03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیٹے کی شادی میں تاخیر
86016نکاح کا بیانمحرمات کا بیان

سوال

اگر ایک لڑکا نکاح کا خواہش مند ہو، اپنی بیوی کے نفقے کا انتظام آرام سے کر سکتا ہو، لیکن والدین بلا وجہ نکاح میں تاخیر کر رہے ہوں اور اس تاخیر کے باعث گناہ کا اندیشہ ہو، تو کیا والدین اس گناہ کے ذمہ دار ہوں گے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب لڑکا بالغ ہو جائے تو والدین کو چاہیے کہ جلد از جلد اس کے جوڑ کا مناسب رشتہ تلاش کرکے اس کا نکاح کر دیں، بشرطیکہ لڑکا اپنی بیوی کا نفقہ ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہو یا کوئی اور (جیسے والد وغیرہ) اس کے اور اس کی بیوی کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے تیار ہو۔ اگر لڑکے کے گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو،لیکن والدین بلا کسی معقول عذر کے اس کی شادی میں غیر ضروری تاخیر کریں، تو ایسی صورت میں اگر لڑکا گناہ میں مبتلا ہو جائے تو والدین بھی اس کے ذمہ دار ہوں گے۔

حوالہ جات

'' وعن أبي سعيد وابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه فإذا بلغ فليزوّجه، فإن بلغ ولم يزوّجه فأصاب إثماً فإنما إثمه على أبيه»''. (مشكاة المصابيح (2/ 939)

محمد ادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

21 جماد الثانیہ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب