أعیان بنی الأم یتوارثون دون بنی العلات" کالأخ لأب وأم أو الأخت لاأب وأم إذا صارت عصبة من البنت أولی من الأخ لأب والأخت لأب، وابن الأخ لأب وأم أولی من ابن الأخ لأب، وکذلك الحکم فی أعمام المیت، ثم فی أعمام أبیه، ثم فی أعمام جده.
وأما العصبة بغیره فأربع من النسوة، وهن اللاتی فرضهن النصف والثلثان، یصرن عصبة بإخوتهن کما ذکرنا فی حالاتهن، ومن لا فرض لها من الإناث وأخوها عصبة لا تصیر عصبة بأخیها کالعم والعمة، المال کله للعم دون العمة.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
21/جمادی الآخرۃ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


