03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایامِ حیض  اور ایامِ طہر میں فرق کرنےکا طریقہ اور  استحاضہ     کا حکم
86329پاکی کے مسائلحیض،نفاس اور استحاضہ کا بیان

سوال

پاکی ا ور  ناپاکی سے متعلق حکم شرعی معلوم کرنا ہے،صورت حال یہ کہ گزشتہ دو تین سال سے ایام حیض اس طرح شروع ہوتے ہیں کہ اول اول سفید مادے میں ایک دو دفعہ سرخی نظر آتی ہے، پھر اس کے بعد پانچ چھ نمازوں کے بعد سرخ رنگ کا خون نظر آنا شروع ہوجاتا ہے،پھر ایام کا اختتام اس طرح ہوتا ہے کہ سرخ رنگ تقریبا سات دن تک دِکھتا ہے، پھر دھیرے دھیرے وہ سرخی زردی ،اس کے بعد زردی مائل اورپھر گدلے رنگ میں تبدیل ہوجاتی ہے ، پھر سفید رنگ تقریباً ایک ہفتہ  جاری رہتا ہے،بالکل ٹھیک ٹھیک یاد نہیں ہے۔

جولائی، اگست اور ستمبر میں سفید سیلان رحم کے بعد سرخ رنگ ان مہینوں کی 18 تاریخ  کو نظر آیا ، اکتوبر میں سولہ تاریخ کو،اور نومبر میں 13تاریخ کی مغرب میں سرخ رنگ آنا شروع ہوا اور 19 تاریخ کی عصر تک سرخ رنگ ہی آیا، پھر 25 نومبر تک سرخی سے سرخی مائل ،زرداور پھر گدلا رنگ  آیا، اس کے بعد 25 کو سفید ہو گیا، پھر 28 نومبر کو دو مرتبہ سرخ رنگ کی دھاری نظر آئی پھر سفید سیلان رحم شروع ہو گیا جو کہ 10 دسمبر کی مغرب تک جاری رہا ،پھر مغرب کے بعد سرخ رنگ کی دھاری نظر آئی اور پھر اگلے دن سے خون کا جریان شروع ہو گیا ۔براہ کرم رہنمائی فرمائیں کہ اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟ایام حیض اور ایام طہر کا اندازہ کس طرح سے  لگایا جائے گا؟

                                                                                                                                      

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ایام حیض اور ایامِ طہر میں فرق کرنے  کا طریقہ یہ ہے کہ چند بنیادی باتوں کواچھی طرح سمجھ لیا جائےتو ان کے ذریعےسے یہ فرق  کیا جاسکتا ہے،نیز اس  کے علاوہ کچھ تفصیل کے ساتھ تسہیلِ بہشتی زیور(مطبوعہ: مکتبہ الحجاز کراچی)  سے بھی حیض کے  مسائل کو ایک بار سمجھ لیا جائے اور بوقتِ ضرورت کسی   بھی مستنددارالافتاء سے حکم معلوم کر لیا جائے، وہ چند    باتیں درج ذیل ہیں:

1-عورت کو ہر مہینے کسی بیماری کے بغیر معمول کے مطابق آنے والا خون چاہے سرخ ،سرخی مائل، زرد، سبز،گدلا،خاکی یا سیاہ جس رنگ کا بھی ہو تو خالص سفید رنگ کے علاوہ یہ سب حیض کہلاتا ہے،البتہ پچپن سال کے بعدسرخ یا سیاہ کے علاوہ  زرد،سبزیاخاکی رنگ میں آئے اور اس سے پہلے اس رنگ میں خون نہ آتا ہو تو یہ استحاضہ  شمار ہوتا ہے،اور اگراس سے  پہلے بھی ان رنگوں میں  خون آتاہوتو پھر یہ بھی حیض کی مدت  میں حیض ہی  شمار ہوگا۔

2-  حیض کی مدت کم از کم تین دن تین رات ہےاور زیادہ سے زیادہ مدت دس دن دس رات ہے،جبکہ تین دن  

رات سےذرا  کم وقت اور دس دن رات سے ذرا زیادہ  وقت  تک خون آئے تو وہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ یعنی بیماری کا خون ہوتا ہے،جیسے جمعہ کو سورج نکلتے وقت خون آیااور پیر کے دن سورج  نکلنے سے ذرا پہلےبند ہوگیا تو یہ  حیض نہیں بلکہ  استحاضہ ہے۔

 3- اگر   ہر مہینے  دس  سے کم مگر متعین دن حیض  کی عادت ہواورپھر کسی  مہینے میں عادت سے زیادہ دن خون آئے تو اگر دس  یا اس سے کم دنوں  میں خون بند ہو جائے تو  یہ تمام دن  حیض  کے شمار ہوں  گے،اور اس کو یوں سمجھا جائے گا کہ عادت تبدیل ہوگئی ہے،اور اگر یہ دس دنوں  سے  بھی بڑھ  جائے  توپھر   عادت کے علاوہ یہ  تمام دن استحاضہ کے شمار ہوں گے۔

4-اگر ہر مہینے دس دن  سے کم مگرمتعین  دن  حیض  کی عادت نہ  ہو،بلکہ کبھی چار دن اور کبھی سات دن وغیرہ کے حساب سے عادت ہر ماہ بدلتی رہتی ہو تو ہر ماہ اتنے دن  حیض  کے شمار ہوں گے،اور اگر ایسی عورت کو  کبھی دس سے زیادہ دن خون آئے تو اس سے پہلے والے مہینے میں جتنے دن حیض آیا ہو،اتنے دن حیض کے شمار ہوں گےاور باقی دن استحاضہ کے  ہوں گے۔

5-شرعی طور پر دو حیض کے درمیان طہرِ کامل یعنی  پاک رہنے کی کم سے کم مدت  پندرہ دن ہے،جبکہ  زیادہ سے زیادہ  ایام ِطہر کی کوئی حد نہیں  ہے ،چنانچہ اگر ایک یا کئی دن خون آئےاور پھر پندرہ سے کم دن خون بند رہےتو ان دنوں کا کوئی اعتبار نہیں ،بلکہ یہ سمجھا جائے گا کہ گویا اول سے آخر تک برابر خون جاری رہا،لہٰذا جتنے دن حیض آنے کی عادت ہواتنے دن حیض کے شمار ہوں گے اور باقی استحاضہ کے ہوں گے۔

استحاضہ  کی حالت میں حکم یہ ہے کہ جب اس کا استحاضہ ہونا یقینی  طور پرمعلوم ہوتو  نماز ،روزہ ،تلاوت اور قربت غرضیکہ پاکی والے تمام اعمال  جائز ہوں  گے، اگر خون اتنے وقفے سے نکلتاہو کہ کپڑے پاک کرکے باوضو وقتی فرض نماز ادا کرنا ممکن ہو تو بھی کپڑے پاک کرکے با وضو  نماز ادا کرنا ضروری ہوگا، اور اگر خون مسلسل جاری ہو تو ہر نماز کے وقت میں نیا وضو کرناہوگا، پھر اس وضو سے وقت کے اندر جتنی فرض یا نفل نمازیں چاہیں  ادا کرسکتی  ہیں،اور اگر   حیض کی عادت اور آخری مدت  کے بعد خون جاری رہنے کی صورت میں استحاضہ ہوتو حیض کے دنوں کاحساب کرکےغسلِ حیض کے بعد نمازیں  اور دیگر پاکی والے اعمال جائز ہوں گے ،جبکہ  جونمازیں  استحاضہ کے دنوں  میں حیض کا گمان   نہ ہونے کی بناء پر فوت ہوئی ہوں ،ان کی قضاء  لازم ہوگی۔ نیز جب شروع میں کچھ دن خالص سفید مادہ  نکلے تو اس سے بھی کپڑے پاک کرکے ان دنوں میں باوضو  نماز وغیرہ اعمال  سرانجام دیے جائیں اور جب حیض کے ختم ہونے پر ایسا ہوتو پھر غسل کے بعد اعمال بجا لائیں ۔

اب ان بنیادی باتوں کی روشنی میں سوال میں مذکورصورتوں   کا حکم یوں معلوم کیا جائے گاکہ  جن دنوں  خالص سفید رنگ کے بعد سرخ دھاری اور سرخ مائل وغیرہ  جس رنگ میں  بھی  تین دن رات اور اس سے زیادہ خون آتا رہا،تو اگر یہ سابقہ  عادتِ حیض کے بعد مگردس دن سے پہلے پندرہ یا اس سے زیادہ دن تک  بند ہوگیا یاصرف خالص سفید مادہ آتا رہا تویہ تمام دن حیض کے ہوں گے،البتہ خون بند ہونے اور سفیدی کے تمام دنوں کی نمازیں لوٹانا واجب ہے،اور جن دنوں سابقہ عادت اور دس دنوں سے بھی زیادہ دن بغیر پندرہ دن کے وقفےیا صرف خالص سفیدی  کے یہ خون آتا رہاتو سابقہ عادت تک حیض کے ایام  ہیں،  اور باقی تمام دن استحاضہ کے  ہیں جن میں فوت ہونے والی نمازوں   کی قضاء واجب ہے، جیسے آخری صورت کہ نومبر میں 13 تاریخ کی مغرب کو سرخ رنگ آنا شروع ہوا اور 28 نومبر تک کامل طہر یعنی پندرہ دن کے وقفے کے بغیر مختلف رنگوں میں آتا رہا،پھر 28نومبر سے 10 دسمبر تک سفید سیلان رحم بھی کامل طہر سے کم مدت تک آیا اور پھر خون جاری ہوگیا،توان  تمام دنوں کو بھی خون جاری رہنے کے دن سمجھا جائےگا،لہٰذا   اگر اس سے پہلے مہینوں  کی عادت مقرر ہےتو اتنے دن حیض کےہیں،اوراگر عادت مقرر  نہیں   تو  دس دن حیض کے  ہیں اور باقی  سب استحاضہ کے ہیں، لہذا ایامِ حیض کےعلاوہ تمام دنوں کی نمازیں لوٹائی جائیں۔

اسی طرح آئندہ بھی جب مسلل پندرہ دن تک خون بند نہ ہو یا خالص سفیدی پندرہ دن  سے کم آکر خون جاری ہوجائے تو یہ دن خون جاری رہنے کے شمار ہوں گے،لہذا  سابقہ عادت تک حیض کے دن اور عادت مقرر نہ ہوتو دس دن حیض کے  اور   باقی دن استحاضہ کے شمارہوں  گے،البتہ جب کچھ دن خالص سفیدی  کے بعد خون آنا بند ہوجائےاور یہ سفیدی اور خون بند ہونے کے دن پندرہ یا زیادہ ہوں تو ان کو پاکی کے دن شمارکیا جائے گااوران دنوں کی نمازیں بھی لوٹانا واجب ہوگا۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 32-34):

أقل الحيض ثلاثة ايام ولياليها،وما نقص من ذلك فهو استحاضة ؛لقوله ﷺ :" أقل الحيض للجارية البكر والثيب ثلاثة أيام ولياليها وأكثره عشرة أيام "...ثم الزائد والناقص استحاضة ؛لأن تقدير الشرع يمنع إلحاق غيره به ، وما تراه المرأة من الحمرة والصفرة والكدرة في أيام الحيض حيض حتى ترى البياض خالصا...وأما الخضرة فالصحيح أن المرأة إذا كانت من ذوات الأقراء تكون حيضا و يحمل على فساد الغداء،وإن كانت كبيرة لا ترى غير الخضرة تحمل على فساد المنبت فلا تكون حيضا...قال: والطهر إذا تخلل بين الدمين في مدة الحيض فهو كالدم المتوالي... وأقل الطهر خمسة عشر يوما  . . . ولا غاية لأكثره  ؛لأنه يمتد إلى سنة وسنتين فلا يتقدر بتقدير، إلا إذا استمر بها الدم فاحتيج إلى نصب العادة...ودم الاستحاضة كالرعاف الدائم لا يمنع الصوم و لا الصلاة ولا الوطء؛  لقوله ﷺ :" توضئي وصلي وإن قطر الدم على الحصير " .وإذا عرف حكم الصلاة ثبت حكم الصوم والوطء بنتيجة الإجماع، ولو زاد الدم على عشرة أيام ولها عادة معروفة دونها ردت إلى أيام عادتها ،والذي زاد استحاضة؛لقوله ﷺ: "المستحاضة تدع الصلاة أيام أقرائها". ولأن الزائد على العادة يجانس ما زاد على العشرة فيلحق به، و إن ابتدأت مع البلوغ مستحاضة فحيضها عشرة أيام من كل شهر والباقي استحاضة ؛لأنا عرفناه حيضا فلا يخرج عنه بالشك...والمستحاضة ومن به سلس البول والرعاف الدائم والجرح الذي لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة ،فيصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاؤا من الفرائض والنوافل.

 محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

  دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

    8/رجب/1446ھ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب