03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین بیٹےاور دو بیٹیوں میں تقسیم میراث
86116میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہم پانچ بہن بھائی ہیں،دوبہنیں اورتین بھائی ہیں،ہمارے ابو کا انتقال ہوا ہے ،ان کا گھر ہے،جس کی قیمت تقریبا ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ہے،اس میں بہن بھائیوں کا کتنا حصہ ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

والدمرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہےاوراسی طرح مرحوم کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ  سب مرحوم کا ترکہ ہے،اس میں سب سے پہلے کفن دفن کے معتدل اخراجات(اگر کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان نہ کیے ہوں تو) نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال  ورثہ میں تقسیم کیاجائے، تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے:۔

میراث کے 8 حصے بنائے جائیں گے،جن میں سے6حصے  تین بیٹوں کے ہوں گے،یعنی ہربیٹے کو دو حصے ملیں گے،جبکہ 2 حصے دوبیٹیوں کے ہوں گے،ہربیٹی کو ایک حصہ ملے گا.

نمبر

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

مکان کی رقم

1

بیٹا

2

25

4,000,000

2

بیٹا

2

25

4,000,000

3

بیٹا

2

25

4,000,000

4

بیٹی

1

12.5

2,000,000

5

بیٹی

1

12.5

2,000,000

 

 

 

 

 

 

 

حوالہ جات

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

27/ جمادی الثانیہ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب