03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فلاحی ادارے کے چندے سے تنخواہ کا انتظام کرنا
86267وقف کے مسائلوقف کے متفرّق مسائل

سوال

میں ایک فلاحی ادارہ چلا رہا ہوں جس میں مستحق افراد کی مدد کے لیے مختلف منصوبے کیے جاتے ہیں، جیسے ہینڈ پمپ، راشن کی تقسیم، وہیل چیئرز فراہم کرنا، وغیرہ۔ زیادہ تر ڈونرز اپنی زکوة یا صدقات کسی مخصوص مقصد کے لیے دیتے ہیں اور ہمیں ان ہی مقاصد کے تحت ان کی رقم استعمال کرنی پڑتی ہے۔ میری اپنی اور ٹیم کے ایک ہیلپر کی ضروریات بھی ہیں، لیکن ڈونرز کی طرف سے ہمیں انتظامی اخراجات یا تنخواہوں کے لیے کوئی مخصوص مدد نہیں ملتی۔ میں نے علماء سے معلوم کیا تھا تو انہوں نے کہا کہ نفل صدقات سے تنخواہ لینا جائز ہے، لیکن ایسا کوئی مستقل بندوبست نہیں ہے۔ اس صورت میں، کیا یہ جائز ہوگا کہ کسی پراجیکٹ (مثلاً ہینڈ پمپ، راشن، یا وہیل چیئر) کے لیے ہم ڈونرز کو کل اخراجات میں تھوڑا اضافہ کرکے بتائیں اور اضافی رقم تنظیم کے انتظامی اخراجات یا تنخواہوں کے لیے استعمال کریں؟  اگر یہ طریقہ جائز نہیں ہے تو انتظامی اخراجات اور تنخواہوں کا بندوبست کس طرح کیا جائے تاکہ شرعی اصولوں کی خلاف ورزی نہ ہو؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی فلاحی ادارے کے  نظم ونسق سنبھالنے کے عوض عمومی چندہ سے تنخواہ مقرر کرنا جائز نہیں ،کیوں کہ اگر چندہ میں زکوٰۃ  اور صدقاتِ واجبہ (فطرہ، کفارہ، فدیہ اور منت وغیرہ) کی رقم ہو تو  زکوٰۃ اور صدقات ِ واجبہ بغیر عوض  مستحق کو  مالک بناکر دینا ضروری ہوتا ہے ، جب کہ تنخواہ محنت کا عوض ہے ، اس لیے  زکوٰۃ وغیرہ سے اپنی یا ملازمین کی تنخواہ نکالنا جائز نہیں ، اور اگر چندہ میں نفلی صدقات وعطیات ہوں،اور یہ رقم لوگوں نے ویلفیئر  کو فقراء اور مساکین پر خرچ کرنے کے لیے دی ہوتو اس میں سے بھی تنخواہ دینا جائز نہیں  ۔

البتہ اگر نفلی صدقات اور عطیات کا چندہ کرتے ہوئے  ویلفیئر اور اس کی جملہ ضروریات کو بھی مصارف میں بتایا جائے  کہ اس سے ویلفیئر کی جملہ ضروریات  بشمول ملازمین کی تنخواہیں وغیرہ پوری کی جائیں گی یا ملازمین کی تنخواہوں کے لیے الگ سے  چندہ کیا جائے تو  ان صورتوں میں سائل کے لیے  مذکورہ ویلفیئر میں اپنی خدمات  سرانجام دینے کے عوض   ضابطہ اور عرف کے مطابق تنخواہ وصول کرنا جائز ہوگا ۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 356): ‌ولو ‌دفعها ‌المعلم ‌لخليفته ‌إن ‌كان ‌بحيث ‌يعمل له لو لم يعطه وإلا لا

(قوله: وإلا لا) أي؛ لأن المدفوع يكون بمنزلة العوض.

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

07/رجب /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب