03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بینک الامارات دبئی الوطنی(emirates NBD) کے مروجہ کریڈٹ کارڈ کا حکم
85978سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

دبئی کا نیشنل بینک NBD بینک الامارات دبئی الوطنی،دبئی میں بزنس کرنے والے شرکاء (Partners) کوکریڈٹ کارڈجاری کرتا ہے، جس کے ذریعے وہ کلائنٹ کو قرض دیتا ہے اور یہ قرض دو قسم کا ہوتا ہے:

(۱)اس کارڈ پر سودی قرضہ دیا جاتا ہے۔(۲)اس کارڈ پر سود کے بغیر قرضہ دیا جاتا ہے۔

اب دوسری صورت میں،جہاں سود کے بغیر قرضہ دیا جاتا ہے، وہاں بینک شروع میں ایک بار پروسیسنگ فیس لیتا ہے، اور یہ فیس قرض کی مقدار کے مطابق متعین کی جاتی ہے، پھر قرض واپسی کے لیے ایک مدت متعین کی جاتی ہے، تاہم اگر کلائنٹ مقررہ مدت میں قرض ادا نہیں کر پاتا تو بینک سے رابطہ کر کے قرض کو قسطوں کے ذریعے ادا  کرنے کی درخواست بھی کر سکتا ہے، لیکن اگر کلائنٹ وہ اقساط وقت پر ادا نہ کرے تو اس پر چارجزلاگوہوجاتے ہیں،اب درج ذیل باتوں کے متعلق شرعی حکم مطلوب ہے:

کیا اس بینک سے بوقت اشد ضرورت کریڈٹ کارڈ پر اس نیت سے قرض لینا جائز ہے کہ واپسی کی متعین مدت ختم ہونے سے پہلے قرض ادا کر دوں گا تاکہ لیٹ پیمنٹ کی  وجہ سے جو چارجز لاگوہوتےہیں، وہ نہ ہوں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بینک الامارات دبئی الوطنی(emirates NBD) کی ویب سائٹ دیکھنے سے معلوم ہوا کہ ان کی شریعہ کمپلائنٹ پروڈکٹس میں کریڈٹ کارڈ شامل نہیں ہے،اس لیے کہ جو فتاوی ان کی ویب سائٹ پر موجود ہیں وہ کریڈٹ کارڈ کے علاوہ دیگر پروڈکٹس سے متعلق ہیں،اسی طرح شریعہ کمپلائنٹ کریڈٹ کارڈ کے نام سے ان کی ویب سائٹ پر کوئی پروڈکٹ بھی نہ مل سکی،اس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ بینک کا کریڈٹ کارڈ کنوینشنل کریڈٹ کارڈہی ہے،اور کنوینشنل کریڈٹ کارڈ کا حکم درج ذیل ہے:

بلاضرورت شدیدہ مروجہ (conventional)کریڈٹ کارڈ بنوانا اوراستعمال کرناشرعاًجائزنہیں،کیونکہ اس میں سودکی بنیادپرمعاہدہ ہوتاہے،تاہم اگرکسی جگہ ضرورت ہوکہ اس کے بغیر شدید حرج لازم آتا ہواورڈیبٹ کارڈ وغیرہ سےکام نہ چل سکتاہوتواس صورت میں جائز مقاصد کےلیےکریڈٹ کارڈکےاستعمال کی درج ذیل شرائط کےساتھ اجازت  ہوگی:

۱۔کسٹمروقت معین سے پہلےپہلےقرض کی ادائیگی کااہتمام کرےتاکہ سود عائدہونےکاامکان باقی نہ رہے۔

۲۔کسٹمراس کارڈ کو غیر شرعی امورمیں استعمال نہ کرے۔

۳۔اگرضرورت ڈیبٹ کارڈ سے پوری ہورہی ہوتوکریڈٹ کارڈ استعمال نہ کرے۔

صورت مسئولہ میں اگرمذکورہ بالا شرائط کو ملحوظ رکھ کر بینک سےکریڈٹ کارڈ لیاجائےتواس کواستعمال کیاجاسکتاہے،ایسی صورت میں بینک کی طرف سےجوچارجز پروسیسنگ فیس کی مدمیں وصول کیےجاتےہیں،اگر وہ حقیقی اخراجات کی حد تک ہوں توان کاحکم اجرت کا ہوگا،یہ سودکےزمرےمیں نہیں آتے،لہٰذاان کی ادائیگی جائزہے۔

نوٹ:اگر بینک کا دعویٰ یہ ہے کہ مذکورہ کریڈٹ کارڈ شریعہ کمپلائنٹ ہےتواس کا مکمل اسٹرکچر ،مجلس شرعی کے فتویٰ کے ساتھ دوبارہ دارالافتاء بھیج کر حکم معلوم کرلیں۔

حوالہ جات

("المعاییر الشرعیۃ"رقم ۲،المادۃ ۴/۲)

یجو زللمؤسسات المصدرۃ للبطاقۃ ان تتقاضی عمولۃ من قابل البطاقۃ بنسبۃ من ثمن السلع والخدمات۔

یجوز للمؤسسات المصدرۃ للبطاقۃ ان تتقاضی من حامل البطاقۃ رسم عضویۃ ،ورسم تجدید،ورسم استبدال ۔("المعاییر الشرعیۃ"رقم ۲،المادۃ ۴/۳)

("المعاییرالشرعیۃ"رقم ۱۹،المادۃ ۹/۱)

یجوز للمؤسسۃ المقرضۃ أن تاخذ علی خدمات المقروض مایعادل مصروفاتہا الفعلیۃالمباشرۃ ،ولا یجوز لہا أخذ زیادۃ علیہا،وکل زیادۃ علی المصروفیات الفعلیۃ محرمۃ.ویجب ان تتوخی الدقۃ فی تحدید المصروفات الفعلیہ بحیث لا یؤدی الی زیادۃ تئول  الی فائدۃ .والاصل أن یحمل کل قرض  بتکلفتہ الخاصۃ بہ الا اذا تعسرذالک،کمافی اوعیۃ الاقراض المشترکۃ ،فلامانع من تحمیل التکالیف الاجمالیۃ  االمباشرۃ عن جمیع القروض علی اجمالی المبالغ.

("المعاییر الشرعیۃ"رقم ۲،[۳])

یجوز للمؤسسات اصدار بطاقۃ الحسم الفوری مادام حاملھا یسحب من رصیدہ،ولایترتب علی التعامل بھا فائدۃ ربویۃ ۔

یجوز اصدار بطاقۃ الاتمان والحسم الآجل بالشروط الآتیۃ :

۳/۲/۱۔ألایشترط علی حامل البطاقۃ فوائدربویہ فی حال تأخرہ عن سداد المبالغ المستحقۃ علیہ ۔

۳/۲/۳۔أن تشترط المؤسسۃ علی حامل البطاقۃ عدم التعامل بھا فیماحرمۃ الشریعۃ ،وأنہ یحق للمؤسسۃ سحب البطاقۃ فی تلک الحالۃ ۔

۳/۳۔ولایجوز للمؤسسات اصدار بطاقات الائتمان ذات الدین المتجدد الذی یسددہ حامل البطاقۃ علی أقساط آجلۃ بفوائد ربویۃ .

  محمد حمزہ سلیمان

     دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

       ۲۱.جمادی الآخرۃ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب