03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بچوں کی تربیت کی وجہ سے شوہر سے الگ گھر کا مطالبہ کرنا
86040جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

 میرا نام فاطمہ ہے،میری اور میرے شوہر کی ایک دوسرے سے دوسری شادی کو چھ برس ہو چکے ہیں،ہم دونوں کے پہلی شادی سے ایک ایک بیٹا ہے،میرا بیٹا 17 سال کا اور انکا بیٹا 7 سال کا ہے،ہم دونوں کی مزیددو اولادیں ہیں ۔ مسئلہ کچھ یوں ہے کہ میرے سسرال والے اخلاقاً بہت خراب ہیں،شادی کے تین سال میں ان کے ساتھ ہی رہی،خوب خدمت کرتی،ہر ایک،خاص کرساس کو ماں سے زیادہ عزت دیتی،میرے سسر ہر وقت مجھے برا بھلا کہتے رہتے، گالم گلوچ طعنے اور طلاق یا شوہر کی دوسری شادی کی دھمکیاں معمول تھا۔ میرے بچے سے چیزیں چھینا، خود سامان تو ڑ کر اس پر الزام لگانا،لونڈے باز جیسے نام سے بلانا۔

شوہر کا بیٹا داؤد پہلے اپنی ماں کے پاس تھا،لیکن میرے بچے کی پیدائش سے چند دن قبل ہمارے پاس آگیا ۔ بیچ میں بھی آکر ملتا تھا اور ہم اسے پیار کرتے تو میری ساس اُسے خود سے چپکا لیتی تھیں ۔ میں بچے داؤد کی ہر ضرورت پوری کرتی تھی، اسے پیار نہیں کرسکتی تھی،صرف اس کے والد کی موجودگی میں ہی ایسا ممکن ہوتا تھا،میری تیسری اولاد پر میرے سسرنے حد ہی کر دی،اب وہ مجھ پرگندےالزامات لگانے لگے اور میرے بچوں کو اپنے بچوں کا حق کھانے والا بولنے لگے۔ مجھ سے اپنی اتنی توہین برداشت نہ ہوئی،کیونکہ ان سب کے پیچھے اصل میں میری ساس تھیں،جنھیں میں نے خود اپنے بارے میں سسر، نندوں کو بُرا بولتے سُنا،میری چیزیں مجھ سے بناءپوچھے اُٹھانا انہیں اپنا حق لگتا تھا۔ خیر میں نے ضد کر کے اپنا پورشن الگ کر لیا،پر بچے دادا، دادی سے ملنےروز جاتے اور داؤد کی تعلیم کی ساری ذمہ داری میری تھی،وہ پڑھنے اور کھانے اوپر آتا۔ میں سب سے بات نہیں کرتی کیونکہ اب شوہر عراق ہوتے ہیں اور میں دل کے عارضے میں مبتلا ہوگئی ہوں، انکی دی ہوئی پریشانیوں کی وجہ سے میرا آدھا دل ہی کام کر رہا ہے اور سوذیم کم ہو رہا ہے،ادویات استعمال کرنا مجبوری ہے۔ اب نیچے بچوں کے ساتھ معاملات بہت خراب ہو رہے ہیں،کوئی چیز لائی جاتی ہے،تو میرےبچوں کے رونے پر بھی انہیں،نہیں دی جاتی،صرف داؤد کو دی جاتی ہے۔ میرے بچے ددھیال سے بہت محبت کرتے ہیں،میں نے کبھی بچوں کا دل بُرا نہیں کیا ،پراب میری ہمت ختم ہو گئی ہے ۔ میرے شوہر کی پھپھو تک مجھےمیرے بچوں کے پیدا کرنے پر لعنت ملامت کرتی فون کرکے،اور وہ نیچے رہنے آئی ہوئی بھی ہیں ۔ میرا بینا نیچے گیا تو اسے ڈرا کر اوپر بھیج دیا اور بچہ گھنٹوں بلکتا رہا ۔اس دن سے میں نے اپنے بچوں کے نیچے جانا بالکل بندکر دیا ہے ایک اور بات کے نیچے کوئی بھی اچھی چیز بچے نہیں سیکھتے تھے، بلکہ موبائل یا ٹی وی پر فحش چیزیں ہی دیکھتے تھے اور کوئی روکتا نہیں تھا، پہلے میں سیڑھیاں آرام سے اتر چڑھ لیتی تھی تو دن میں دو تین بار چکر لگا کر انھیں روک دیتی تھی، پر اب طبیعیت اجازت نہیں دے رہی۔ میں شوہر سے مطالبہ کر رہی ہوں کہ مجھے بالکل الگ اور نیچے گھر دلوائیں،کیونکہ ان کے والدین اب داؤد کے ذریعے مجھے پریشان کر رہےہیں، اسے پڑھنےکے لئے آنے نہیں دیتے اور وہ سارا وقت موبائل لیے خراب چیزیں دیکھتا ہے ،پھر اوپر آکر دونوں بہن بھائیوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ بچہ بہت معصوم ہے پر ماحول کا برا اثر لے رہا  ہے۔ ساس سسر پردےکا خیال نہیں رکھتے اور سسر موبائل پر غلط چیزیں اس کے سامنے دیکھتے ہیں،میں بچے کو اپنے پاس رکھنا چاہتی ہوں کہ جیسے میرے شوہر نے میرے بیٹے کے لئے نیکی کی،میں بھی ان کے بیٹے کے لئے کروں، تو میرا ایسے میں الگ گھر کا مطالبہ جائز ہے ؟شوہر چاہتےہیں کہ میں بچوں کو نیچے بھیجوں، پر میں مطمئن نہیں،تو کیا اس بات پر ان سے اختلاف بہتر ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اسلام نے ہرمسلمان کو تمام تعلق داروں سے حسن معاشرت کا حکم دیاہے، جیسے بیوی پرشوہر کے حقوق اور اس کے والدین کا احترام وتوقیر لازم ہے، اسی طرح شوہر کے ذمہ بھی بیوی کے حقوق لازم ہیں، اورشوہر کے والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ بہو کو اپنی حقیقی بیٹی سمجھتے ہوئے اس سے وہی سلوک وبرتاؤ رکھیں جو حقیقی بیٹی

سے رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں جانبین کو  حقوق کے مطالبے کے بجائے اخلاق کریمانہ کا مظاہرہ کرناچاہیے۔

1۔پہلے تو شوہر سے اس مسئلے کے حل کےلیے مشورہ کیاجائے کہ بچوں کی تربیت کا مسئلہ ہے،تاکہ وہ سنجیدگی کے ساتھ اس مشکل کو حل کرسکے۔

2۔شوہر نے آپ کےلیے علیحدہ پورشن کاانتظام کیا ہے،اگرآپ کو بچوں کو بگڑنے کا خدشہ ہے اور والدین سے ادب کی رعایت رکھتے ہوئے اس مسئلے پر گفتگو کے باوجود بھی  مسئلہ حل نہ ہوتو پورشن کا راستہ الگ کرلیں تاکہ ایک دوسرے کے پاس آنے جانے کی نوبت نہ آئے۔

3۔ اگر شوہرکے پاس الگ گھر دینے کی استطاعت ہے ،چاہے وہ ذاتی ہویا کرایہ پر ،تو پھر  اس معاملہ کے زیادہ سنجیدہ ہونے کی بناء پر وہ الگ گھر کا انتظام کرے،البتہ اگرشوہر کی حیثیت اتنی نہیں ہے یا بالکل الگ گھر کی وجہ سے اس کے لیے اور مسائل کھڑے ہوسکتے ہیں، مثلاً بیوی اور بچوں کا شوہر/والد کی غیرموجودگی میں تنہا رہنا،یا والدین کی خدمت کےلیے کسی کا نہ ہونا وغیرہ تو ایسی صورت میں بہتر یہی ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا ماحول بنائیں،ورنہ اسی پورشن میں رہتے ہوئے راستہ الگ کیا جائے۔

واضح رہے کہ بچوں کو دادا،دادی سے ملنے سے بالکل منع کرنادرست نہیں،تربیت میں خلل کا اندیشہ ہوتو جلدی واپس آنے کی تاکید کرکے بھیج دیا کریں۔

حوالہ جات

الفتاوي الهنديه (1/578):

تجب السكني لها عليه في بيت خال عن أ هله و أ هلها إلا أ ن تختار ذلك كذا في العينين شرح الكنز۔

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

23/ جمادی الثانیہ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب