03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جبرواکراہ کی صورت میں طلاق کا حکم
86125طلاق کے احکاممدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

سوال

2023ء کومیری شادی ہوئی، میرے نکاح کے موقع پر ہی سسرال والوں نے مجھ سے لڑائی جھگڑے شروع کر دیے تھے، میں اپنے شوہر کے ساتھ بہت خوش  تھی، میری اپنےشوہر سے کبھی کوئی لڑائی نہیں ہوئی تھی۔البتہ میری نندوں سے ہر وقت کسی نہ کسی بات پر لڑائی ہو جاتی تھی، لڑائی میں نندیں میری کوئی بھی بات پکڑ کر ساس کےسامنے مجھے پیش کر دیتی تھیں، شروع ہی دن سے میرے شوہرکہتے تھےکہ کسی بات کا کوئی جواب نہ دو اور نہ ہی اپنی کوئی صفائی  دو،  میں نے نہ کبھی کسی سے کسی بات پر ضد کی اور نہ کبھی کسی بات کا جواب دیا  اور جب گھر میں کچھ ہوتا تو شوہر کہتے کہ یہ تمہارے گھر والوں کی وجہ سے تمہیں سزا  دیتے ہیں۔ میں صرف 4 مہینے ہی اپنے سسرال میں  رہی، اس کے بعدسے اب تک اپنے والد کے گھرپر ہوں، 16 ستمبر کو میرا بیٹا پیدا  ہوا، تب بھی سسرال سے کوئی ملنے نہیں آیا اور جب میں سسرال سے اپنے والد کے گھر آئی، تب بھی میری میرےشوہر سے کوئی لڑائی نہیں ہوئی تھی۔ سسرال والے مجھے گھر لے جانے پر راضی نہیں تھے، بیٹے کی پیدائش کے بعد میرے والد نے صلح کی کوشش کی، چنانچہ مجھے اور میرے شوہر کو ایک کمرے بیٹھایا گیا اور صلح کروانے والوں نے شوہر سے پوچھا کہ آپ کو اپنی بیوی سے کوئی شکایت ہے؟ تو اس نے کہا مجھے کوئی شکایت نہیں، اس کے بعد ساس کو بلانے کی کوشش کی گئی تو ساس اس کمرے میں نہ آئی، بلکہ اپنے گھر چلی گئی، اس کے بعد ساس نے فون پر نامعلوم شوہر سے کیا بات کی؟ کہ جس کو سنتے ہی وہ بے ہوش ہو گئے، اس کے بعد مجھے بڑوں نے واپس گھر بھیج دیا،  اس کے بعد سے آج تک انہوں نے مجھے دوبارہ لے جانے کی کوئی بات نہیں کی، میرے شوہر کی طبیعت بھی خراب رہتی تھی، ہر وقت ٹینشن کی وجہ سے ان کا بلڈ پر یشر ہائی رہتا تھا وہ بلڈ پریشر کے مریض تھے، بچے کی ولادت کو 19 دن ہی گزرے تھے کہ میرے سرال والوں نے 14 اکتوبر کو کورٹ کے ذریعے تحریری طلاق بھیج دی۔ مجھے یقین ہے کہ میرے شوہر سے ذہنی دباؤ میں جبر کر کے طلاق  نامہ پر دستخط لیے گئےہیں، میں نے اپنے شوہر کو طلاق سے پہلے بھی اور طلاق کے بعد بھی فون کیا تھا، لیکن میرے شوہر کا فون اس کے بھائی کے پاس تھا۔سوال یہ ہے کہ کیا ذہنی دباؤ اورجبر کی حالت میں طلاق کے کاغذات پر دستخط کروانے سے طلاق ہو جاتی ہے ؟

وضاحت: سائلہ نے بتایا کہ میرے شوہر بیمار رہتے ہیں، ان کا آغا خان سے کسی بیماری کا علاج بھی چل رہا ہے، اس بیماری کو سسرال  والوں سے مجھ سے چھپایا ہے، ان کا نارمل بی پی 195 رہتا ہے اور ٹینشن کی حالت میں 200سے اوپر چلاجاتا ہے، وہ میرے ساتھ بالکل خوش تھے، یہاں تک کہ میرے کمرے میں روتے ہوئے مجھے کہا کہ پتہ نہیں یہ لوگ کیوں تنگ کر رہے ہیں؟ بیٹے کی پیدائش کے بعد پھوپھی ساس نے جب لڑکے سے بات کی تو وہ بالکل چپ رہے، پھوپھی نے بتایا کہ اس پر بہت زیادہ دباؤ ہے، ایسے لگتا ہے کہ جیسے اس کے سرپر کسی نے بندوق رکھی ہو۔اصل میں ان کے بھائی نے کہا ہے کہ میں اس لڑکی کو ہرگز اس گھر میں نہیں آنے دوں گا، شوہر کی سم بھی ان کے بھائیوں کے پاس ہوتی ہے، شوہر گھر میں بالکل مجبور ہے اور وہ اپنی والدہ سے بہت ڈرتا ہے، اس لیے مجھے یقین ہے کہ یہ جبرواکراہ کی حالت میں دستخط کروائے گئے ہیں۔ باقی سائلہ سے شوہر کا نمبر لینے کی کوشش کی گئی، مگر اس کا رابطہ نمبر نہیں مل سکا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ نے پہلے بھی مذکورہ صورت سے متعلق  دارالافتاء سے سوال پوچھا تھا، جس میں جبرواکراہ کی تفصیل ذکر نہیں کی گئی تھی، اس لیے اس کے جواب میں ہمارے دارالافتاء سے طلاق کے وقوع کا حکم لکھا گیا تھا، اس سوال کا فتوی نمبریہ (86035/64) ہے، اب دوبارہ آپ نے سوال پوچھا ہے، جس میں جبر اور اکراہ کی حالت میں طلاق نامہ پر دستخط کرنے کی تفصیل ذکر کی گئی ہے اورشریعت کی رُو سے جبرواکراہ (واضح رہے کہ  طلاق کے معاملے میں معتبر جبر کی  حالت ہر شخص کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے، معزز آدمی کے حق میں لوگوں کے سامنے  گالم گلوچ کرنا، کان مروڑ دینا، گریبان کھینچنا اور گھر سے نکال دینے کی دھمکی دینابھی جبر میں داخل ہے، جبکہ عام آدمی کے حق میں جان سے مارنے، مار پیٹ کرنے یا ہاتھ پاؤں باندھ کر بند کمرہ میں چھوڑ دینے وغیرہ کو جبرواکراہ کہتے ہیں)کی حالت میں بغیر نیتِ طلاق کے طلاق نامہ پر محض دستخط کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، لیکن جبر اور اکراہ کے وقوع کا ثبوت شوہر کے بیان پر موقوف ہے۔ جبکہ سوال میں شوہر کا بیان ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی تفصیل معلوم کرنے کے لیے شوہر کا رابطہ نمبر دیا گیا ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں طلاق کے وقوع کا حکم شوہر کے بیان پر موقوف ہے، اگر شوہر اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ واقعتاً اس نے  جبر کی مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق حالتِ جبر اوراکراہ میں بغیر نیتِ طلاق کے دستخط کیے ہیں تو ایسی صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، لیکن اگر اس کا بیان اس کے خلاف ہو اور اس نے اپنی رضامندی سے طلاق نامہ پر دستخط کیے ہوں تو ایسی صورت میں طلاق نامہ پر دستخط کرنے کے وقت سے عورت پر تین طلاق واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو جائے گی اور اس کے بعد فریقین کا اسی حالت میں آپس رجوع یا دوبارہ نکاح کرنا بھی جائز نہیں ہو گا۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 379) دار الفكر،بيروت:

رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان.

فتاوى  قاضي خان(1/ 416) مكتبة رشيدية، كوئٹة:

رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة ههنا.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 175) دار الكتب العلمية:

وأما بيان أنواع الإكراه فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر، ومنهم من قدره بعدد ضربات الحد، وأنه غير سديد؛ لأن المعول عليه تحقق الضرورة فإذا تحققت فلا معنى لصورة العدد، وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 80) دار الكتاب الإسلامي:

وقد يكون فيه ما يكون في الحبس من الإكراه لما يجيء به من الاغتمام البين ومن الضرب ما يجد به الألم الشديد وليس في ذلك حد لا يزاد عليه ولا ينقص منه؛ لأنه يختلف باختلاف أحوال الناس فمنهم لا يتضرر إلا بضرب شديد وحبس مديد ومنهم من يتضرر بأدنى شيء كالشرفاء والرؤساء يتضررون بضرب سوط أو بفرك أذنه لا سيما في ملأ من الناس أو بحضرة السلطان. وفي الخانية، ولو أكره على بيع جارية ولم يعين فباع من إنسان كان فاسدا.

محمد نعمان خالد

دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی

29/جمادی الاخرى 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب