03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلبہ پر مالی جرمانہ عائد کرنا
86053حدود و تعزیرات کا بیانتعزیر مالی کے احکام

سوال

ہمارے ملک کے بیشتر قومی مدارس میں ایک قاعدہ رائج ہے کہ اگر کوئی طالب علم درس میں حاضر نہ ہو، یا امتحان میں ناکام ہو، یا مدرسے کے کھلنے کی تاریخ پر بروقت حاضر نہ ہو، یا کسی اور خلاف ورزی کا مرتکب ہو، تو مدرسے کی انتظامیہ ایسے طلبہ  پر کوئی  مالی جرمانہ عائد کرتی ہے  ۔ سوال یہ ہے کہ شریعت کی نظر میں اس طرح مالی جرمانہ عائد کرنا جائز ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

فقہ حنفی کے راجح قول کے مطابق  مالی جرمانہ عائد کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ لہذ اصورت مسئولہ میں طلبہ کی غیر حاضری یا  کسی اور وجہ سے بطور سزا زجراً وتنبیہاً کسی بھی صورت میں ان پر مالی جرمانہ لینا یا  وصولی کی صورت میں اسے خرچ کرنا یا استعمال میں لانا  جائز نہیں،  اس سے اجتناب کرنالازم ہے، اور اس رقم کو واپس لوٹانا واجب ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)( 4/61):

قال العلامۃابن عابدین رحمۃ اللہ علیہ:مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه.

البحر الرائق (5/44):

قال العلامۃابن نجیم  رحمۃ اللہ علیہ:ولم يذكر محمد التعزير بأخذ المال وقد قيل روي عن أبي يوسف أن التعزير من السلطان بأخذ المال جائز كذا في الظهيرية وفي الخلاصة سمعت عن ثقة أن التعزير بأخذ المال إن رأى القاضي ذلك أو الوالي جاز ومن جملة ذلك رجل لا يحضر الجماعة يجوز تعزيره بأخذ المال اهـ.وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي...والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال.

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

26/جمادی الثانیہ /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب