03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح کے لیے صحیح عمرکیاہے؟
86015نکاح کا بیانمحرمات کا بیان

سوال

شریعت کی روشنی میں لڑکے کے نکاح کے لیے اصل عمر کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرعاشادی کی کوئی عمر مقررنہیں ،والدین اپنے بچوں کانکاح بالغ ہونے سے پہلے بھی کرسکتے ہیں ،لیکن بہتر یہ ہے کہ بالغ ہونے کے بعدجلد ازجلد نکاح کیاجائے ،اوربالغ ہونے کے بعد اگرشادی کے بغیرگناہ میں مبتلاہونے کاخطرہ ہوتوشادی کرناواجب ہے ورنہ کسی وقت بھی کرسکتے ہیں ،البتہ ماحول کی گندگی سے پاک دامن رہنے کے لئے جلدشادی کرنابہرحال افضل ہے ۔مناسب رشتے کی تلاش کی وجہ سے اگرکچھ تاخیر ہوجائے توکوئی حرج نہیں ،لیکن جب مناسب رشتہ مل جائے تورسم ورواج کی وجہ سے تاخیر کرناجائزنہیں ،حدیث میں آتاہے کہ تین جیزوں میں تاخیرنہ کی جائے :

1.  نمازکاجب وقت آجائے ۔

2.  جنازہ جب حاضرہوجائے ۔

3. جب کسی غیرشادی شدہ کارشتہ مل جائے ۔

حوالہ جات

قال اللہ تبارک وتعالی فی سورۃ النورآیت32 :

وأنکحواالاأیامی منکم والصالحین من عبادکم وإمائکم الخ .

)تفسیرجلالین"/170 (

قال اللہ تعالی :حتی إذابلغواالنکاح ۔قال السیوطی :أی صارأھلالہ بالاحتلام أوالسن وھواستکمال خمسۃ عشرۃ سنۃ ۔

)ردالمحتارعلی الدرالمختار:285/2 (

ویزوجھاکفوافإن خطبھاالکفولایؤخرھاوھوکل مسلم تقی۔

)اعلاء السنن :76/11(

وعن علی رضی اللہ عنہ مرفوعاثلاث لاتؤخرالصلاۃ إذاأتت والجنازۃ إذاحضرت والأیم إذاوجدت لہاکفوا.أخرجہ الترمذی.

)مشکوۃ المصابیح : 2/271 (

وعن عمربن الخطاب وانس بن مالک عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال فی التوراۃ مکتوب من بلغت ابنتہ اثنتی عشرۃ سنۃ ولم یزوجہافأصابت إثمافإثم ذالک علیہ ۔

)مشکوۃ المصابیح : 2/271(

عن ابی سعید ابن عباس مرفوعامن ولد لہ ولد فلیحسن اسمہ وأدبہ وإذابلغ فلیزوجہ فإن بلغ ولم یزوجہ فأصابہ إثمافإنماإثمہ علی أبیہ .

محمد ادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

21 جماد الثانیہ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب