| 86116 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ہم پانچ بہن بھائی ہیں،دوبہنیں اورتین بھائی ہیں،ہمارے ابو کا انتقال ہوا ہے ،ان کا گھر ہے،جس کی قیمت تقریبا ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ہے،اس میں بہن بھائیوں کا کتنا حصہ ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
والدمرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہےاوراسی طرح مرحوم کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب ہو، يہ سب مرحوم کا ترکہ ہے،اس میں سب سے پہلے کفن دفن کے معتدل اخراجات(اگر کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان نہ کیے ہوں تو) نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال ورثہ میں تقسیم کیاجائے، تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے:۔
میراث کے 8 حصے بنائے جائیں گے،جن میں سے6حصے تین بیٹوں کے ہوں گے،یعنی ہربیٹے کو دو حصے ملیں گے،جبکہ 2 حصے دوبیٹیوں کے ہوں گے،ہربیٹی کو ایک حصہ ملے گا.
|
نمبر |
وارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
مکان کی رقم |
1 |
بیٹا |
2 |
25 |
4,000,000 |
2 |
بیٹا |
2 |
25 |
4,000,000 |
3 |
بیٹا |
2 |
25 |
4,000,000 |
4 |
بیٹی |
1 |
12.5 |
2,000,000 |
5 |
بیٹی |
1 |
12.5 |
2,000,000 |
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
27/ جمادی الثانیہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


