03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رضامندی سےتقسیمِ جائیداداورقبضے کے بعداعتراض کرنے کاحکم
86083ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

 والد صاحب کی تقسیم پر تمام بھائی راضی تھے،اور اسی طرح ہر بھائیوں میں سے ہربھائی نے اپنا حصہ لیا،تقریبا ایک سال کے بعد ہدایت اللہ نے اعتراض کیاکہ والد صاحب نے اس کے ساتھ ناانصافی کی ہے،آیا شریعت میں اس بھائی کو اعتراض کا حق ہے؟حالانکہ والد صاحب اور باقی بھائی  اس فیصلے سے راضی ہیں اور اپنے اپنے کاروبار میں مگن ہیں۔

 نوٹ:شروع میں والد نے ایک دکان کھول کردی تھی،بعد میں بڑے بیٹے نے محنت کرکے مزید جائیداد بنائی ،بقیہ دوبھائی پہلے تعلیم حاصل کررہے تھے،بعد میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ کام میں شامل ہوگئے،اور اپنے کام کی تنخواہ بھی لیتے تھے۔والدنے سال پہلے تینوں بیٹوں میں جائیداد تقسیم کی ہے،سب راضی ہوگئے تھے،بڑے بیٹے جس نے جائیداد بنائی ہے وہ بھی راضی تھے ،اور ابھی بھی راضی ہے،مگر ایک بھائی کو اب ایک سال کے بعد تقسیم پر اعتراض ہوگیا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ والد  نے دکان سے ابتداء کی ہے،اور پھر بڑے بیٹے نے اپنی محنت سے مزید جائیداد بنائی ہے،اصولا یہ جائیداد ان دونوں کی ہے اور انہوں نے اپنی خوشی سے دیگر بھائیوں میں تقسیم کی ہے، تو یہ شرعًا ہبہ ہے،جب تمام  بیٹےاس تقسیم پر متفق ہوگئے تھے، اور جس بیٹے کے حصے میں جس قدر جائیداد آئی، وہ اس بیٹے نے برضا وخوشی قبول کر لی تھی، تو یہ ایسا ہے کہ جیسا اس بیٹے نے اپنا پورا حصہ وصول کر لیا ہے۔ اب اس تقسیم پر کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے۔

حوالہ جات

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

29/ جمادی الثانیہ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب