| 86055 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میری بیوی کا کچھ عرصہ پہلے انتقال ہوا، ورٕثا میں ایک شوہرہے﴿جو میں خود ہوں ) چھ لڑکیاں ہیں، لڑکا نہیں ہے،مرحومہ کاایک حقیقی بھائی،ایک حقیقی بہن اوردو ماں شریک بہنیں بھی حیات ہیں۔
مرحومہ نے ترکہ میں کچھ زیورات چھوڑے ہیں جن کے متعلق مرحومہ نے یہ وصیت کی تھی کہ یہ ان کی لڑکیوں کو دیئے جائیں ۔تومیں نے ان کی وصیت کے مطابق لڑکیوں میں تقسیم کئے، بعدمیں معلوم ہوا کہ وصیت کے مطابق تقسیم کرنا غلط ہے، بلکہ وراثت کے اصول کے مطابق تقسیم کرنا ضروری ہے۔
وصیت کے مطابق زیورات کی قیمت جو تقسیم ہوئی وہ حسب ذیل ہے ۔
شوہر 800000
بیٹی یاسمین 350000
بیٹی حاجرہ 160000
بیٹی قدسیہ525000
بیٹی مہ جبین 352000
بیٹی تسنیم400000
بیٹی عائشہ480000
باقی ملکیت میں کیش 340000
آپ سے التماس ہے شریعت کے مطابق تقسیم بتا دیں کہ کس بیٹی اوروارث کو کتنا حصہ ملے گا،تاکہ سب ان کا حصہ دیاجاسکے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بیٹیاں چونکہ وارث ہیں اوروارث کےلیے وصیت باقی ورثہ کی اجازت کے بغیرصحیح نہیں ہے،اس لیے مذکورتقسیم کی اگرسب ورثہ اجازت نہیں دیتے تویہ صحیح نہیں ہے اورشرعی تقسیم کاطریقہ درج ذیل ہوگا۔
مرحومہ کےکفن دفن کے اخراجات اگرکسی نے تبرعاً ادا نہ کیے ہوں توشوہرپرہونگے،اس کے بعدسب سے
پہلےمرحومہ بیوی کےترکہ میں سےقرض اورغیروارث کےلیےوصیت (اگرکی ہو)کی ادائیگی ہوگی اوراس کے بعد اگر مرحومہ کےانتقال کے وقت صرف یہی لوگ زندہ ہوں جوسوال میں مذکورہیں توکل منقولہ ،غیرمنقولہ ترکہ میں سے مرحومہ کے شوہرکو%25 (851750روپے)،ہربیٹی کو %11.111 (378555.562روپے)،حقیقی بھائی کو %5.555 (189277.781روپے)،اورحقیقی بہن کو%2.777 (94638.89روپے)حصہ ملے گا،اورماں شریک بہنیں مرحومہ کی میراث سے محروم ہونگی۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (90/6)
"ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين و لاتجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية ... ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة."
وفی الدرالمختار وحاشیہ ابن عابدین:
"(ولا لوارثه وقاتله مباشرة) (إلا بإجازة ورثته) لقوله عليه الصلاة والسلام: «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث (وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون وإجازة المريض كابتداء وصية ولو أجاز البعض ورد البعض جاز على المجيز بقدر حصته."
وفی رد المحتار:
الترکۃ في الاصطلاح ماترکہ المیت من الأموال صافیا عن تعلق حق الغیر بعین من الأموال۔ ( کتاب الفرائض، کراچي ۶/۷۵۹، مکتبۃ زکریا دیوبند ۱۰/۴۹۳)
وفی شرح المجلۃ:
إن أعیان المتوفي المتروکۃ عنہ مشترکۃ بین الورثۃ علی حسب حصصہم۔ (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز، مکتبۃ اتحاد دیوبند ۱/۶۱۰، رقم المادۃ: ۱۰۹۲)
و في كنز الدقائق :
"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..." (ص:696, المكتبة الشاملة)
وفی الشامیة:
"واختلف في الزوج، والفتویٰ عی وجوب کفنہا علیه عند الثاني، وإن ترکت مالاً (الدر المختار) … أنه یلزمه کفنہا وإن ترکت مالاً وعلیه الفتویٰ".(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، 2/ 206، ط: سعيد)
وفی الاختیار لتعلیل المختار (92/5، ط: مطبعة الحلبي):
فصل [في العصبات] وهم نوعان: عصبة بالنسب، وعصبة بالسبب. أما النسبية فثلاثة أنواع: عصبة بنفسه، وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى وأقربهم جزء الميت، وهم بنوه ثم بنوهم وإن سفلوا، ثم أصله وهو الأب، ثم الجد، ثم جزء أبيه، ثم بنوهم، ثم جزء جده، ثم بنوهم، ثم أعمام الأب، ثم بنوهم، ثم أعمام الجد، ثم بنوهم وهكذا، وعصبة بغيره، وهم أربع من النساء يصرن عصبة بإخوتهن، فالبنات بالابن وبنات الابن بابن الابن، والأخوات لأب وأم بأخيهن، والأخوات لأب بأخيهن. وعصبة مع غيره، وهم الأخوات لأبوين أو لأب يصرن عصبة مع البنات وبنات الابن. وعصبة ولد الزنا وولد الملاعنة موالي أمهما، والمعتق عصبة بنفسه ثم عصبته على الترتيب وهو آخر العصبات.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
28/6/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


