03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مساجد کے الیکٹرک بل سروس فراہم کرنے میں شامل کرکے غیر مسلم فیکٹری مالکان سے لینا
86045وقف کے مسائلوقف کے متفرّق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

سندر انڈسٹریل اسٹیٹ بورڈ آف مینجمنٹ کے تحت ایک وسیع رقبے پر صنعتی زون ہے جس میں پانچ سو سے زائد یونٹ فعال ہیں، جن کے بہت سے انتظامات BOM SIE دیکھتا ہے۔ اس مقصد کے تحت آپریشن اور مینٹیننس کا محدود بل فیکٹریوں سے ماہانہ وصول کیا جاتا ہے۔جبکہ تمام مساجد کو پانی اور صفائی کی سہولت بورڈ آف مینجمنٹ، الحمدللہ،  بلا معاوضہ فراہم کرتا ہے۔صنعتی زون میں واقع مختلف پارکوں میں 6 جامع مساجد موجود ہیں، جنہیں مخیر حضرات نے اپنی ذاتی حیثیت میں تعمیر کیا ہے اور ان کی ضروریات کا انتظام بھی وہی کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ

 بورڈ آف مینجمنٹ یہ فیصلہ کرنا چاہتا ہے کہ تمام مساجد کے بجلی کے بل تمام فیکٹریوں کے بجلی کے بل میں سروس فراہم کرنے کے تحت تقسیم کر دیے جائیں۔ جبکہ بعض فیکٹریوں کے مالکان غیر مسلم اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس طرح کا انتظام بنانے کا شرعی حکم کیا ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے عبادت خانوں، جیسے مساجد کے اخراجات (مثلاً بجلی کے بل وغیرہ) کے لیے غیر مسلموں سے ازخود مدد کا مطالبہ نہ کریں، یہ عمل دینی غیرت اور حمیت کے خلاف ہے،اسی طرح ان کی مرضی کے بغیر ایسے اخراجات کو سروس فراہم کرنے کے تحت شامل کر کے بھی ان پر مسلط نہ کریں۔کیونکہ شریعت میں غیر مسلموں پر ایسے امور کا مالی بوجھ ڈالنا درست نہیں ہے جو صرف مسلمانوں کی عبادت سے متعلق ہوں۔ مساجد کے اخراجات چونکہ خالصتاً عبادت اور دینی ضرورت سے متعلق ہیں، اس لیے غیر مسلموں کو اس میں شامل کرنا شرعاً مناسب نہیں ہے۔مسلمانوں کو خود مالی قربانی دے کر اپنے دین  اور عبادت خانوں کی خدمت کرنی چاہیے۔

البتہ اگر کوئی غیر مسلم فیکٹری مالک اپنی مرضی سے، اپنے عقیدے کے مطابق اچھا عمل سمجھتے ہوئے، مساجد کے اخراجات میں تعاون کی پیشکش کرے، اور اس کے بدلے میں کسی غلط مقصد کے حصول (مثلاً مسلمانوں کو بعد میں ان کی عبادت گاہوں پر خرچ کرنے پر مجبور کرنا یا ان پر احسان جتانا) کا اندیشہ نہ ہو، تو ایسی صورت میں شرعی طور پر غیر مسلموں کا دیا ہوا مال مسجد کی ضروریات میں استعمال کرنا جائز ہوگا۔

حوالہ جات

{إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ فَعَسَى أُولَئِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ} [التوبة: 18]

أحكام القرآن للجصاص ت قمحاوي (4/ 278)

قوله تعالى ما كان للمشركين أن يعمروا مساجد الله عمارة المسجد تكون بمعنيين أحدهما زيارته والسكون فيه والآخر ببنائه وتجديد ما استرم منه ..... فاقتضت الآية منع الكفار من دخول المساجد ومن بنائها وتولي مصالحها والقيام بها لانتظام اللفظ للأمرين.

التفسير المنير للزحيلي (10/ 141)

9- دلت الآية على أن عمارة المسجد لا تكون بالكفر، وإنما تكون بالإيمان والعبادة وأداء الطاعة.

تفسير ابن كثير ت سلامة (4/ 119)

ما ينبغي للمشركين بالله أن يعمروا مساجد الله التي بنيت على اسمه وحده لا شريك له.

التفسير المنير للزحيلي (10/ 140)

ولا مانع أيضا من قيام الكافر ببناء مسجد أو المساهمة في نفقاته، بشرط ألا يتخذ أداة للضرر، وإلا كان حينئذ كمسجد الضرار.

رد المحتار:

شرط وقف الذمي أن يكون قربة عندنا وعندهم كالوقف على الفقراء أو على مسجد القدس۔( كتاب الوقف، مطلب قد يثبت الوقف بالضرورة، ج:6، ص:524)

البحر الرائق:

وأما الإسلام فليس من شرطه، فصح وقف الذمي بشرط كونه قربة عندنا وعنده۔( كتاب الوقف، ج:5، ص:316)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

24/6/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب