03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قسطوں میں ملنے والے قرض پر زکوۃ
86266زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

میں نے چھ موٹرسائیکل قسطوں پر لوگوں کو دیے ہیں، جن کی کل رقم گیارہ لاکھ ہے۔ کوئی پانچ ہزار، کوئی چھ ہزار، اور کوئی دس ہزار مہینے کے حساب سے قسط دیتا ہے۔ کیا ان پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جو رقم واجب الوصول تجارتی قرض کے طور پر گاہک کے ذمہ لازم ہوتی ہے،دین قوی کہلاتا ہے۔اس قسم کے قرض کا حکم یہ ہے کہ اگر یہ  رقم بذاتِ خود یا دوسرے مال کے ساتھ مل کر نصاب کو پہنچ رہی ہوتواس کی زکوٰۃ دینا واجب ہے، اوروصول ہونے سے پہلے گزرے ہوئے تمام سالوں کی زکوٰۃبھی  فرض ہے۔جس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر آپ پہلے سے صاحبِ نصاب ہیں توجتنی رقم بھی ان اقساط سے وصول ہوتی جائے اس کودیگر اموال کے ساتھ ملا کر ہر سال کی زکوٰۃ  ساتھ ساتھ اداء کرنا ضروری ہے، اگر کسی سال زکوٰۃ کی مقرر تاریخ تک کچھ وصول نہ ہو تو آیندہ سال وصول ہونے والی مقدار کی دو سال کی زکوٰۃ اداء کریں،اور اگر آپ پہلے سےصاحبِ نصاب نہ بھی  ہو توچونکہ یہ قرض بقدرِ نصاب ہے،لہٰذاجب نصاب (35ء612 گرام چاندی کی قیمت)کے پانچویں حصہ(122.35) کے بقدر قرض وصول ہو جائے تو زکوٰۃلازم  ہے  ،اور اگرایک سے زائد سال گزر جائے تو گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ اداء کرنا لازم ہے ۔اگر قرض وصول ہونے سے پہلے زکوٰۃ دی تو بھی حرج نہیں، ا ور آسانی بھی اسی میں ہے۔ نیز اگر قسطوں کی مد میں ملنے والی رقم کی  مکمل وصولیابی  کے بعد زکوۃ ادا کرنی ہو، تو اس کی بھی اجازت ہے۔

حوالہ جات

(الفتاوی الھندیۃ(:1/175):

(ومنها حولان الحول على المال) العبرة في الزكاة للحول القمري كذا في القنية، وإذا كان النصاب كاملا في طرفي الحول فنقصانه فيما بين ذلك لايسقط الزكاة، كذا في الهدايہ.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 305):

اعلم ‌أن ‌الديون ‌عند ‌الإمام ‌ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم.

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 195) :

لأن الديون عندهما على ضربين ديون مطلقة وديون ناقصة والناقص هو بدل الكتابة والدية على العاقلة وما سواهما فديون مطلقة فالحكم فيها أنه تجب الزكاة في الدين المطلق فلا يجب الأداء ما لم يقبض فإذا قبض منها شيئا قل أو كثر يؤدي بقدر ما قبض.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 176):

ويجوز تعجيل الزكاة بعد ملك النصاب، ولا يجوز قبله كذا في الخلاصة.... وكما يجوز التعجيل بعد ملك نصاب واحد عن نصاب واحد يجوز عن نصب كثيرة كذا في فتاوى قاضي خان.... ويجوز التعجيل لأكثر من سنة لوجود السبب كذا في الهداية.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 9):

ومنها الملك المطلق وهو أن يكون مملوكا له رقبة ويدا وهذا قول أصحابنا الثلاثة.... وتجب الزكاة في الدين مع عدم القبض، وتجب في المدفون في البيت فثبت أن الزكاة وظيفة الملك والملك موجود فتجب الزكاة فيه إلا أنه لا يخاطب بالأداء للحال لعجزه عن الأداء لبعد يده عنه وهذا لا ينفي الوجوب كما في ابن السبيل.

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی

10/رجب  6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب