03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر حاضری پر طلبہ سے جرمانہ لینا اور ان کا کھانا بند کرنا
86050حدود و تعزیرات کا بیانتعزیر مالی کے احکام

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ تعزیر مالی کسے کہتے ہیں اور اسکا کیا حکم ہے ، یعنی اگر کسی پر کوئی شخص مالی جرمانہ عائد کرے تو مالی جرمانہ دینے کا کیا حکم ہے۔ اور لینے کا کیا حکم ہےنیز مدرسہ والے ایک گھنٹے غیر حاضری ہونے کی صورت میں ۲۰۰ روپے لیتے ہیں ، اور انجمن والے ایک غیر حاضری کے سو روپے لیتے ہیں ۔ یاغیر حاضری کی سزا میں کھانہ بند کرتے ہیں کیا تینوں صورتیں تعزیر مالی کے تحت داخل ہے یا نہیں اگر داخل نہیں ہے تو اسکی کیا دلیل ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب کوئی شخص کوئی جرم کرے یا کسی معاہدے کی خلاف ورزی کرلے اور سزا کے طور پر اس پر مالی جرمانہ عائد کیا جائے تو اس کو فقہاء"تعزیر بالمال یا مالی جرمانہ "کہتے ہیں۔

 فقہ حنفی کے راجح قول کے مطابق  مالی جرمانہ عائد کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ لہذ امدرسے یا انجمن کاطلبہ سے  غیر حاضری یا کسی اور وجہ سے بطورسزایا  زجر و تنبیہ مالی جرمانہ لینا  جائز نہیں ،اگر لیا ہو تو اس کا  استعمال میں لانا  جائز نہیں،اس رقم کو واپس لوٹانا واجب ہے،اورطلبہ کے لئے یہ جرمانہ ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔

لیکن مدرسہ  کے منتظمین  کا طلبا ء کا مفت کھانا بند کرکے ایک دو روز کے لئے قیمتاً کھانا فراہم کرنا تعزیر مالی میں داخل نہیں ، کیونکہ   طالب عالم جب سال کے شروع میں داخلہ فارم پر کرتا ہے ، تو اس میں وعدہ کرتا ہے کہ میں مدرسہ کے قواعد وضوبط اورنظم کی پوری طرح پابندی کرونگا، اس معاہدہ کےنتیجے میں  مدرسہ صرف ان طلبہ سےمفت  کھانا  کھانے کا وعدہ  کرتا ہےجو مدرسہ کے ضابطہ کی پابندی کرکے مستعدی کے ساتھ پڑھتے ہیں، لہذاارباب مدرسہ کا غفلت برتنے والے طلبہ کو کھانا اور دیگرمفت سہولیات سے محروم کرنا اور پھر ان کو یہ سہولیات قیمت کے عوض فراہم کرنا درست ہے ۔

حوالہ جات

(ردالمحتار:4/61)

قال العلامۃابن عابدین رحمۃ اللہ علیہ:مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه.

(البحر الرائق:5/44)

ولم يذكر محمد التعزير بأخذ المال وقد قيل روي عن أبي يوسف أن التعزير من السلطان بأخذ المال جائز كذا في الظهيرية وفي الخلاصة سمعت عن ثقة أن التعزير بأخذ المال إن رأى القاضي ذلك أو الوالي جاز ومن جملة ذلك رجل لا يحضر الجماعة يجوز تعزيره بأخذ المال اهـ.

وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي...والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (4/ 380):

(وينزع) وجوبا بزازية (لو) الواقف درر فغيره بالأولى (غير مأمون) أو عاجزا أو ظهر به فسق كشرب خمر ونحوه فتح،،،( قوله: لو الواقف) أي لو كان المتولي هو الواقف (قوله: فغيره بالأولى) قال في البحر: واستفيد منه أن للقاضي عزل المتولي الخائن غير الواقف بالأولى.

مطلب في شروط المتولي (قوله: غير مأمون إلخ) قال في الإسعاف: ولا يولى إلا أمين قادر بنفسه أو بنائبه لأن الولاية مقيدة بشرط النظر وليس من النظر تولية الخائن لأنه يخل بالمقصود، وكذا تولية العاجز لأن المقصود لا يحصل به.

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتا ء جامعہ الرشید،کراچی

26/جمادی الاولی/6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب