| 86063 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
PL ایک سافٹ وئیر کمپنی ہے جو بیرون ِ ملک کلائنٹس کو مختلف قسم کے سافٹ وئیر سے متعلق خدمات فراہم کرتی ہیے۔ کمپنی کا ٪99 بزنس بیرون ممالک سے آتا ہے ،بیرون ِ ممالک سے کلائنٹ تلاش کرنے کے اکثر ذرائع شرعاً ناجائز ہیں ،کمپنی دیگر کمپنیوں کی طرح کلائنٹ تلاش کرنے کے لئے ان ناجائز ذرائع کا استعمال نہیں کرتی جس وجہ سے کمپنی کوکلائنٹ ملنے کے مواقع کم ہو تے ہیں،اور دوسری بات یہ ہے کہ جو ممالک کمپنی (PL)سے کام کرواتے ہیں ان میں سے ایک بڑی تعداد غیر مسلم ممالک کی ہے،اور ان ممالک میں سے جو ادارے کمپنی سے کام کرواتے ہیں وہ کام اکثر شرعاً ناجائز ہوتے ہیں لیکن کمپنی ان اداروں کو انکی خواہش کے مطابق سروسز فراہم کرتی ہے،اب صورت ِ حال یہ ہے کہ کمپنی کے پاس ناجائز ذرائع استعمال نہ کرنے کی وجہ سے کلائنٹ پہلے ہی بہت کم آتے ہیں ،اور جو آتے ہیں اگر کمپنی انکا کام بھی نہ کرے تو کمپنی دیگر کمپنیوں کے مقابلہ میں پیچھے بھی رہ جائیگی اور کمپنی کے اخراجات بھی پورے نہیں ہونگے،اب توجہ طلب بات یہ ہے کہ کمپنی کے لئے مذکورہ غیر شرعی اداروں کوسافٹ وئیر بناکر دینے یا دیگر سروسز فراہم کرنے کا کیا حکم ہے؟کیاغیر شرعی اداروں کے لئے کام کرنے کی وجہ سےکمپنی اعانت علی المعاصی کی مرتکب شمار ہو گی جبکہ دارالعلوم کراچی کے فتویٰ (1530/22/بینک میں آٹی کی جاب) کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو صورت ِ مسئولہ میں کمپنی اعانت علی المعاصی کی مرتکب معلوم نہیں ہوتی،اورفتاویٰ شامی کی عبارت میں غیر مسلم کے لئے شراب اٹھانے اور خنزیر چرانے کی اجرت میں امام ابو حنیفہ اور صاحبین رحمھم اللہ کے اختلاف میں امام صاحب کے قول کو مد ِ نظر رکھتے ہوئے کمپنی کے لئے غیر شرعی اداروں کو سروسز دینے کی کوئی گنجائش نکل سکتی ہے یا نہیں؟فتاویٰ شامی کی عبارت درج ذیل ہے:
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» ( 6/ 392):(قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لا بأس به لأنه لا معصية في عين العمل (قوله وحمل خمر ذمي)قال الزيلعي: وهذا عنده وقالا هو مكروه " لأنه عليه الصلاة والسلام «لعن في الخمر عشرة وعد منها حاملها» وله أن الإجارة على الحمل وهو ليس بمعصية، ولا سبب لها وإنما تحصل المعصية بفعل فاعل مختار، وليس الشرب من ضرورات الحمل، لأن حملها قد يكون للإراقة أو للتخليل، فصار كما إذا استأجره لعصر العنب أو قطعه والحديث محمول على الحمل المقرون بقصد المعصية اهـ زاد في النهاية وهذا قياس وقولهما استحسان، ثم قال الزيلعي: وعلى هذا الخلاف لو آجره دابة لينقل عليها الخمر أو آجره نفسه ليرعى له الخنازير يطيب له الأجر عنده وعندهما يكره.وعندهما يكره. مذکورہ صورت ِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے کمپنی کے لئے غیر شرعی اداروں کوسروسزفراہم کرنے کی گنجائش ہے یا نہیں۔ اگر گنجائش ہے تو اسکی حدود و قیود کیا ہونگی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں چونکہ یہ بات مذکور ہے کہ جو ادارے کمپنی سے کام کرواتے ہیں وہ کام اکثر شرعاً ناجائز ہوتے ہیں اور کمپنی ان اداروں کو انکی خواہش کے مطابق سروسز فراہم کرتی ہے ۔تو ایسا کرنا شرعا ناجائز ہے اور یہ اعانت علی المعصیہ کے زمرے میں داخل ہے۔ دارالعلوم کے فتوی میں اعانت علی المعاصیہ کا حکم اس لیے نہیں لگا یا گیا ہے کہ اس شخص کا کام فی نفسہ جائز ہے ۔نیز فتاوی شامیہ میں مذکور امام ابو حنیفہ ؒ کا قول قیاس پر مبنی ہے جبکہ صاحبین کا قول استحسان پر مبنی ہے۔ اور شامیہ ہی کے مطابق ایک ہی مسئلہ میں قیاس اور استحسان میں سے استحسان پر عمل کیا جائے گا۔ لہذا امام صاحب کے قول پر فتوی نہیں ہے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم (المائدة، الایة 2) :
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ o
فقه البیوع (192/1) :
الاعانة علی المعصیة حرام مطلقا بنص القرآن اعنی قوله تعالی: ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان (المائدۃ:2) وقوله تعالی: فلن اکون ظھیرا للمجرمین (القصص:17) ولکن الاعانة حقیقة ھی ما قامت المعصیة بعین فعل المعین، ولا یتحقق الا بنیة الاعانة او التصریح بھا الخ۔
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق (ج 16 / ص 423) :
قال رحمه الله : ( وحمل خمر لذمي بأجر ) أي جاز ذلك أيضا ، وهذا عند أبي حنيفة رحمه الله ، وقالا هو مكروه ؛ لأنه عليه الصلاة والسلام لعن في الخمر عشرة ، وعد منها حاملها ، وله أن الإجارة على الحمل ، وهو ليس بمعصية ، ولا تسبب لها ، وإنما تحصل المعصية بفعل فاعل مختار ، وليس الشرب من ضرورات الحمل ؛ لأن حملها قد يكون للإراقة أو التخليل فصار كما لو استأجره لعصر العنب أو قطفه ، والحديث محمول على الحمل المقرون بقصد المعصية ، وعلى هذا الخلاف إذا آجره دابة لينقل عليها الخمر أو آجره نفسه ليرعى له الخنازير فإنه يطيب له الأجر عند أبي حنيفة رحمه الله ، وعندهما يكره.
( قوله : وقالا هو مكروه ) قال فخر الإسلام قول أبي حنيفة قياس ، وقولهما استحسان . ا هـ . غاية ، وكتب ما نصه ؛ لأنه إعانة على المعصية فيكره لقوله تعالى {ولا تعاونوا على الإثم والعدوان } . ا هـ . غاية ( قوله : وعد منها حاملها) ، وإنما لعن الحامل لإعانته على المعصية . ا هـ . غاية. ( قوله : المقرون بقصد المعصية ) أي ، وهو شرب الخمر ، ولا كلام لنا فيه فإن ذلك مكروه . ا هـ غاية.
حاشية رد المحتار (ج 1 / ص 77) :
وإذا كان في مسألة قياس واستحسان فالعمل على الاستحسان إلا في مسائل معدودة مشهورة.
الدر المختار (4/ 268):
(ويكره) تحريما (بيع السلاح من أهل الفتنة إن علم) لأنه إعانة على المعصية (وبيع ما يتخذ منه كالحديد) ونحوه يكره لأهل الحرب (لا) لأهل البغي لعدم تفرغهم لعمله سلاحا لقرب زوالهم، بخلاف أهل الحرب زيلعي.
ارسلان نصیر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
25/جمادی الثانیہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


