| 86054 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرے داماد....... ..... نے میری بیٹی کو ایک مرتبہ گھر پر اور دو مرتبہ میرے دروازے پر کھڑے ہو کر طلاق دی۔ وہ میری بیٹی پر شدید تشدد کرتا تھا اور ماں، باپ اور بہن بھائی کے سامنے اسے گالیاں دیتا تھا۔ ہم نے نظرانداز کیا تاکہ گھر خراب نہ ہو، لیکن اب اس نے تین دفعہ طلاق دے دی ہے۔ اس کے بہن بھائی اصرار کر رہے ہیں اور دوبارہ گھر بسانے کی بات کر رہے ہیں کہ کوئی بات نہیں، خاندان میں یہ ہوتا رہتا ہے۔ حالانکہ اس نے میرے اور میرے گھر والوں کے سامنے چلا چلا کر طلاق دی ہے۔ میرے محلے کے لوگ بھی اس کے گواہ ہیں، اور میری بیٹی نے بھی طلاق کے الفاظ سنے ہیں۔ درج ذیل لوگ بھی گواہی دیتے ہیں: والد سردار حبیب، بیٹا وجاہت محمد خان، بیٹی مدیحہ فاطمہ، نعیم احمد اور شبانہ تبسم۔ آپ سے اس حوالے سے فتویٰ درکار ہے۔ طلاق 22 دسمبر کو دی گئی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں، جب آپ کے داماد نے آپ کی بیٹی کو تین طلاقیں دے دی ہیں اور اتنے سارے لوگ اس کے گواہ ہیں، تو بحیثیت مجموعی، مسئولہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو گئی ہے۔ موجودہ حالت میں حلالہ کے بغیر میاں بیوی کے درمیان نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی نکاح۔ لہٰذا، عورت عدت (تین حیض) گزار کر آزاد ہو جائے گی اور اس کے بعد جہاں چاہے شادی کر سکتی ہے۔
حوالہ جات
فی سنن ابن ماجة (ج 2 / ص 152)
حدثنا محمد بن رمح . أنبأنا الليث بن سعد ، عن إسحاق بن أبى فروة ،عن أبى الزناد ، عن عامر الشعبى قال :
قلت لفاطمة بنت قيس :حدثينى عن طلاقك . قالت : طلقني زوجي ثلاثا ، وهو خارج إلى اليمن .فأجاز ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم .
الفتاوى الهندية - (ج 10 / ص 196)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز .أما الإنزال فليس بشرط للإحلال.
أحكام القرآن للجصاص ج: 5 ص: 415
قوله تعالى: ( فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ﴾ منتظم لمعان: منها تحريمها على المطلق
ثلاثا حتى تنكح زوجا غيره، مفيد في شرط ارتفاع التحريم الواقع بالطلاق الثلاث العقد والوطء جميعا; لأن النكاح هو الوطء في الحقيقة، وذكر الزوج يفيد العقد، وهذا من الإيجاز واقتصار على الكناية المفهمة المغنية عن التصريح. وقد وردت عن النبي صلى الله عليه وسلم أخبار مستفيضة في أنها لا تحل للأول حتى يطأها الثاني، منها حديث الزهري عن عروة عن عائشة: أن رفاعة القرظي طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير، فجاءت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا نبي الله إنها كانت تحت رفاعة فطلقها آخر ثلاث تطليقات فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير وإنه يا رسول الله ما معه إلا مثل هدبة الثوب فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: "لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك".
السنن الكبرى للبيهقي (7/ 552)
أخبرنا أبو أحمد المهرجاني، أنا أبو بكر بن جعفر المزكي، نا محمد بن إبراهيم البوشنجي، نا ابن بكير، نا مالك، عن ابن شهاب، عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان، عن محمد بن إياس بن البكير، أنه قال: طلق رجل امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بها ثم بدا له أن ينكحها فجاء يستفتي فذهبت معه أسأل له فهذه رواية سعيد بن جبير وعطاء بن أبي رباح ومجاهد وعكرمة وعمرو بن دينار فسألت أبا هريرة وعبد الله بن عباس عن ذلك فقالا له: " لا نرى أن تنكحها حتى تتزوج زوجا غيرك " قال: فإنما كان طلاقي إياها واحدة فقال ابن عباس: " إنك أرسلت من يدك ما كان لك من فضل "ومالك بن الحارث ومحمد بن إياس بن البكير ورويناه عن معاوية بن أبي عياش الأنصاري كلهم عن ابن عباس أنه أجاز الطلاق الثلاث وأمضاهن.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
27/6/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


