| 86165 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
میرا نام سلمان عبدالرؤف ہے، میں اس وقت کچھ ماہ کیلئے آسٹریلیا میں مقیم ہوں اور پاکستان میں میرا تعلق لاہور سے ہے،مگر میری پیدائش،رہائش اور میری فیملی کویت میں ہے۔
میرا مسئلہ خلع اور طلاق سے متعلق ہے،میرا نكاح فروری 2024 میں ہوا تھا اور پھر نکاح کے بعد میں بغیر رخصتی لئے واپس کویت آگیا تھا،بات کو سوال کی جانب لےکر چلتے ہوئے بتاتا چلوں کہ:
جب میں آسٹریلیا آگیا تو میری بیوی نے عدالت میں خلع کا کیس دائر کردیا،جس کا وہ پہلے اکثر ہر لڑائی جھگڑے میں ذکر کرتی تھیں،میرے سمجھانے کے باوجود وہ باز نہیں آئی اور پھر میں نے اجازت دی ہوئی تھی کہ اگر آپ کو نہیں رہنا تو آپ خلع لے لیں،لیکن نوٹس لازمی بھجوا دیئے گا، مگر میں طلاق ہرگز نہیں دے رہا،نہ دوں گا،جس کے باعث انہوں نے 13 ستمبر کو مجھے اور میری فیملی کو بتائے بغیر عدالت میں خلع کا کیس دائر کردیا اور سب رابطے ختم کر دیئے اور دو ماہ بعد مجھے خلع کی عدالتی فیصلے کی کاپی واٹس ایپ پر بھیج دی،جب میں نے خلع کے فیصلے کو تفصیلا پڑھا تو ٪99 جھوٹ پر مبنی تھا، میرا پتہ، میرا فون نمبر،میرے پر الزامات،سب غلط اور اس پر دستخط بھی میری بیوی کے نہیں اورفیصلے میں یہ لکھا گیا کہ شوہر کی غیر حاضری کی وجہ سے عدالت نے خلع کا یکطرفہ فیصلہ دے دیا،جبکہ مجھے کسی بات کا علم بھی نہیں،نہ کوئی نوٹس موصول ہوا،اگرچہ انہیں میں نے خلع کی اجازت دی ہوئی تھی،مگر غیر قانونی، غیر شرعی، غیر اخلاقی طریقے کی اجازت نہیں دی تھی اور نہ ہی مجھے پتہ تھا کہ یہ لوگ اس طرح خلع لیں گے،جبکہ میں نے نوٹس بھجوانے کیلئے انہیں اپنا ایڈریس،اپنے ایکٹیو نمبرز بھی دیئے ہوئے تھے اور میرا اس خلع کی اجازت کا مقصد یہ تھا کہ اگر معاملات بہتر نا ہوئے تو میں خود یا میرا وکیل خلع کی قبولیت پر جج کے سامنے دستخط کردیں گے اور جہاں تک مجھے علم ہے اصل طریقہ کار بھی یہی ہے۔
اس طرح کا عدالتی خلع لیکر کیا عورت دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے؟ دوسری جگہ شادی کیلئے اپنے آپ کو آزاد کہلاسکتی ہے؟اور اسی فیصلے کو برحق کہہ کر اگر نکاح کرلے تو ایسے نکاح پر کیا احکامات ہوں گے؟
اب اس خلع کے بعد میرے نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا واقعی خلع واقع ہو چکی ہے؟ کیا وہ اب میرے نکاح سے خارج ہے؟ کچھ وکلاء سے بات کی تو ان کا کہنا ہے کہ تب تک خلع قائم نہیں ہوتی جب تک یونین کونسل سے خلع کا سرٹیفیکیٹ نہیں آجاتا جو کہ عدالت کے فیصلے کے تین ماہ بعد آتا ہے،اب آپ سے اس خلع کے متعلق تحریری فتوی کی درخواست ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خلع کے لیے شوہر کی رضامندی ضروری ہے،شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت کی طرف سے جاری کیا گیا یکطرفہ فیصلہ شرعا نافذ نہیں ہوتا اور بیوی بدستور سابقہ شوہر کے نکاح میں رہتی ہے،جبکہ شوہر کی رضامندی کے بغیر فسخِ نکاح کا اختیار جج کو صرف درج ذیل صورتوں میں حاصل ہوتا ہے:
ا۔شوہر نامرد ہو۔
۲۔ متعنت ہو یعنی نان نفقہ نہ دیتا ہواور نہ طلاق دیتا ہو۔
۳۔مفقود یعنی ایسا لاپتہ ہو کہ اس کا کوئی حال احوال معلوم نہ ہو۔
۴۔غائب غیر مفقود ہو یعنی پتہ معلوم ہو،لیکن نہ خود بیوی کے پاس آتا ہو اور نہ بیوی کو اپنے پاس بلاتا ہواور نہ اسے نان نفقہ فراہم کرتا ہو۔
۵۔ایسا پاگل ہویا ایسا تشدد کرتا ہو کہ اس کے ساتھ رہنے میں ناقابل برداشت تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
ان کے علاوہ محض عورت کی ناپسندیدگی کی بناء پر جج کو فسخِ نکاح کا اختیار حاصل نہیں ہوتا،نیزفسخ نکاح کی ان وجوہات میں سے ہر ایک وجہ کی الگ الگ تفصیلی شرائط ہیں، نکاح فسخ کرتے وقت ان کی رعایت رکھنا لازم ہے،اگر ان میں سے کسی شرط کی رعایت نہ رکھی جائے تو فسخ نکاح کا فیصلہ شرعا نافذ نہیں ہوتا۔(فقہی مقالات:2/ 192)
اورعورت مذکورہ بالا وجوہ میں سے جس وجہ کی بنیاد پر بھی فسخِ نکاح کا دعوی دائرکرے اسے اپنے دعوی کو شرعی شہادت(کم از کم دو نیک و صالح مردوں یا انہیں صفات کی حامل دوعورتوں اور ایک مرد کی گواہی)سے ثابت بھی کرنا پڑے گا،شرعی شہادت کے بغیر محض عورت کے دعوی کی بنیاد پر عدالت کو فسخ نکاح کا حق حاصل نہیں ہوگا۔چونکہ مذکورہ صورت میں اس عورت نے اپنے دعوی کو گواہوں کے ذریعے ثابت نہیں کیا،بلکہ عدالت نے محض اس کے دعوی کی بناء پر فسخ نکاح کی ڈگری جاری کی ہے،اس لئے عدالت کی جانب سے جاری کی گئی ڈگری شرعا معتبر نہیں ہے اور جب تک اس خاتون کا شوہر اسے طلاق یا خلع نہ دے وہ اس کے نکاح میں رہے گی۔
لہذا اگر سوال میں ذکر کی گئی تفصیل حقیقت پر مبنی ہے کہ شوہر ضابطے اور دستور کے مطابق بیوی کے تمام حقوق کی رعایت رکھ کر اسےساتھ رکھنے پر آمادہ ہے،عورت نے بغیر کسی معقول وجہ کے عدالت سے رجوع کیا ہے اور عدالت نے محض اس کے دعوی کے بناء پر یکطرفہ طور پر خلع کی ڈگری جاری کی ہے تو یہ ڈگری شرعا معتبر نہیں ہے۔
نیزاس اقدام پر بیوی گناہ گار بھی ہوگی،کیونکہ احادیث مبارکہ میں بلاضرورت اس طرح طلاق کے مطالبے پرسخت وعیدیں آئی ہیں،چنانچہ ایسی عورتوں کو منافق قرار دیا گیا ہے اور ایک روایت میں آتا ہے کہ جس عورت نے بغیر کسی وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق مانگی اس پرجنت کی خوشبو بھی حرام ہوگی۔
حوالہ جات
"المبسوط للسرخسي" (6/ 173):
"والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد".
"سنن الترمذي " (3/ 485):
"عن ثوبان، أن رسول ﷲ صلى ﷲ عليه وسلم قال: «أيما امرأة سألت زوجها طلاقا من غير بأس فحرام عليها رائحة الجنة»: «هذا حديث حسن»".
"سنن الترمذي " (3/ 484):
"عن ثوبان، عن النبي صلى ﷲ عليه وسلم قال: «المختلعات هن المنافقات»".
"مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح" (5/ 2136):
"(عن ثوبان قال: قال رسولﷲ - صلى ﷲ عليه وسلم - أيما امرأة سألت زوجها طلاقا) وفي رواية: الطلاق أي لها أو لغيرها (في غير ما بأس) وفي رواية :من بأس أي لغير شدة، تلجئها إلى سؤال المفارقة، و"ما" زائدة للتأكيد (فحرام عليها رائحة الجنة) : أي: ممنوع عنها.
وذلك على نهج الوعيد والمبالغة في التهديد، أو وقوع ذلك متعلق بوقت دون وقت أي لا تجد رائحة الجنة أول ما وجدها المحسنون، أو لا تجد أصلا، وهنا من المبالغة في التهديد، ونظير ذلك كثير قاله القاضي، ولا بدع أنها تحرم لذة الرائحة ولو دخلت الجنة. (رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي) : وكذا ابن حبان والحاكم".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
05/رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


