| 86024 | حج کے احکام ومسائل | حج کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میں اپنی خالہ کی فیملی کے ساتھ عمرے پر جانا چاہتی ہوں اور میری عمر 22 سال ہے۔ خالہ کے ساتھ میرے خالو اور کزن بھی ہوں گے، جن کی عمریں 14 سال اور 10 سال ہیں۔ البتہ وہاں رہائش کے لیے الگ کمرہ ہوگا۔ اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعاً کسی لڑکی کا اپنے خالو اورکزن کے ساتھ کسی شرعی مرد محرم کے بغیر عمرے پر جانا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ خالواورکزن شرعاً محرم نہیں ہیں۔ لہٰذا آپ کے ساتھ اگرچہ اس سفرمیں خالہ بھی موجود رہے، تب بھی ، آپ کا مذکورہ سفرِعمرہ شرعاً جائز نہیں ہے۔
حرمین کی زیارت کا شوق ہونے کے باوجود شرعی حکم کی پاسداری کریں، ان شاء اللہ اس پر بھی اجر و ثواب ملے گا، نیزاللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتی رہیں، جب محرم کا انتظام ہو جائے، تب عمرہ/حج کے لیے جائیں۔
حوالہ جات
وفی البخاری:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:لا يحل لامرأة، تؤمن بالله واليوم الآخر، أن تسافر مسيرة يوم وليلة ليس معها حرمة.(بخاری شریف، أبواب تقصیر الصلاۃ، ج:١،ص:٣٦٩، ط:دار ابن کثیر)
وفى الهندیة:
"(ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزا إذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا في المحيط... والمحرم الزوج، ومن لا يجوز مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو مصاهرة كذا في الخلاصة."(كتاب المناسك، الباب الأول في تفسير الحج وفرضيته ووقته وشرائطه وأركانه( ج: 1، ص: 219،218، ط: دار الفكر).
وفى بدائع الصنائع:
إذا لم یکن معہا زوج ولا محرم لایؤمن علیہا إذا النساء لحم علی وضم إلا ماذب عنہ ولہذا لایجوز لہا الخروج وحدھا والخوف عند اجتماعہن أکثر ولہذا حرمت الخلوۃ بالأجنبیۃ وإن کان معہا امرأۃ أخریٰ " (کتاب الحج، ج:٢، ص:١٢٣، ط:دار الکتب العلمیة)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
24/6/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


