03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
’ مرحا‘ نام رکھنا
86278جائز و ناجائزامور کا بیانبچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل

سوال

السلام علیکم جناب میں نے اپنی بیٹی کا نام (مرحا) رکھا کچھ لوگ بولتے ہیں وہ ٹھیک نہیں کیا رہنمائی چاہتا ہوں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 لفظ "مرحا" اردو زبان میں استعمال نہیں ہوتا، اور عربی زبان میں اس کے دو معنی ہیں:

(1)’ر ح ی‘  مادے سے : چکی کا محور ۔

(2)’م ر ح ‘  مادے سے :  حد سے زیادہ خوشی کا اظہار یا عجب پسندی ، غرور، تکبر، اترانا

یہ لفظ اگرچہ قرآن میں آیا ہے مگر ان معانی کے پیش نظر "مرحا" نام رکھنا مناسب نہیں، کیونکہ اس کے مفہوم اچھے نہیں ہیں۔ بہتر ہے کہ بچی کا نام صحابیات رضی اللہ عنہن، نیک خواتین، یا اچھے معنی رکھنے والے عربی ناموں میں سے رکھا جائے۔

چند صحابیات کے نام درج ذیل ہیں :

 خدیجہ، عائشہ، صفیہ، خنساء، حفصہ، میمونہ، زینب، رقیہ، سمیہ،کلثوم،فاطمہ،ام اَیمن، ام سُلَیم، اسماء، جُوَیریہ،بریرة

نیز واضح رہے کہ حضور ﷺ نے اچھے ناموں  (یعنی جن کا معنی اچھا ہو ) کے رکھنے کا حکم دیا ہے اور آپ ﷺ کی عادت شریفہ تھی کہ ایسے نام جن کے معنی غیر مناسب ہوتے تھے، وہ آپ ﷺ بدل دیا کرتے تھے۔

حوالہ جات

‌‌ وفی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح(رقم الحدیث :(4753وعن سمرة بن جندب رضي اللہ عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا تسمين غلامك يسارا، ولا رباحا، ولا نجيحا، ولا أفلح، فإنك تقول: أثم هو؟ فلا يكون، فيقول لا ". رواه مسلم.( مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: (2997/ 7

 وفی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح(رقم الحدیث :(4768وعن أبي الدرداء رضي اللہ عنه قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: " تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم" رواه أحمد، وأبو داود. ( مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: (3004/ 7

مرح: (مرح، كفرح: أشر وبطر) ، والثلاثة ألفاظ مترادفة، ومنه قوله تعالى: {بما كنتم تفرحون فى الارض بغير الحق وبما كنتم تمرحون} (غافر: 75) وفي المفردات: المرح: شدة الفرح والتوسع فيه. مرح (: اختال) ، ومنه قوله تعالى: {ولا تمش فى الارض مرحا} (الإسراء: 37) أي متبخترا مختالا.(و) مرح مرحا: (نشط) . في (الصحاح) و (المصباح) : المرح: شدة الفرح، والنشاط حتى يجاوز قدره، (و) مرح مرحا، إذا خف، قاله ابن الأثير. وأمرحه غيره. (والاسم) مراح، (ككتاب، وهو مرح) ، ككتف (ومريح، كسكين، من) قوم (مرحى ومراحى) ، كلاهما جمع مرح، (ومريحين) ، جمع مريح، ولا يكسر.(وفرس ممرح وممراح) بكسرهما (ومروح) ، كصبور: نشيط، (و) قد (أمرحه الكلأ) ، وناقة ممراح ومروح. (  تاج العروس من جواهر القاموس: (113/ 7

حماد الرحمن بن سیف الرحمن

 دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

۰۸  رجب۱۴۴۶ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حماد الرحمن بن سیف الرحمن

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب