| 86282 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
ہمارے علاقے میں یہ طریقہ کار ہے کہ نکاح سے پہلے اسٹامپ پیپر پر حق مہر زیادہ مثلاً تیس تولہ لکھ دیا جاتا ہے اور نکاح کے دوران چھ سات تولہ مقرر کردی جاتی ہے۔ ان دونوں میں سےکونسی مقدار حق مہرہوگی اسٹامپ پیپر والی یا نکاح کے دوران جو بیان کی جاتی ہے ؟
سائل سے تنقیح کے بعد یہ امور واضح ہوئے:
- اسٹامپ پیپر پر "حق مہر" کے لفظ کے ساتھ مقدار لکھی جاتی ہے ۔
- اسٹامپ پیپر پرمہر کی مقدار زیادہ لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر طلاق ہوگئی توا سٹامپ پیپر پرلکھی گئی مقدار لازم ہوگی۔لیکن یہ نہیں لکھا جاتا کہ یہ طلاق کی صورت میں شوہر پر لازم ہوں گے۔طلاق نہ ہونے کی صورت میں وہی مہر سمجھا جائے گا جو عقد نکاح میں بیان کیا جاتا ہے۔
- علاقہ کا عرف یہ ہے کہ مہر کی مقدار وہی معتبرہوتی ہے جو عقد نکاح میں طے ہوتی ہے نہ کہ اسٹامپ پیپر والی۔
- اسٹامپ پیپر ہر نکاح سے پہلے نہیں ہوتا،بلکہ بعض سے پہلے ہوتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت کا اصول ہے کہ مہر نکاح کے وقت لازم ہوتا ہے اس سے پہلے لازم نہیں ہوتا۔لہذا نکاح سے پہلے جب دونوں خاندانوں نے مہر کی مقدار مثلاًتیس تولہ طے کرلی اور اسے اسٹامپ پیپر پر لکھ دیا تو یہ وعدہ مہر متعین ہوا ۔پھرنکاح کے وقت باہمی رضامندی سے جب حق مہر مثلاًچھ تولہ طے کرلیا اور مطالبہ بھی اسی کاکیا گیا تو یہ سمجھا جائے گا کہ دونوں خاندانوں کی باہمی رضامندی سے مہر کی اس مقدار میں کمی کردی گئی ہے جو اسٹامپ پیپر پر لکھی گئی تھی۔لہذا نکاح کے وقت جو مہر کی مقدار بیان کی جائے گی وہی شوہر پرلازم ہوگی اور سابقہ وعدہ مہر بھی بے معنیٰ ہوجائے گا۔لہذا طلاق ہو یا نہ ہو،بہر صورت نکاح کے وقت طے کردہ مہر ہی دینا ضروری ہوگا۔وعدہ مہر میں طے شدہ مہر کا مطالبہ جائز نہ ہوگا۔
تاہم اگر یہ طے کرلیا جائے کہ اسٹامپ پیپر والا اضافی مہر، مہر مؤجل ہوگا جو کہ عند الطلب لازم ہوگا۔نکاح کے وقت جو مقدار دے دی جائے اسے مہر معجل سمجھ لیا جائے تو اس سے طلاق والا تحفظ بھی حاصل ہوسکتا ہے۔ تاہم اس صورت میں بقیہ مہر شوہر پر ادھار رہے گا اور انتقال کی صورت میں بیوی اس کی حق دار ہوگی۔ اگر معاف کردے تو معاف بھی ہوجائے گا۔
حوالہ جات
مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير
للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان َ...وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ.(حاشية ابن عابدين:4/ 61)
والمراد شروط لا تنافي مقتضى عقد النكاح بل تكون من مقاصده كاشتراط العشرة بالمعروف وأن لا يقصر في شيء من حقوقها أما شرط يخالف مقتضاه كشرط أن لا يتسرى عليها ولا يسافر بها فلا يجب الوفاء به بل يلغوا الشرط ويصح النكاح بمهر المثل فهو عام مخصوص لأنه تخرج منه الشروط الفاسدة.
( إرشاد الساري :4/ 437)
عن عبد الرحمن بن غنم قال: شهدت عمر، رضي الله تعالى عنه، قضى في رجل شرط لامرأته دارها، فقال: لها شرطها. فقال رجل: إذا يطلقها؟ فقال: إن مقاطع الحقوق عند الشروط، والمقاطع جمع مقطع، أراد أن المواضع التي تقطع الحقوق فيها عند وجود الشروط، وأراد به الشروط الواجبة فإنها يجب الوفاء بها.واختلف العلماء في الرجل يتزوج المرأة ويشترط لها أن لا يخرجها من دارها أو لا يتزوجا عليها أو لا يتسرى أو نحو ذلك من الشروط المباحة على قولين: أحدهما: أنه يلزمه الوفاء بذلك، ذكر عبد الرزاق وابن عبد المنذر عن عمر بن الخطاب، رضي الله تعالى عنه، أن رجلا شرط لزوجته أن لا يخرجها، فقال عمر: لها شرطها. ثم ذكرا عنه ما ذكره البخاري، وقال عمرو بن العاص: أرى أن يفي لها شروطها، وروي مثلها عن طاووس وجابر بن زيد، وهو قول الأوزاعي وأحمد وإسحاق، وحكاه ابن التين عن ابن مسعود والزهري، واستحسنه بعض المتأخرين. والثاني: أن يؤمر الزوج بتقوى الله والوفاء بالشروط ولا يحكم عليه بذلك حكما، فإن أبى إلا الخروج لها كان أحق الناس بأهله إليه ذهب عطاء والشعبي وسعيد بن المسيب والنخعي والحسن وابن سيرين وربيعة وأبو الزناد وقتادة، وهو قول مالك وأبي حنيفة والليث والثوري والشافعي.(عمدة القاري :20/ 140)
ثم عرف المهر في العناية بأنه: اسم للمال الذي يجب في عقد النكاح على الزوج في مقابلة البضع إما بالتسمية أو بالعقد، واعترض بعدم شموله للواجب بالوطء بشبهة ومن ثم عرفه بعضهم بأنه: اسم لما تستحقه المرأة بعقد النكاح أو الوطء وأجاب في النهر بأن المعروف مهر هو حكم النكاح بالعقد.
(حاشية ابن عابدين:3/ 101)
فالحاصل أن الاعتبار ليوم العقد في حق التسمية وليوم القبض في حق دخوله في ضمانها ...(قوله فإن سماها أو دونها فلها عشرة بالوطء أو بالموت) ؛ لأن بالدخول يتحقق تسليم المبدل وبه يتأكد البدل وبالموت ينتهي النكاح نهايته... فحاصله أن المهر يجب بالعقد ويتأكد بإحدى معان ثلاث .(البحر الرائق:3/ 153)
محمد علی بن محمد عبداللہ
داراالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
10/رجب المرجب1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


