03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
Trade Of. Shares In. Stockmarketاسٹاک ایکسچینج کے شرائط میں سے دو شرطوں کا حکم
86047خرید و فروخت کے احکامقرض اور دین سے متعلق مسائل

سوال

السلام و علیکم میں سٹاک مارکیٹ میں حصص خریدتا اور بیچتا ہوں لیکن ان تمام شرائط پر عمل کرتا ہوں جو حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب کی فقہی مقالات میں لکھی ہیں اور میں نے وہ شرائط بھی دیکھی ہیں جو آپ نے آپ کی ویب سائٹ پر پوچھے گئے سوالات میں بتائی ہیں۔ لیکن کسی نے مجھ سے پوچھا کہ کمپنی کے قرض کے لیے یہ 33 یا 30% سے کم ہونا چاہیے اور سود کی آمدنی 5% سے کم ہونی چاہیے اور اس فیصد کو آپ کی آمدنی کو حلال کے طور پر خالص کرنے کے لیے عطیہ کرنا چاہیے تو مندرجہ بالا دو شرائط کے لیے کیا دلیل ہے؟ براہ کرم مجھے مندرجہ بالا شرائط کے لیے دلیل فراہم کریں تاکہ میں جواب دے سکوں جزاک اللہ

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اصل یہ ہے کہ کسی کمپنی کوبذات خود حرام کام یا سودی قرض کی بالکلیہ اجازت نہیں ۔لہذا  کمپنی کے بانیان یا غالب شئیرز کے حامل شرکاء کے لیے کمپنی کو سودی معاملات سے بالکلیہ پاک رکھنا ضروری ہے ،جبکہ عام شئیر  ہولڈرز    کو کمپنی کے معاملات  میں اختیار  نہیں ہوتا ۔لہذا  ان کے لیے سودی  قرض اور حرام آمدن کی ایک شرح رکھی جاتی ہے جس سے اوپر جانے کی صورت میں   کمپنی کے  شیئرز   لینا درست نہیں ہوتا ۔نیز  حرام آمدن کےتناسب سے صدقہ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے ۔ یہ شرح بتدریج کم کی جارہی ہے   ،تاکہ کمپنی  آہستہ آہستہ سودی معاملات سے مکمل پاک ہوسکے ۔ پہلے یہ شرح زیادہ تھی  آج کل یہ شرح ہے جو سوال میں مذکور ہے ۔آہستہ  آہستہ اسے  مزید کم کیا جائے گا ۔

حوالہ جات

صحيح مسلم (3/ 1219)[ رقم الحديث: 1598]
حدثنا محمد بن الصباح، وزهير بن حرب، وعثمان بن أبي شيبة، قالوا: حدثنا هشيم، أخبرنا أبو الزبير، عن جابر، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء۔
(المعايير الشرعية:567)
المساهمة أوالتعامل في أسهم شركات أصل نشاطها حلال ولكنها تودع أو تقترض بفائدة:
1/4/3: أن لا تنص الشركة في نظامها الأساسي أن من أهدافها التعامل بالربا أوالتعامل بالمحرمات كالخنزير وغيره۔
2/4/3: أن لايبلغ إجمالي  المبلغ المقترض بالربا، سواء كان قرضا طويل الأجل أم قرضا قصير الأجل، 30%من القيمة السوقية (Market Cap)لمجموع أسهم الشركة علما بأن الاقتراض بالربا حرام مهما كان مبلغه۔
4/4/3 أن لا يتجاوز مقدار الإيراد الناتج من عنصر محرم نسبة 5% من إجمالي إيرادت الشركة سواء كان هذا الإيردا ناتجا عن ممارسة نشا ط محرم أم تملك لمحرم، وإذا لم يتم الإفصاح عن بعض الإيرادات فيجتهد في معرفتها ويراعي جانب الاحتياط۔ 
(و فى فقه البيوع  :381)
أما  اذا كانت الشركة نشاطها التجاري  حلالا ،ولكنها تودع   فائض نقودها في البنوك الربوية ، وقد تقترض منها قروضا ربوية ،فاختلف أنظار الفقهاء المعاصرين  في جواز شراء أسهمها .فقالت جماعة من العلماء  :انه لا يجوز شراؤ أسهمها،لان حامل السهم يشارك في هذه العمليات المحرمة ، فكان مثل شراء  أسهم  الشركات التي نشاطها التجاري حراما . وقال الاخرون: ان إيداع  فائض النقود في البنوك الربوية  عملية منفصلة عن نشاطها التجاري ، فلا يؤثر علي اصل النشاط ، بشرط أن يكون قليلا بالنسبة الي نشاطها الأساسي ، وقدره أكثر المجيزين أن يكون مثل هذا الإيداع أقل من ثلاثين  في مئة  بالنسبة الي قیمۃ موجوداتہا، والعائد الناتج  منها أقل من  خمسة  في مئۃ من مجموع إيراداتها الخ.

عبدالوحید طاہر
دارالافتاءجامعہ الرشید  ،کراچی
۱۵جمادی الثانیہ ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالوحید بن محمد طاہر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب