| 86065 | حج کے احکام ومسائل | میقات کابیان |
سوال
عمدۃ المناسک کے صفحہ 418 کا فوٹو سٹیٹ پیشِ خدمت ہے، اس میں لکھا ہے:
"اور یہ مسئلہ ہے کہ مکہ مکرمہ میں جانے کی نیت عین میقات پر معتبر ہے، اگر میقات پر سے گزر کر حل میں جاکر نیت کی اور میقات سے گزرتے وقت مکہ مکرمہ یا حرم میں جانے کی نیت کی تھی تو اس صورت میں یہاں دم لازم ہوگا اور پھر بھی مدینہ طیبہ یا اور کہیں چلاگیا تو یہ شخص جب مدینہ طیبہ سے لوٹے تو اس کو اس طرف کے میقات سے احرام باندھ کر آنا واجب ہے، پس اگر احرام باندھ کر آیا تو اپنے میقات سے بغیر احرام گزرنے سے جو دم اور نسک لازم ہوا تھا وہ دونوں ساقط ہوجائیں گے۔"
عرض یہ ہے کہ اگر میقات پر مکہ مکرمہ جانے کی نیت تھی اور بلا احرام میقات سے تجاوز کر گیا تو دم ہے، یہ سمجھ میں آتا ہے۔ اور اگر میقات پر مکہ مکرمہ جانے کی نیت نہیں تھی، بلکہ حل میں جا کر مکہ مکرمہ جانے کی نیت کی تو کیا اس پر بھی دم ہے؟ جبکہ وہ حرم میں داخل نہیں ہوتا، باہر ہی باہر سے مدینہ طیبہ چلا جاتا ہے اور واپسی پر ذو الحلیفہ سے احرام باندھ کر مکہ مکرمہ آتا ہے، اس پر تو نہ دم تھا، نہ نسک کہ ہم کہیں کہ دونوں ساقط ہوگئے، جیسا کہ عمدۃ الناسک کی عبارت دونوں صورتوں میں کہہ رہی ہے کہ دم اور نسک ساقط ہوگئے۔ اس تفصیل کی روشنی میں:
(1)۔۔۔ اگر میقات پر مکہ مکرمہ جانے کی نیت تھی تو بلا احرام تجاوز کرنے کی وجہ سے دم لازم ہوگا، لیکن نسک لازم نہیں ہوگا؛ کیونکہ حرم میں داخل نہیں ہوا، جب مدینہ طیبہ سے واپس آکر عمرہ یا حج کرے گا تو دم ساقط ہوجائے گا۔ یہ مسئلہ اسی طرح ہے یا ایسا نہیں؟
(2)۔۔۔ احرام نہیں باندھا، میقات پر مکہ مکرمہ یا حرم جانے کی نیت بھی نہیں تھی، پھر میقات سے گزر کر آگے حل میں جا کر مکہ مکرمہ یا حرم جانے کی نیت کی اور مدینہ طیبہ جاتے ہوئے کسی وقت حرم میں قدم بھی نہیں رکھا تو اس پر اس نیت کی بنا پر نہ دم ہے، نہ نسک جو واپسی پر عمرہ یا حج ادا کرنے سے ساقط ہو۔ ہاں، اگر مدینہ طیبہ جاتے ہوئے حرم میں قدم رکھ دیا، پھر چاہے باہر نکل آئے تو اس پر تجاوزِ میقات بلا احرام کی وجہ سے ایک دم اور نسک لازم ہوگیا اور جب مدینہ طیبہ سے آکر حج یا عمرہ کرلیا تو وہ دم اور نسک دونوں ساقط ہوگئے۔ یہ مسئلہ اسی طرح ہے یا نہیں؟
اگر مذکورہ بالا دونوں مسائل اسی طرح ہیں جس طرح میں سمجھا ہوں تو کیا عمدۃ الناسک کی مذکورہ عبارت کی مناسب اصلاح و ترمیم نہیں ہونی چاہیے؟
(3)۔۔۔ میری ناقص عقل میں یہ بات آتی ہے کہ جب کوئی شخص مکہ مکرمہ کی نیت سے میقات سے بلا احرام تجاوز کرے گا تو دم لازم ہوگا، لیکن نسک اس وقت متحقق ہوگا جب حدودِ حرم میں داخل ہوگا۔ کیا یہ درست ہے یا دخولِ حرم سے پہلے ہی صرف تجاوزِ میقات بلا احرام سے نسک بھی متحقق ہوجائے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ نے عمدۃ الناسک کی آدھی عبارت نقل فرمائی ہے، اس سے پہلے اور اس کے بعد کی عبارت کو مدِ نظر رکھا جائے تو کوئی اشکال نہیں ہوتا، ذیل میں پہلے پورا مسئلہ ملاحظہ فرمالیں:-
"مسئلہ: اگر وطن سے حج کے ارادہ سے نکلا، لیکن میقات ہی سے گزرنے سے پہلے یا وطن ہی سے یہ نیت کرلی کہ جدہ میں پہنچ کر حدِ حرم سے باہر باہر پہلے مدینہ طیبہ کو چلا جاؤں گا تو اس صورت میں بھی اس پر واجب نہیں ہے کہ اپنے میقات سے احرام باندھ کر پہلے مکہ مکرمہ کو جائے اور بغیر احرام کے تجاوز سے جنایت لازم نہ ہوگی؛ کیونکہ اس کو اپنے میقات سے گزرنے کے وقت حرم یا مکہ مکرمہ میں جانے کا ارادہ ہی نہ تھا، بلکہ حل کی حد میں سے گزر کر دوسری طرف والے میقات سے بھی باہر نکل جانے کا ارادہ ہی تھا، اور یہ مسئلہ ہے کہ مکہ مکرمہ میں جانے کی نیت عین میقات پر معتبر ہے۔ اگر میقات پر سے گزر کر حل میں جاکر نیت کی اور میقات سے گزرتے وقت مکہ مکرمہ یا حرم میں جانے کی نیت کی تھی تو اس صورت میں یہاں دم لازم ہوگا اور پھر بھی مدینہ طیبہ یا اور کہیں چلاگیا تو یہ شخص جب مدینہ طیبہ سے لوٹے تو اس کو اس طرف کے میقات سے احرام باندھ کر آنا واجب ہے، پس اگر احرام باندھ کر آیا تو اپنے میقات سے بغیر احرام گزرنے سے جو دم اور نسک لازم ہوا تھا وہ دونوں ساقط ہوجائیں گے۔ بعض کوتاہ فہم جو کہتے ہیں کہ اگر کوئی حج و عمرہ کا ارادہ کر کے وطن سے نکلے اور میقات سے بغیر احرام اس نیت سے گزرے کہ پہلے مدینہ طیبہ ہی کو جائے تو بھی اس کو پہلے مکہ مکرمہ کو جانا اور احرام باندھنا واجب ہے، یہ ان کا کہنا غلط اور غیر صحیح ہے؛ کیونکہ میقات سے گزرنے کے وقت احرام باندھنا اس وقت لازم ہوتا ہے جبکہ مکہ مکرمہ یا حدِ حرم میں جانے کا ارادہ میقات پر رکھتا ہو، سب کتابوں میں اسی طرح منقول ہے کہ اگر کوئی شخص باوجود مکہ مکرمہ کو جانے کی نیت رکھتے ہوئے اپنے میقات سے بغیر احرام کے تجاوز کرگیا، پھر کسی طرف میقات پر چلا گیا اور وہاں سے احرام باندھ کر مکہ مکرمہ میں آیا تو جنایت و اساءت ساقط ہوجاتی ہے، اگرچہ تجاوز کے وقت اساءت کا مرتکب ہوا تھا، اور پہلی صورت میں تو اساءت بھی نہیں ہوئی بہ سبب عدم قصد مکہ مکرمہ کو جانے کے (ناقل)"۔
اس عبارت میں پہلے اس صورت کا بیان ہے کہ اگر میقات سے گزرنے سے پہلے پہلے ہی مدینہ طیبہ جانے کی نیت کرے تو حل میں سے گزر کر جانے کی وجہ سے دم نہیں آئے گا۔ پھر "اگر میقات پر سے گزر کر حل میں جاکر نیت کی" میں اس صورت کا ذکر فرمایا جس میں پہلے سے مدینہ طیبہ جانے کی نیت نہ ہو، میقات سے گزرتے وقت حرم جانے کی نیت ہو، پھر حل میں جاکر مدینہ طیبہ جانے کی نیت کرلے، چنانچہ اس کے متصل بعد فرمایا ہے " "اور میقات سے گزرتے وقت مکہ مکرمہ یا حرم میں جانے کی نیت کی تھی"، اگر پہلے جملے میں حل میں نیت کرنے سے حرم جانے کی نیت مراد ہوتی تو پھر یہ بات لکھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ لہٰذا عمدۃ المناسک کی عبارت "اگر میقات پر سے گزر کر حل میں جاکر نیت کی" میں ترمیم و اصلاح کی ضرورت نہیں۔
اس تفصیل کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات درجِ ذیل ہیں:-
(1)۔۔۔اگر میقات پر مکہ مکرمہ جانے کی نیت تھی تو بلا احرام تجاوز کرنے کی وجہ سے دم لازم ہوگا، جب مدینہ طیبہ سے واپس آکر کسی میقات سے احرام باندھ کر عمرہ یا حج کرے گا تو دم ساقط ہوجائے گا۔ اس صورت میں نسک لازم ہوگا یا نہیں؟ اس کا جواب آگے نمبر (3) کے تحت آرہا ہے۔
(2)۔۔۔ یہ مسئلہ اسی طرح ہے۔
(3)۔۔۔ اگر کسی نے حرم کی نیت سے میقات سے بغیر احرام تجاوز کیا، لیکن ابھی حرم میں داخل نہیں ہوا تھا تو کیا اس پر صرف دم لازم ہوا یا دم کے ساتھ نسک بھی؟ اس حوالے سے فقہ حنفی کے متون کی تعبیرات کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف دم لازم ہوگا، نسک لازم نہیں ہوگا۔ لیکن غنیۃ الناسك میں اس پر تنبیہ کی گئی ہے کہ ایسا نہیں ہے، بلکہ بدائع الصنائع اور البحر الرائق میں ایسی صورت میں نسک کو بھی لازم قرار دیا گیا ہے، اسی طرح فتاویٰ قاضی خان میں بھی میقات سے بغیر احرام تجاوز کی وجہ سے دم اور نسک دونوں لازم کیے گئے ہیں، ملاحظہ فرمائیں عبارت نمبر 5، 6، 7 اور 8۔ لہٰذا عمدۃ المناسک کی عبارت " پس اگر احرام باندھ کر آیا تو اپنے میقات سے بغیر احرام گزرنے سے جو دم اور نسک لازم ہوا تھا وہ دونوں ساقط ہوجائیں گے" میں بھی ترمیم کی ضرورت نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب
حوالہ جات
(1) الدر المختار (2/ 583):
( و ) يجب ( على من دخل مكة بلا إحرام ) لكل مرة ( حجة أو عمرة ) فلو عاد، فأحرم بنسك أجزأه عن آخر دخوله، وتمامه في الفتح.
(2) حاشية ابن عابدين (2/ 583):
قوله ( ويجب على من دخل مكة ) أي والحرم سواء قصد التجارة أو النسك أم غيرهما، كما تفيد عبارة البدائع السابقة، وتقدم التصريح به شرحا ومتنا قبيل فصل الإحرام، وصرح به في اللباب أيضا.
(3) الفتاوى الهندية (1/ 221):
ولا يجوز للآفاقي أن يدخل مكة بغير إحرام نوى النسك أو لا، ولو دخلها فعليه حجة أو عمرة، كذا في محيط السرخسي في باب دخول مكة بغير إحرام.
(4) كنز الدقائق (ص: 243):
ومن دخل مكّة بغير إحرامٍ وجب عليه أحد النّسكين
(5) غنیة الناسك (108):
تنبیه في لزوم أحد النسکین بمجاوزة المیقات بلا إحرام ووجوب الدم علیه:
ظاهر تقیید المتون بالدخول في قولهم "ومن دخل مکة بلا إحرام" الخ أنه لو جاوز المیقات بلا إحرام ولم یدخل مکة لایجب علیه أحد النسکین، وهو مخالف لما في البدائع: ولو جاوز الميقات يريد دخول مكة أو الحرم من غير إحرام يلزمه إما حجة وإما عمرة؛ لأن مجاوزة الميقات على قصد دخول مكة أو الحرم بدون الإحرام لما كان حراما كانت المجاوزة التزاما للإحرام دلالة، كأنه قال: لله تعالى علي إحرام، ولو قال ذلك يلزمه حجة أو عمرة، كذا إذا فعل ما يدل على الالتزام اه.
ومثله ما في البحر: فإذا جاوز آخر المواقیت بلا إحرام لزمه دم وأحد النسکین؛ لأن مجاوزة المیقات بنیة دخول الحرم بمنزلة إیجاب الإحرام علی نفسه. ولو قال: لله علی أن أحرم، لزمه حجة أو عمرة، فکذا إذا أوجب بالفعل، کما إذا افتتح صلاة التطوع ثم أفسدها وجب علیه قضاء رکعتین، کما لو أوجبها بالقول. اه.
(6) بدائع الصنائع (2/ 165):
ولو جاوز الميقات يريد دخول مكة أو الحرم من غير إحرام يلزمه إما حجة وإما عمرة؛ لأن مجاوزة
الميقات على قصد دخول مكة أو الحرم بدون الإحرام لما كان حراما كانت المجاوزة التزاما للإحرام دلالة، كأنه قال: لله تعالى علي إحرام، ولو قال ذلك يلزمه حجة أو عمرة، كذا إذا فعل ما يدل على الالتزام، كمن شرع في صلاة التطوع ثم أفسدها يلزمه قضاء ركعتين،كما إذا قال: لله تعالى علي أن أصلي ركعتين.
(7) البحر الرائق (3/ 51):
باب مجاوزة الميقات بغير إحرام:….. قدمنا أنه لا يجوز مجاوزة آخر المواقيت إلا محرما، فإذا جاوزه بلا إحرام لزمه دم و أحد النسكين إما حج أو عمرة؛ لأن مجاوزة الميقات بنية دخول الحرم بمنزلة إيجاب الإحرام على نفسه، ولو قال: لله علي أن أحرم لزمه إما حج أو عمرة، فكذلك إذا أوجب بالفعل، كما إذا افتتح صلاة التطوع ثم أفسدها وجب عليه قضاء ركعتين ، كما لو أوجبها بالقول.
(8) فتاوى قاضيخان (1/ 141):
ولو جاوز الآفاقي الميقات بغير إحرام كان عليه حجة أو عمرة ….. ولو دخل الآفاقي مكة بغير إحرام ثم رجع إلى الميقات في تلك السنة وأحرم بحجة الإسلام سقط عنه ما كان واجباً بالمجاوزة ودخول مكة بغير إحرام عندنا.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
23/جمادی الآخرۃ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


