| 86260 | نماز کا بیان | اذان و اقامت کے مسائل |
سوال
ہماری مسجد کا متولّی اکثر عین نماز کے وقت مسجد آتا ہے۔ ہماری مسجد کافی بڑی ہے ، متولّی مسجد میں داخل ہونے کے بعد دروازہ سےاقّامت پڑھنا شروع کردیتا ہے ،پہلی صف میں پہنچ کراقامت ختم کرتا ہے ۔کیا اس طرح چلتے چلتے اقامت پڑھنا جائز ہے؟
وضاحت: سائل نے استفسار پر بتایا کہ مسجد کا کوئی خاص مؤذن متعین نہیں ہے ۔مختلف حضرات مختلف اوقات میں اذان اور اقامت کہہ دیتے ہیں ۔ مسجد کافی بڑی ہے اور متولی صاحب مسجد کے دروازہ میں داخل ہوتے ہوئے اقامت کہتے ہیں ، پوری مسجد میں آواز بہرحال آتی ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں مذکورہ طریقے کے مطابق اقامت کہنے سے اقامت ادا ہوجائے گی، اس لیے کہ شریعتِ مطہرہ نے اقامت کہنے والے شخص کے لیے امام کی طرح کوئی خاص جگہ مقرر نہیں کی ، البتہ بہتر یہ ہے کہ اقامت کہنے والا شخص بروقت مسجد میں آئے ، اور سکون سے امام کے پیچھے کھڑا ہو کر اقامت کہے ۔
حوالہ جات
الفتاوی الھندیۃ(1/89): وینبغی ان یکون بحذاء الامام من ھو افضل کذا فی شرح الطحاوی.
منیب الرحمنٰ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
07/رجب /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | منیب الرحمن ولد عبد المالک | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


