| 86211 | روزے کا بیان | اعتکاف کا بیان |
سوال
السلام علیکم! کچھ دنوں پہلے ایک گروپ میں بتایا گیا کہ روزے کی حالت میں استنجا ءکرتے ہوئے شرم گاہ کو انگلی سے صاف نہیں کرنا ،ورنہ روزہ ٹوٹ جائےگا، کیونکہ میری عادت ہےکہ میں اندر تک صفائی کرتی ہوں۔ اکثر وہاں رطوبت ہوتی ہے تو اس کو جب تک پورا صاف نہ کرلوں تو میں سمجھتی ہوں کہ میرا وضو نہیں ہوگا اور اسی طریقہ سے رمضان میں بھی استنجا کرتی ہوں تو کیا میرے پچھلے اٹھارہ سالوں کے روزے نہیں ہوئے،وہ دوبارہ رکھنے پڑیں گے ؟ کیا روزہ کی حالت میں مکمل صفائی نہیں کرنی چاہیے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
رطوبت کے ازالے تک شرم گاہ کو انگلی سےصاف کرنےمیں حرج نہیں اور نہ ہی اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے۔تاہم استنجا ء میں بہت زیادہ غلو کرنا مناسب نہیں۔صرف ظاہری حصے کی صفائی کافی ہے۔آپ کے گزشتہ روزے درست ہو گئے ہیں،شک و شبہ کی وجہ سے دہرانا ضروری نہیں۔
حوالہ جات
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى : (قوله: ولو مبتلة فسد) لبقاء شيء من البلة في الداخل وهذا لو أدخل الأصبع إلى موضع المحقنة كما يعلم مما بعده قال ط ومحله إذا كان ذاكرا للصوم وإلا فلا فساد كما في الهندية. (رد المحتار : 397/2 )
في الهندية: ولو أدخل أصبعه في استه أو المرأة في فرجها لا يفسد، وهو المختار إلا إذا كانت مبتلة بالماء أو الدهن فحينئذ يفسد لوصول الماء أو الدهن… هذا إذا كان ذاكرا للصوم، وهذا تنبيه حسن يجب أن يحفظ؛ لأن الصوم إنما يفسد في جميع الفصول إذا كان ذاكرا للصوم، وإلا فلا. (الفتاوى الهندية: 1/204)
واجد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
07/رجب المرجب6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | واجد علی بن عنایت اللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


