03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدت گزرنے کے بعد طلاق واقع نہیں ہوتی
86049طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا تو مجھ پر   حرام ہے، اس کے بعد میاں بیوی ایک ہی گھر میں بغیر تجدیدِ نکاح کے رجوع کر کے اکٹھے  رہتے رہے، دس ماہ گزرنے پر دوبارہ جھگڑا ہوا تو بیوی نے خاوند سے طلاق کا مطالبہ کیا تو خاوند نے تین سے زائد بار طلاق  کے الفاظ بولے، جبکہ عورت کی عدت گزر چکی تھی، شرعا کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟ کیا اب فریقین دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق شوہر کے بیوی کو"تو مجھ پر   حرام ہے"کےالفاظ کہنےسے عورت پرایک طلاقِ بائن واقع ہو چکی تھی، جس کی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان نکاح ختم ہو چکا تھا، اس کے بعد فریقین کا بغیر تجدیدِ نکاح کے اکٹھے رہنا شرعاًہرگز جائز نہیں تھا، لہذا اتنا عرصہ فریقین کے اکٹھے رہنے اورازدواجی تعلقات قائم کرنے کی وجہ سے سخت گناہ گار ہوئے  ہیں، جس پر اللہ تعالیٰ  سے سچے دل سے توبہ واستغفار کرنا فریقین کے ذمہ لازم ہے اور آئندہ کے لیے اس طرح کے قبیح فعل سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

جہاں تک عدت گزرنے کے بعد دی گئی طلاقوں کا تعلق ہے تو چونکہ عدت گزرنے کے بعدعورت طلاق کا محل نہیں رہتی، اس لیے ان میں سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، لہذا فریقین باہمی رضامندی سے گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، البتہ آئندہ کے لیے شوہر کو صرف دو طلاقوں کا حق باقی ہو گا، اس لیے آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط کی ضرورت ہو گی۔

حوالہ جات

صحيح ابن حبان - محققا (12/ 400) الناشر: مؤسسة الرسالة، بيروت:

عن جابر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا لا يبيتن رجل عند امرأة في بيت إلا أن يكون ناكحا أو ذا محرم»

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 126)الناشر: دار الكتب العلمية:

[فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى المرأة] (فصل) وأما الذي يرجع إلى المرأة فمنها الملك أو علقة من علائقه؛ فلا يصح الطلاق إلا في الملك أو في علقة من علائق الملك وهي عدة الطلاق أو مضافا إلى الملك.

الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 260) دار احياء التراث العربي – بيروت:

"وإ ذا قال لامرأته أنت علي حرام سئل عن نيته فإن قال أردت الكذب فهو كما قال " لأنه نوى حقيقة كلامه وقيل لا يصدق في القضاء لأنه يمين ظاهرا " وإن قال أردت الطلاق فهي تطليقة بائنة إلا أن ينوي الثلاث " وقد ذكرناه في الكنايات " وإن قال أردت الظهار فهو ظهار " وهذا عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله وقال محمد رحمه الله ليس بظهار لانعدام التشبيه بالمحرمة وهو الركن فيه ولهما أنه أطلق الحرمة وفي الظهار نوع حرمة المطلق يحتمل المقيد " وإن قال أردت التحريم أو لم أرد به شيئا فهو يمين يصير به موليا " لأن الأصل في تحريم الحلال إنما هو يمين عندنا وسنذكره في الأيمان إن شاء الله ومن المشايخ من يصرف لفظة التحريم إلى الطلاق من غير نية بحكم العرف والله أعلم بالصواب.

تحفة الفقهاء (2/ 196) الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت:

وإن كانت مبانة وهي في العدة عند الشرط يقع الطلاق أيضا عندنا لأن المبانة والمختلعة يلحقها صريح الطلاق عندنا.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 409) الناشر: دار الفكر-بيروت:

(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذكما سنحققه.

محمد نعمان خالد

دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی

26/جمادی الاخرى 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب