| 89630 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
1۔شوہر نے اپنی بیوی سے کہا کہ ہم گھر بنانے کے لئے پلاٹ خریدتے ہیں، آپ اپنا سونا جو آپ کا مہر کا ہے۔ میرے والد کو دے دیں۔ تو بیوی نے انکارکیا، خاوند نے اپنی بیوی سے کہا اگر تم سونا نہیں دیتی تو طلاق۔ عورت نے خوف طلاق کی وجہ سے سونا اپنےسسر کو دے دیا، اگرچہ سونا دینے پربیوی نا خوش ہے، یہ واقعہ 2024 کا ہے۔
2۔کچھ عرصہ بعد خاوند نے اپنے بیوی سے کسی بات پر جھگڑا کیا اور سب گھر والوں کے سامنے خاوند نے بیوی سے کہا کہ آج کے بعد تو میری بیوی نہیں ہے۔ یہ واقعہ غالبا16اپریل2025ء کا ہے۔ اس کےدو ہفتے بعد اس نے اپنے کمرے میں بیوی سےپھر کہا کہ ایک طلاق تو میں نے آپ کو دی تھی، مزید دو بھی دید و ں گا۔
3۔کافی عرصہ سے خاوند نے اپنی بیوی کو والد ین کے گھر جانے اور رات گزارنے سے منع کر رکھا تھا، بیوی کہتی ہے کہ میں نے خاوند کے موبائل میں اجنبی عورتوں کے ساتھ بات چیت اور سیکرین ریکارڈنگ پکڑی، اس پر دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا۔ پھر یہ طے ہوا کہ میں آپ کے ساتھ تب راضی ہوں گی جب آپ مجھے اپنے والدین کے گھر جانے اور رات گزارنے کی اجازت دے دیں، شوہر نے اجازت دے دی، مگر جب عورت والدین کے گھر گئی تو شوہر نے اس کوتین بار فون کیا اور کہا میں رات گزارنے کی اجازت نہیں دیتا،دوبارہ فون کیا کہ آپ اپنے گھر نہیں گئی، اور پھر اس نے فون پر ایک طلاق دی، بیوی نے یہ طلاق کی بات اپنے سسر سے کی،سسرنے طلاق پر بحث نہیں کی، البتہ رات گزارنے کی اجازت دی،مگر شوہر نے اپنے والد کا بھی کہنا نہیں مانا اور پھر فون کیا کہ اگر آپ نے رات گزار دی۔ اور پھر میرے گھر آگئی تو آپ کو مکوں اور لاتوں سے مار کر باہر نکال دوں گا، میں نے اپنے سسر کو شوہر کی طلاقوں اور مارنے والے باتوں سے مطلع کیا تو سسر نے کہا کہ جب آپ کا شوہر کہتا ہے کہ میرے گھر نہ آنا تو مت آؤ اور اپنے والدین کے گھر میں رہو، یہ واقعہ 2025-11-20 کا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسئلہ نمبر 1، مسئلہ نمبر 2، نمبر 3 میں کونسی طلاق ہوئی ہے؟اور اس کا کیا حکم ہے؟
نوٹ: سائل نے بتایا کہ تیسراواقعہ پیش آنے تک عورت شوہر کے پاس ہی رہی ہے، دوسرا واقعہ میں ذکرکی گئی ایک طلاق سے شوہر کی مراد اس کا یہ جملہ تھا کہ "آج سے تم میری بیوی نہیں ہو"نیز اس وقت بیوی حاملہ تھی اور تیسرا واقعہ پیش آنےیعنی طلاق دینے کے دوسرے دن اس کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں شوہر کے16اپریل2025ءکو اپنی بیوی سے کہے گئے الفاظ" آج کے بعد تو میری بیوی نہیں ہے" کنایاتِ طلاق کے الفاظ ہیں، جن کا حکم یہ ہے کہ اگر شوہران الفاظ سے طلاق کی نیت کرے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے اور مذکورہ صورت میں چونکہ شوہر نے اس واقعہ کے دو ہفتے بعد کہا ہے کہ "میں نے ایک طلاق تو دے دی تھی" اور سائل کے بقول اس طلاق سے اس نے پہلے جملے (آج کے بعد تو میری بیوی نہیں ہے)سے واقع شدہ طلاق مراد لی تھی، لہذا اگر شوہر اس پر حلفیہ بیان دینے کو تیار ہے کہ اس جملہ سے اس کی نیت پہلی طلاق کی خبر دینا تھی، دوسری طلاق دینا مقصد نہیں تھا تو اس صورت میں 16اپریل2025ء کو کہے گئے جملے (آج کے بعد تو میری بیوی نہیں ہے) میں طلاق کی نیت پائے جانے کی وجہ سے ایک طلاقِ بائن واقع ہو گئی اوراس وقت عورت کی عدت شروع ہو گئی، اس کے بعد بغیرتجدیدِ نکاح کے فریقین کا اکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں تھا، لہذا اس پر مردوعورت دونوں کو اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کرنا ضروری ہے۔
اس کے بعد 20نومبر2025ء کو شوہرنے بیوی سے فون پر کہا کہ "میں نے تجھے طلاق دی" تو اس سے دوسری طلاق واقع ہو گئی، کیونکہ پہلی طلاق واقع ہونے کے وقت عورت حاملہ تھی اور اس کی عدت وضع حمل یعنی ولادت کے وقت تک تھی اور شرعی اعتبار سے عدت کے دوران طلاقِ بائن کے بعد طلاقِ رجعی واقع ہو جاتی ہے، اس لیے اس جملہ سے دوسری طلاق واقع ہو گئی اور اس کے دوسرے دن بچے کی ولادت ہو جانے سے عورت کی عدت ختم ہو گئی، لہذا اب عدت ختم ہو جانے کی بناء پر وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں شرعاً آزاد ہے اور اگر سابقہ شوہر دوبارہ نکاح کرنا چاہتا ہے تو فریقین باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، البتہ اس کے بعد شوہر کو صرف ایک طلاق کا حق باقی ہو گا، لہذا آئندہ کے لیے طلاق کے معاملے میں سخت احتیاط کی ضرورت ہو گی۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 107) الناشر: دار الكتب العلمية:
ولو قال لامرأته: لست - لي بامرأة، ولو قال لها: ما أنا بزوجك، أو سئل فقيل له هل لك امرأة؟ فقال: لا فإن قال أردت الكذب يصدق في الرضا والغضب جميعا ولا يقع الطلاق، وإن قال: نويت الطلاق يقع الطلاق على قول أبي حنيفة.
وقال أبو يوسف ومحمد لا يقع الطلاق، وإن نوى ولو قال: لم أتزوجك ونوى الطلاق لا يقع الطلاق بالإجماع. وكذا إذا قال: والله ما أنت لي بامرأة أو قال: علي حجة ما أنت لي بامرأة أنه لا يقع الطلاق وإن نوى بالاتفاق.
وجه قولهما: أن قوله: لست لي بامرأة أو لا مرأة لي أو ما أنا بزوجك كذب؛ لأنه إخبار عن انتفاء الزوجية مع قيامها فيكون كذبا فلا يقع به الطلاق كما إذا قال: لم أتزوجك أو قال: والله ما أنت لي بامرأة ولأبي حنيفة أن هذه الألفاظ تحتمل الطلاق فإنه يقول: لست لي بامرأة لأني قد طلقتك فكان محتملا للطلاق، وكل لفظ يحتمل الطلاق إذا نوى به الطلاق كان طلاقا كقوله: أنت بائن ونحو ذلك.
فتح القدير للكمال ابن الهمام (4/ 67) الناشر: دار الفكر،بيروت:
واختلف في لست لي بامرأة وما أنا لك بزوج ونوى الطلاق يقع عند أبي حنيفة، وقالا لا لأن نفي النكاح ليس طلاقا بل كذب فهو كقوله: لم أتزوجك أو والله ما أنت لي امرأة، أو لو سئل هل لك امرأة؟ فقال: لا ونوى الطلاق لا يقع كذا هنا.
وله أنها تحتمله: أي لست لي بامرأة لأني طلقتك فيصح نفيه كما في لا نكاح بيني وبينك ومسألة الحلف ممنوعة، وبعد التسليم نقول بدلالة اليمين علم أنه أراد النفي عن الماضي لا في الحال لأن الحلف يكون فيما يدخله الشك لا في إنشاء النفي في الحال.
درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 370) الناشر: دار إحياء الكتب العربية:
(الصريح يلحق الصريح) أي إذا قال أنت طالق أنت طالق أو قال أنت طالق وطالق تطلق ثنتين وهو ظاهر. (و) الصريح يلحق (البائن) أي إذا أبانها، ثم قال أنت طالق يقع الطلاق؛ لأنه تعالى قال {فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229] يعني الخلع، ثم قال {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] والفاء للتعقيب مع الوصل، فيكون هذا نصا على وقوع الثالثة بعد الخلع الذي هو طلاق بائن، وقد حقق هذا في التلويح.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
8/رجب المرجب ٰ1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


