03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ناجائز امور میں والدین کی اطاعت ؟
86074جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

       میں  دبئی میں گورنمنٹ ملازمت کرتا ہوں ،میری بیٹی کی عزت میرے بھائی سے محفوظ نہیں ۔میرے والدین مجھے باہر کرائے کے مکان میں رہنےکی اجازت نہیں دیں گے،مجھے کیاکرنا چاہیے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر بچی کی عزت مشترکہ گھر میں محفوظ نہیں اور والدین سمجھانے کے باوجود بھی دوسرےگھر میں  رہنے کی اجازت نہیں دیتے تو والدین  کی اجازت کے بغیربھی  آپ کرایہ کے گھر کا انتظام کرسکتے ہیں،شرعًا آپ کو اس معاملہ میں والدین کی بات نہ ماننے سے کوئی گناہ نہیں ہوگا،کیونکہ شریعت  نے  گناہ کے کام میں مخلوق کی اطاعت  نہ   کرنے کا حکم فرمایاہے۔البتہ کرایہ کے گھر میں منتقل ہونے کے بعد والدین سے قطع تعلق نہیں کرنا چاہیے اورجائز امور میں   ان کے ساتھ تعاون کرنے  میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔

حوالہ جات

أخرج الإمام الترمذي رحمہ اللہ تعالٰی عن ابن عمررضي اللہ  تعالٰی عنہ ، قال: قال رسول  اللہ صلى اللہ عليه وسلم: السمع والطاعة على المرء المسلم فيما أحب وكره، ما لم يؤمر بمعصية، فإن أمر بمعصية فلا سمع عليه ولا طاعة.وفي الباب عن علي، وعمران بن حصين، والحكم بن عمرو الغفاري.وهذا حديث حسن صحيح.(سنن ترمذي:325/3،رقم الحدیث:(1707

جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم

    دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

27    جمادی الآخرۃ1446ھ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب