03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشترک زمین میں کسی ایک شریک کا عمل اور نفع کی تقسیم
86067کھیتی باڑی اور بٹائی کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

 عبدالباسط ،عبد الواسع ،امین اللہ ،باز محمد ایک زمین میں مشترک ہیں،اب امین اللہ یہ کہتاہے کہ میں اس زمین کو بطور کسان آباد کرتاہوں،پھر جونفع آیا ،اس میں سے آدھا میرا ہے اور آدھا آپ لوگ آپس میں تقسیم کریں،کیا ایسی صورت جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عقد مزارعت میں اگرزمین اور بیج عاقدین کے درمیان مشترک ہوں اور عمل ایک جانب سے ہو تو ایسی صورت میں اگر عامل کواس کے عمل کے عوض اس کے حصے سے زیادہ مقدارمتعین کر دی جائے   تویہ جائز نہیں،حصوں کے بقدرتقسیم ضروری ہے ،البتہ شریک کو الگ عقد کے ذریعے بطور اجیر مقرر کرنااور کام کے بدلے تنخواہ دینا جائز ہےاوراگرمشترک زمین میں  بيج كا خرچہ عامل شریک  پر ہو تو ایسی صورت میں مزارعت درست ہے،اورشریک عامل کے لئے  زمین میں اس کے حصے سے زیادہ مقدار دینے کی شرط رکھناجائزہے۔

مسئولہ صورت کےمطابق اگر چار شرکاء میں سے تین نے ایک شریک  کو کل مشترکہ زمین مزارعت پر دی ہو اور کاشت کاری میں بیج وغیرہ کے اخراجات اجتماعی طور پر برداشت کرتے ہوں تو عمل کرنے والوں کے لیے ان کے حصے سے زیادہ حصہ دینے کی شرط رکھنا جائز نہیں،البتہ  عمل کرنے والے شریک  کے لیے  ان کے حصے کے علاوہ دیگر شرکا کے حصہ میں عمل کے  عوض  اجرت دینے کی شرط رکھنا جائز ہے،اسی طرح اگربیج کا خرچ صرف عمل کرنے والوں پر ڈالا جائے توپھر ان کے لئے ان کے حصہ ملکیت سے زیادہ حصہ مقرر کیا جاسکتا ہے۔ 

حوالہ جات

الفتاوى الهندية(5/276):

ولو كانت الأرض والبذر منهما وشرطا العمل على أحدهما على أن يكون الخارج بينهما نصفين

جاز ويكون غير العامل مستعينا في نصيبه ولو كانت الأرض والبذر منهما وشرطا للدافع ثلث الخارج والثلثين للعامل لا يجوز في أصح الروايتين.

بدائع الصنائع (8/288):

ولا يشبه هذا المزارعة؛ لأن الأرض إذا كانت مشتركة بين اثنين دفعها أحدهما إلى صاحبه مزارعة على أن يزرعها ببذره،وله ثلثا الخارج أنه تجوز المزارعة؛ لأن هناك لم يتحقق الاستئجار للعمل في شيء الأجير فيه شريك المستأجر لانعدام الشركة في البذر۔

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

27/ جمادی الثانیہ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب