03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بذریعہ دوا اترے ہوئے دودھ سے ثبوت رضاعت
86090رضاعت کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

ادویات اور علاج کے ذریعہ بانجھ عورت کو اگر دودھ اُتر آئےتو وہ عورت مدت رضاعت میں کسی بچی کو دودھ پلانے سے اس بچی کی رضاعی ماں بن سکتی ہے یا نہیں اور اسی بانجھ عورت کا شوہر مذکورہ بچی کا رضاعی باپ یا کم از کم محرم بن سکتا ہے یا نہیں؟ اورکیا  بلوغت کے بعد بچی کو عورت کے شوہر  سے  پردہ کرنا لازم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 بچہ یابچی کاکسی عورت اور اس کے خاوند  دونوں سے حرمت رضاعت  کے ثبوت کے لئے ضروری ہے کہ عورت نے مدت رضاعت میں  جو دودھ پلایا ہو وہ خاوند کی وجہ سے اترا ہو۔ اس کے علاوہ کسی بھی وجہ سے دودھ اترنے پر عورت سے  تو حرمت رضاعت ثابت ہو جائے گی ،لیکن عورت کے خاوند سے حرمت رضاعت ثابت نہ ہو گی ۔

صورت مسؤولہ میں چونکہ   عورت کا دودھ دوا کی وجہ سے اترا ہے ،لہذا بچی کی عورت سے  تو  حرمت رضاعت ثابت ہو جائے گی اور وہ بچی کی رضاعی ماں بن جائے گی ،البتہ مرد سےحرمت رضاعت ثابت نہ ہو گی  اور بلوغت کے بعد بچی کا عورت کے خاوند سے  پردہ کرنا لازم ہوگا ۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 221): رضاعت

لو تزوج امرأة ولم تلد منه قط ونزل لها لبن وأرضعت ولدا لا يكون الزوج أبا للولد لأن نسبته إليه بسبب الولادة منه، وإذا انتفت انتفت النسبة فكان كلبن البكر۔

الاختيار لتعليل المختار»(3/ 118):

ولو ولدت من رجل، وأرضعت، ثم يبس اللبن، ثم در، فأرضعت به صبيا يجوز لذلك الصبي أن يتزوج بنت الزوج من غيرها. وكذا لو لم تلد منه قط، فنزل لها لبن۔

حسن علی عباسی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

29/جمادی الثانیہ 1446

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب