| 86127 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
مورخہ 24-12-20 بروز جمعرات (شب جمعہ)میری بیوی اورمیرے درمیان چھوٹی سی بات پر معمولی نوعیت کا جھگڑا ہوا جو کہ کچھ دیر بعد شدید اختلاف رائے کی صورت اختیار کر گیا ۔ میں غصے میں کمرہ چھوڑ کر جانے لگا تو میری بیوی نے طلاق کا مطالبہ کیا۔ ایسے مطالبات بیوی کی طرف سے غصے کی حالت میں پہلے بھی ہوتے رہے ہیں اور ہمیشہ کی طرح اس بار بھی میرا طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ لہذا میری زبان سے وہ جملہ ادا نہ ہو جس سے واپسی کی کوئی تدبیر باقی نہیں رہتی تو میں نے شدید غصے کی حالت میں ان الفاظ کا استعمال کیا ۔ " تم آزاد ہو، جہاں جانا ہے،جاؤ" میری یادداشت کے مطابق میں نے مطالبے پر دوبار یہ جملہ کہا ہے،جبکہ میری بیوی کی یادداشت کے مطابق میں نے مطالبے پر تین بار یہ جملہ دہرایا ہے،میری نیت طلاق کی ہر گز نہیں تھی بلکہ میں نے اس کا انتخاب ہی اس لیے کیا تھا تاکہ میری زبان سے طلاق کے کوئی الفاظ ادا نہ ہو جائیں اور نہ ہی مجھے اپنے کہے الفاظ کی خاص شرعی حیثیت کا کوئی علم تھا۔ تھوڑی دیر بعد جب ہمارا غصہ کم ہوا تو میری بیوی نے ہی اس مسئلے کی طرف میری توجہ دلائی جس پر شروع میں تو مجھے یقین ہی نہیں آیا،لیکن غور و فکر کرنے پر احساس ہوا کہ اس مسئلے پر علماء کی رائے اللہ کے حکم کے مطابق ضرور لینی چاہئیے ۔ (جبکہ میری بیوی بھی مجھ سے حقیقت میں علیحدگی نہیں چاہتی مگر وہ غم و غصے کی حالت میں اکثر و بیشتر یہ مطالبہ کر دیتی ہے اور جب ہمارے درمیان صلح ہوتی ہے تو وہ اپنے مطالبے پر شرمندہ بھی ہوتی ہے اورمعافی بھی مانگتی ہے)۔ ہم دونوں میاں بیوی اپنی غلطیوں پر شرمندہ ہیں اور آئندہ کبھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑا کر کے اپنے رشتے کو خراب نہیں کرینگے۔ یہ تحریر لکھتے وقت میرے ساتھ میری بیوی بھی موجود ہے. اس تحریر میں لکھی ہوئی تمام معلومات پر ہم دونوں کا اتفاق ہے ۔ یہ سارا واقعہ ہم دونوں کی یاد داشت کے عین مطابق درست ہے۔ برائے کرم ہماری رہنمائی فرما دیجیئے.نوٹ : ہمارے عرف میں آزاد کا لفظ طلاق کے لیے نہیں بولا جاتا ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کے عرف میں لفظ آزاد طلاق کے لیے استعمال نہیں ہوتا ،بلکہ اس کے علاوہ بیوی کو دوسرے معنی میں بھی بولا جاتا ہے،مثلا برا بھلا،دورکرنے،ٹالنے وغیرہ کےمعنیٰ میں ،لہذایہ الفاظ " کنایاتِ طلاق" شمار ہوں گے،اس لیےلڑائی کے دوران استعمال کرنے سے طلاقِ بائن واقع ہو گی، اگرچہ اس وقت شوہر کی نیت طلاق کی نہ ہو، شوہر نے لڑائی میں جب پہلی بار اس طرح کے الفاظ کہے تھے، تو اس وقت ان الفاظ سے قضاء ً ایک بائن طلاق واقع ہوگئی تھی ، پھر اس کے بعد جتنی بار بھی یہ الفاظ بولے ہوں ، ان سے کوئی اور طلاق واقع نہیں ہوئی، کیوں کہ ایک بائن طلاق کے بعد دوسری بائن واقع نہیں ہوتی ۔بیوی جدا ہوگئی ہے،شوہر کو ایسی صورت میں رجوع کرنے کا حق نہیں، البتہ اگر شوہر نے اس سے پہلے یا بعد میں صریح الفاظ میں کوئی اورطلاق نہ دی ہو، تو اب دونوں باہمی رضامندی سے عدت کے اندر یا اس کے بعد نئے مہر کے ساتھ نکاح کرسکتے ہیں۔نکاح کا طریقہ بھی عام نکاح کی طرح ہے، دو مسلمان عاقل بالغ مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ ایجاب و قبول کیا جائے، نکاح کے وقت خطبے کی بھی فضیلت ہے،مگر نکاح اس کے بغیر بھی درست ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار (3/296):
الكنايات (لا تطلق بها)قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب
فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث: ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، ونحو خلية برية حراما......(وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة، والنية باطنة.
حاشية ابن عابدين (3/ 301):
والحاصل أن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة، والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية، والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية.
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
29/ جمادی الثانیة 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


